10:01 am
لاک ڈاؤن کے اثرات کے بعد ڈیمنشیا کے ایک تہائی مریض زندگی سے مایوس

لاک ڈاؤن کے اثرات کے بعد ڈیمنشیا کے ایک تہائی مریض زندگی سے مایوس

10:01 am

لاک ڈاؤن کے اثرات کے بعد ڈیمنشیا کے ایک تہائی مریض زندگی سے مایوس
لندن (پی اے) ایک چیرٹی کی ریسرچ کے مطابق لاک ڈاؤن کے اثرات کے بعد ڈیمنشیا کے ایک تہائی مریض ذہنی اورجسمانی طورپر مزید کمزور ہوجانے کے بعد اب اپنی زندگی سے مایوس نظر آتے ہیں جبکہ ان مریضوں کی کم وبیش اتنی ہی تعداد لاک ڈائون کی پابندیاں نرم ہوجانے کے باوجود گھروں سے باہر نکلنے کے حوالے سے پر اعتماد نظر نہیں آتی۔ جون میں کئے گئے سروے کے دوران ڈیمنشیا کے مریضوں اور ان کی دیکھ بھال کرنے والے1,831افراد سے بات چیت کی گئی ،ان میں سے 45فیصد افراد نے بتایا کہ لاک ڈائون کی وجہ سے ان کی ذہنی صحت پہلے سے خراب ہوئی ہے جبکہ سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کی شرط کی وجہ سے 11فیصد افراد اپنے دوستوں سے محروم ہوگئے ہیں، الزائمر سوسائٹی کا کہناہے کہ بلامعاوضہ دیکھ بھال کے فرائض انجام دینے والے 46فیصد افراد نے بتایا کہ ان کے عزیز اب ذہنی دبائو، گھبراہٹ اور ڈپریشن محسوس کررہے ہیں، لاک ڈائون کے دوران چیرٹی کی سپورٹ سروسز سے نصف ملین سے زیادہ مرتبہ رابطہ کیاگیا جبکہ الزائمر سوسائٹی کی ڈیمنشیا سپورٹ لائن کو اس دوران 15,000کالز موصول ہوئیں۔قومی شماریات دفتر کے مطابق ڈیمنشیا اورالزائمر کے امراض کیئر ہومز میں 2مارچ سے 12جون کے دوران ہلاک ہونے والےکم وبیش 20,000افراد کو لاحق عام امراض میں شمار کئے جاتے ہیں۔ چیرٹی کاکہناہے کہ معمول کی زندگی کی معطلی اور ذہنی صحت پر اس کے تباہ کن اثرات کی وجہ سے بڑے پیمانے پر لوگ ہلاک ہوئے جن کی ہلاکت کا اس وائرس سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ رپورٹ کے مطابق اپریل کے دوران انگلینڈ میں ڈیمنشیا کے 83فیصدسے زیادہ مریضوں کی اموات کا سبب معلوم نہیں ہوسکا جبکہ ویلز میں اس طرح کی اموات کی شرح 54فیصد سے زیادہ تھی۔
 
سروے میں یہ بھی انکشاف ہواہے کہ ڈیمنشیا کے مریضوں کو لاک ڈائون سے قبل کے مقابلے میں تفصیلی گفتگو کے کم مواقع میسر آئے۔ ڈیمنشیا کے کم وبیش 30 فیصد مریضوں کو 4۔4 دن تک کسی سے 5 منٹ تک بات کرنے کاموقع بھی نہیں مل سکا، اس طرح تنہا رہنے والوں کی شرح 46 فیصد تک جا پہنچی ،12فی صد افراد نے بتایا کہ وہ ایک ہفتے تک کسی سے 5منٹ سے زیادہ بات چیت نہیں کرسکے۔ کرس میڈ ڈوکس، جنھوں نے 2016میں ڈیمنشیا کی تشخیص کے بعد ملازمت چھوڑ دی تھی، بتایا کہ لاک ڈائون شروع ہونے کے بعد سے وہ اپنی یادداشت جمع کرنےاور اعتماد بحال کرنے کی کوشش کرتی رہی ہیں، سابق پولیس افسر شور شرابے کو پسند نہیں کرتیں اور ساحل پر لوگوں کی جانب سے سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کے اصول کی پامالی پر مضطرب ہوجاتی ہیں۔ ایسٹ بورن سے تعلق رکھنے والی 64 سالہ خاتون نے بتایا کہ مجھے اپنی زندگی کو دوبارہ استوار کرنے میں 4 سال لگے اور اب میں سمجھتی ہوں کہ میری بھی کوئی قدر وقیمت ہے اور پھر جب اچانک آپ کو لاک ڈائون کا سامنا کرنا پڑ جائے تو آپ کو محسوس ہوگا کہ آپ کے پاس تو کچھ بھی نہیں، جس سے آپ کو اپنے بیکار محض ہونے کا احساس ہونے لگتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جب مجھے ڈیمنشیا تشخیص کیاگیا اور مجھے ملازمت ترک کرنا پڑ ی تو مجھے بالکل یہی احساس ہوا تھا۔ انھوں نے کہا کہ اب میں وہی کام کررہی ہوں جو لاک ڈائون سے قبل کیاکرتی تھی۔میں نے خود کو بیکار سمجھنا چھوڑ دیاہے اور اب میں خود کو کارآمد تصور کرتی ہوں اور اب میں ناامید نہیں بلکہ پر امید ہوں اور یہ سب کچھ الزائمر سوسائیٹی کی مدد سے ممکن ہوا۔ انھوں نے بتایا کہ وہ ان کے پارٹنر لاک ڈائون کے دوران آن لائن فوڈ ڈلیوری حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہےاور لاک ڈائون کے صرف 2 ماہ وہ اس میں کامیاب ہوئے کیونکہ ڈیمنشیا کے مریضوں انتہائی حساس گروپ میں شمار نہیں کیا جاتا۔ میڈ ڈوکس نے اسے شرمناک قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ کھانا نہ مل سکنے کی وجہ سے لوگوں کو بسکٹ اور کریکرز پر گزارا کرنا پڑا۔ انھوں نے کہا کہ میرے خیال میں لاک ڈائون کے دوران ڈیمنشیا کے مریضوں کی ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں اور بہت سے لوگ اب باہر نکلنے میں بھی پر اعتماد نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں نے بعض لوگوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ جب تک اس وائرس کی کوئی ویکسین دریافت نہیں ہوجاتی، وہ باہر نہیں جائیں گے۔ انھوں نے جون میں اپنا سرمنڈا کر الزائمر سوسائٹی کیلئے 1,500پونڈ کے عطیات جمع کئے تھے۔کیرن بیٹی جن کے24سالہ شوہر رابرٹ الزائمر کے مریض ہیں، نے بتایا کہ گزشتہ چند ماہ بہت ہی خوفناک گزرے ہیں، کیونکہ اس دوران کے شوہر کی حالت پہلے سے خراب ہوئی، نارتھ ویلز کے علاقے ایبرجیل سے تعلق رکھنے والا یہ جوڑا گھر میں مقید ہے اور فوڈ ڈلیوریز حاصل کررہا ہے لیکن روزانہ باہر نہ نکلنے کی وجہ سے بیٹی کی چہل قدمی میں کمی آرہی ہے۔ الزائمر سوسائٹی کی چیف ایگزیکٹو کیٹ لی کاکہناہے کہ اب جبکہ لاک ڈائون ختم کیا جا رہاہے۔ ڈیمنشیا کے مریضوں پر اس کے اثرات پوری طرح ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ انھوں نے کہا لوگوں کو یہ احساس دلانے کی اس سے قبل اتنی زیادہ ضرورت محسوس نہیں کی گئی کہ کوئی بھی اس بحران کا تنہا مقابلہ نہیں کرے گا۔

تازہ ترین خبریں