04:38 pm
جی بی اسمبلی میں خطے کے مفادات کیخلاف قانون سازی نہیں ہونے دینگے(شفیع خان،جاویدحسین)

جی بی اسمبلی میں خطے کے مفادات کیخلاف قانون سازی نہیں ہونے دینگے(شفیع خان،جاویدحسین)

04:38 pm

گلگت (بشارت نامہ نگار خصوصی )قائد حزب اختلاف گلگت بلتستان اسمبلی کیپٹن (ر) محمد شفیع خان چیئرمین سٹینڈنگ کمیٹی محکمہ اطلاعات جاوید حسین اور ممبر اسمبلی نواز خان ناجی نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی میں جی بی کے مفادات کے خلاف کسی بھی قسم کی قانون سازی نہیں ہونے دینگے اگرگلگت بلتستان کے مفادات کے خلاف کسی بھی قسم کی قانون سازی کرنے کی کوشش ہوئی تو ڈٹ جائیں گے اور سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہو جائنگے
ترقیاتی منصوبوں کی مد میں مختص بجٹ اور جنرل اے ڈی پی کو تمام اضلاع میں آبادی کے تناسب سے تقسیم کیا جائے مخصوص اضلاع اور ڈویڑنوں میں اربوں روپے کے منصوبے دئے جارہے ہیں یہ تفریق ہمیں کسی صورت منظور نہیں ہے جمعہ کے روز اپوزیشن لیڈر کے چیمبر میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا اپوزیشن لیڈر محمد شفیع خان نے کہا کہ سپیکر فدا محمد ناشاد اسمبلی کا سربراہ بن کر اسمبلی نہیں چلا رہے ہیں بلکہ حکومت کا ملازم بن کر اسمبلی کو چلانا چاہتے ہیں سپیکر جب اسمبلی کا سربراہ بن کر اسمبلی چلائے گا تب ہم اسمبلی جائنگے جتنا ہم سپیکر کو جتنا احترام دیتے ہیں اس کے بدلے ہمیں ان کا غلام اور تابیدار بچے بنانے کی کوشش کرتے ہیں ہم ان کے غلام اور تابیدار بچے نہیں ہیں بلکہ عوامی نمائندے ہیں ہم عوام کی خدمت اور مسائل کے حل کے لئے اسمبلی میں آئے ہیں ممبر اسمبلی جاوید حسین نے کہا کہ وزیر اعلیٰ حفیظ الرحمان جس طرح عوامی ووٹ سے منتخب ہوئے ہیں اسی طرح ہم بھی عوامی ووٹ سے منتخب ہوئے ہیں اسمبلی کے اندر ہم سب برابر ہیں ریاست پاکستان سے جو پیسہ آرہا ہے وہ کسی مخصوص حلقے یا ڈویڑن کے لئے نہیں آرہا ہے بلکہ پورے جی بی کے لئے آرہا ہے پھر یہ تفریق کیوں ہو رہی ہے اگر یہ روش برقرار رہی تو ہم وزیراعظم سے ملاقات کرکے سارے فنڈز رکوا دیں گے اور اسمبلی کے اجلاس میں سخت لہجہ اپنائیں گے پھر اسمبلی چلتی ہے یا نہیں ہم دیکھ لیں گے ہمیں تو انصاف ہوتا نظر نہیں آرہا ہے عوامی نمائندوں کی نشاندہی کے بغیر سرکاری کلرکوں اور آفسروں کو سکیموں کی منظوری نہیں دینی چاہیے اور تمام ممران اسمبلی کو فنڈز کی تقسیم یقینی بنائی جائے رکن اسمبلی نواز خان ناجی نے کہا گلگت بلتستان ایک پسماندہ علاقہ ہے لہذا ترقیاتی فنڈز آبادی کی بنیاد پر منصفانہ طور پر تقسیم ہونا چاہیے اور سیاچن سے کرگل شندور سے خنجراب تک ایک ہی قانون ہونا چاہیے کوئی تفریق نہیں ہونی چاہیے ایک بیوروکریٹ یا سرکاری آفیسر 10 سے 20 کروڑ کی سکیم اپنی مرضی سے دیتاہے جبکہ ممبران اسمبلی کے لئے 4 سے 6 کروڑ کی سکیمیں دینا کہاں ک انصاف ہے یہیں تفریق جاری رہی تو آئندہ اجلاس میں ہمارا لہجا اس سے بھی سخت ہو گا ہم عوامی مفادات اور مسائل کے حل کے لئے آواز بلند کرتے رہیں گے اپنے ذاتی مفادات کوکبھی ترجیح نہیں دیں گے۔

تازہ ترین خبریں