05:43 pm
سپیشل پروٹیکشن یونٹ کیلئے زمین کی خریداری(رقم ڈپٹی کمشنرکے اکائونٹ میں منتقل،ادائیگی نہ ہونے سے مالکان دربدر)

سپیشل پروٹیکشن یونٹ کیلئے زمین کی خریداری(رقم ڈپٹی کمشنرکے اکائونٹ میں منتقل،ادائیگی نہ ہونے سے مالکان دربدر)

05:43 pm

گلگت( بیورو رپورٹ) ضلعی انتظامیہ گلگت کی انوکھی منطق ، سپیشل پروٹیکشن یونٹ ہیڈ کوارٹر کے قیام کیلئے مناور میں کروڑوں مالیت کی زمین بعد از معاہدہ حاصل کرنے کے رقم جاری کرنے سے گریزاں ، کروڑوں روپے گزشتہ کئی مہینوں سے ڈپٹی کمشنر کے اکائونٹ میں منتقل پڑے ہوئے ہیں ۔ گلگت بلتستان میں پی ایس ڈی پی کے اہم منصوبے سپیشل پروٹیکشن یونٹ کے ہیڈ کوارٹر کے قیام کیلئے 47کنال اراضی درکار تھی
، صوبائی حکومت نے مذکورہ ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے مناور کے مقام پر زمین کی نشاندہی کر لی ، زمین کی نشاندہی کیلئے ہوم سیکریٹری گلگت بلتستان کی سربراہی میں ایک ذیلی کمیٹی قائم کی گئی تھی جس میں ڈی آئی جی پولیس ہیڈ کوارٹر ، چیف انجینئر محکمہ تعمیرات ، ڈپٹی سیکریٹری محکمہ تعمیرات ، محکمہ ترقی و منصوبہ بندی کے ریسرچر شامل تھے جنہوں نے مذکورہ اراضی کا دورہ کیا اور ہوم سیکریٹری نے کمیٹی کے دورے اور کام پر اعتماد کرتے ہوئے چیف سیکریٹری کو تحریری لیٹر لکھ دیا اور مزید کہا کہ کمیٹی کے رپورٹ پر دستخط کرائے جائیں تاکہ جلد از جلد ایس پی یو ہیڈ کوارٹر کا قیام عمل میں لایا جا سکے ۔ مذکورہ ملکیتی زمین کی خریداری کے مرحلے میں وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کی بطور حلقہ ممبر ، سیکریٹری تعمیرات عامہ ، سیکریٹری ترقی و منصوبہ بندی اور ہوم سیکریٹری کے دستخط موجود ہیں ۔ خسرہ نمبر 2055/1بمقام مناور میں مالک زمین اور حکومت کے درمیان مذاکرات کے بعد 9لاکھ روپے فی کنال معاوضہ پر اتفاق پا لیا گیا اسی اثناء میں ضلعی انتظامیہ نے زمین مالک سے اراضی کو اپنے قبضے میں لے لیا ۔ مذکورہ منصوبے کیلئے وفاقی حکومت نے رقم بھی جاری کر دی جس پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر گلگت نے اسسٹنٹ کمشنر گلگت کو لیٹر جاری کیا کہ معاوضہ کی فراہمی کیلئے کاغغذات اور متعلقہ ڈیٹا فراہم کیا جائے تاہم ایک مہینے کے بعد اسسٹنٹ کمشنر گلگت کی جانب سے جوابی لیٹر لکھتے ہوئے ایک نئی کہانی گھڑی گء جس میں لکھا گیا کہ موضع مناور میں زمین کی قیمت آٹھ لاکھ سے کم ہے جبکہ معاہدہ 9لاکھ فیکنال کے حساب سے کیا گیا ہے جو کہ سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے ۔ مذکورہ معاہدہ محکمہ پولیس نے تیسری ذرائع کے ذریعے کی جس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ، پورے سرکاری مرحلے اور ریونیو ریکارڈ کے آفیسران کی جانب سے تصدیق کے بعد آخر میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ زمین پر جعلسازی کی وجہ سے نیب میں تحقیقات چل رہی ہیں مزید برآن اسسٹنٹ کمشنر نے سفارش کی ہے کہ مذکورہ خسرے سے 47کنال زمین ایس پی یو ہیڈ کوارٹر کیلئے الاٹ کیا جائے تاہم سرکاری ریٹ کے مطابق مذکورہ رقم ڈپٹی کمشنر گلگت کے اکائونٹ میں منتقل کر دی جائے اور نیب انکوائری مکمل ہونے کے بعد کاغذات معاوضہ مرتب کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی تو عمل درآمد کیا جائیگا ۔ زیر تصرف زمین پر حکومتی قبضہ ہونے اور معاہدہ کے مطابق دائیگی نہ ہونے پر مالکان در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو گئے ہیں ۔

تازہ ترین خبریں