11:23 am
گلگت بلتستان اسمبلی مچھلی منڈی بن گئی

گلگت بلتستان اسمبلی مچھلی منڈی بن گئی

11:23 am

گلگت( بیورورپورٹ) گلگت بلتستان اسمبلی مچھلی منڈی بن گئی، خواتین ممبران کی موجودگی میں ممبران اسمبلی کا گالیوں اور غیر پارلیمانی الفاظ کی بوچھاڑ، گھبراہٹ کے عالم میں ایم ڈبلیو ایم کی خاتون رکن بی بی سلیمہ اجلاس چھوڑ کرچلی گئیںجبکہ رانی عتیقہ کا غیر پارلیمانی الفاظ پرشدید احتجاج ، اپوزیشن اور حکومتی ممبران کی ایک دوسرے پر حملہ آور ہونے کی کوشش،اپوزیشن لیڈر،نواز خان ناجی اور جاوید حسین واک آئوٹ
کرکے چلے گئے۔ گلگت بلتستان اسمبلی اجلاس میں اس وقت تلخی آگئی جب قائد حزب اختلاف کیپٹن(ر) محمد شفیع نے قرارداد پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ چیف کورٹ جی بی نے ممبران کی سالانہ ترقیاتی فنڈز کی تقسیم کے حوالے سے تمام منتخب ممبران کے فنڈز میں مساوی حصہ دینے کا حکم دیا ہے جبکہ مخصوص نشستوں پر منتخب اراکین کے فنڈز مختص کرنے کا اختیار ایوان کے سپرد کرتے ہوئے ماضی کے روایات کو مدنظر رکھنے کا بھی حکم دیا گیا ہے لہٰذا اس معاملے پر اسمبلی میں بحث کرائی جائے تاکہ معقول فیصلہ کیا جائے۔ قرارداد پر سپیکر جی بی اسمبلی فدا محمد ناشاد نے کہا کہ چیف کورٹ سے فیصلہ ہونے کے بعد یہ کیس سپریم اپیلٹ کورٹ میں رٹ ہوگیا ہے لہٰذا سپریم اپیلٹ کورٹ کے فیصلے تک ہم اس معاملے کو اسمبلی میں بحث نہیں کراسکتے ہیں جس پر نواز خان ناجی آگ بگولہ ہوگئے ۔پاکستان جام کرنے، اسمبلی پر لعنت کرنے اور حکومت کو دہشتگردقرار دیتے ہوئے اسمبلی اجلاس کے ایجنڈا کاپی کو پھاڑ کر اعلان کیا کہ جب تک اس معاملے پر بحث نہیں کرائی جائے گی ہم ایوان کو چلنے نہیں دیںگے نواز خان ناجی کے غیر پارلیمانی الفاظ پر وزیر جنگلات عمران وکیل بھی کھڑے ہوگئے اور نواز خان ناجی پر حملہ کرنے کے لئے آگے بڑھ گئے اور گالیوں کی بوچھاڑ کردی ۔چور ، ڈاکو اور دہشتگرد کے الفاظ کی آزادانہ استعمال ۔ جس پر اپوزیشن اور حکومت کے دیگر ممبران نے بیچ بچائو کرنے کی کوشش کی ، اسمبلی ہال گالیوں سے گونج اٹھا جس پر ایم ڈبلیو ایم کی خاتون رکن گھبراکر رانی عتیقہ اور نسرین بانو کے پاس چلی گئیں ۔ اس موقع پر سپیکر فدا محمد ناشاد اپوزیشن رکن سکندر علی کو حکم دیتے رہے کہ وہ برقیات ملازمین کے حوالے سے اپنی قرارداد پیش کریں لیکن اپوزیشن لیڈر اور نوازناجی کے شورشرابے کی وجہ سے وہ قرارداد پیش نہیں کرسکے ۔ اپوزیشن ممبر سکندر علی ، حاجی رضوان و دیگر بھی اپوزیشن لیڈر اور ٹیم کو سمجھاتے رہے لیکن انہوں نے ایک نہ مانی ۔اور سکندر علی کو قرار داد پیش کرنے نہیں دی ۔ جس پر سکندر علی اور کیپٹن (ر) شفیع کے درمیان بھی تلخ جملوں کا تبادلہ ہوگیا ، کیپٹن شفیع کے واک آئوٹ پر سکندر علی نے کہا کہ جہاں جانا ہے چلے جائو ہم تمہارے مرضی کے مطابق نہیں چل سکتے ہیں تم نے اسمبلی کو اپنی جاگیر بنائی ہوئی ہے ، محمد شفیع نے کہا کہ ایسی اسمبلی پر ہم لعنت بھیجتے ہیں ۔ اپوزیشن ممبران محمد شفیع، نواز خان ناجی اور جاوید حسین کے واک آئوٹ کرکے چلے جانے کے بعد رانی عتیقہ نے سخت لہجے میں کہا کہ اے ڈی پی کا مسئلہ آج نہیں تو کل حل ہوجائیگا لیکن یہ اخلاقیات کا جو جنازہ نکالا جارہا ہے اس سے قوم کا کونسامفاد منسلک ہے انتہائی افسوس کی بات ہے کہ اپوزیشن بنچوں سے ایک خاتون رکن گھبراہٹ کے عالم میں ہمارے پاس آکر بیٹھی رہی اور باوجود کوشش کرنے کے وہ اسمبلی اجلاس میں مزید رہنے کے لئے قائل نہیں ہوئی ۔ بپھرے اپوزیشن ممبران کے واک آئوٹ کرکے چلے جانے کے بعد اپوزیشن کے دیگر ممبران سمیت تمام ممبران اسمبلی نے اس رویہ کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور سپیکر نے رولنگ دی کہ آئندہ اگر اسمبلی میں کسی نے غلط زبان کا استعمال اور غلط الفاظ کا استعمال کیا تو اس کی اسمبلی رکنیت بھی معطل کرسکتے ہیں اور ہم کرکے دکھائیںگے۔

تازہ ترین خبریں