03:36 pm
اس ملک کے ساتھ تصادم کامطلب ہے یورپ کے ساتھ جنگ  یہ ہرگز کام نہ کریں ،جرمن چانسلرنے ترک صدر کوخبردارکردیا

اس ملک کے ساتھ تصادم کامطلب ہے یورپ کے ساتھ جنگ  یہ ہرگز کام نہ کریں ،جرمن چانسلرنے ترک صدر کوخبردارکردیا

03:36 pm

برلن (ویب ڈیسک )یونانی میڈیا کے مطابق جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کو باور کرایا ہے کہ یونان اپنے کسی بھی علاقے میں (تیل یا گیس کی دریافت کے لیے) کھدائی کا راستہ روکے گا۔میرکل نے ایردوآن کو بحیرہ روم میں جارحیت کے نتائج سے خبردار کیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایتھنز کے ساتھ کسی بھی مقابلے کی صورت میں یورپ انقرہ کے خلاف کھڑا ہو گا۔جرمنی کے چینل OPEN TV کی ایک رپورٹ کے مطابق یونان اور ترکی کے درمیان صورت حال میں جرمنی نے کردار ادا کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ترکی جانب سے یونان کی سمندری
حدود میں کھدائی کے خصوصی بحری جہاز کو نہ بھیجنے کے فیصلے کا تعلق ،،، جرمن چانسلر انگیلا میرکل اور ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے بیچ رابطے سے ہے۔ رپورٹ کے مطابق میرکل نے ایردوآن کو آگاہ کیا کہ یونان مذاق نہیں کر رہا ہے اور وہ اپنے علاقے میں کسی بھی قسم کی کھدائی کی کارروائی کے سامنے کھڑے ہو جائیں گے۔ میرکل نے ایردوآن کو دھمکی دی کہ ترک صدر کو نہ صرف یونان بلکہ پورے یورپ کے ساتھ مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ میرکل نے ایردوآن کو دو آپشن دیے ہیں۔ پہلی صورت یہ کہ انقرہ یونان کے لیے اشتعال انگیز موقف کو ختم کر کے یورپ کے ساتھ بات چیت کرے .. دوسری صورت یہ کہ انقرہ جرمنی اور یورپ کی جانب سے پابندیوں کا سامنا کرے۔یونان اور ترکی کے درمیان طویل وقت سے متعدد امور کے حوالے سے تناؤ پایا جاتا ہے۔ ان میں دونوں ملکوں کی فضائی حدود اور منقسم قبرص کی سمندری حدود کا معاملہ شامل ہے۔ پی آئی اے نے بقرعید پر کرایوں میں کمی کا اعلان کردیاترکی کی جانب سے یونان کے قریبی حلیف قبرص کے نزدیک قدرتی گیس کی دریافت کے لیے کھدائی کی کوششوں نے کشیدگی کی شدت میں اضافہ کر دیا۔ یونان نے کچھ عرصہ پہلے یورپی یونین کے دو اعلی سطح کے اجلاسوں میں ترکی پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا .. جب کہ قبرص نے زور دیا ہے کہ یورپ کے یکجا موقف کے ذریعے انقرہ کو جواب دیا جائے۔یونان کی حکومت کے سربراہ کیریاکس میٹسوتاکیس نے گذشتہ ہفتے یورپی یونین کے ایک سربراہ اجلاس کے دوران کہا تھا کہ "یورپی یونین کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ ترکی کی جانب سے اتحاد کے دو رکن ممالک کی خود مختاری کی خلاف ورزی پر خاموش رہے"۔ ان کا اشارہ یونان اور قبرص کی جانب تھا۔