05:40 pm
وزیراعلیٰ کیخلاف عدم اعتمادنظرنہیں آرہی،آئندہ مخلوط حکومت بے گی:حیدرخان

وزیراعلیٰ کیخلاف عدم اعتمادنظرنہیں آرہی،آئندہ مخلوط حکومت بے گی:حیدرخان

05:40 pm

چلاس(محمدقاسم)وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن گلگت بلتستان حاجی حیدر خان نے وزیر اعلی گلگت بلتستان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے خبروں کے بارے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں وزیر اعلی کے عہدے کا امیدوار نہیں ہوں۔وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن کے خلاف تحریک عدم اعتماد مجھے تو نظر نہیں آ رہی ہے۔دیامر سے کسی رکن اسمبلی کا نام امیدوار کا سامنے آنے والی خبروں کے بارے میں کچھ نہیں کہوں گا
۔انھوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے آیندہ عام انتخابات میں کسی ایک جماعت کو واضع برتری مشکل ہے۔تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں اکثریت حاصل کرنے سے قاصر ہیں ایک مخلوط طرز حکومت بنے گی۔انہوں نے کہا کہ داریل تانگیر ضلع کا قیام کے امکانات نظر نہیں آ رہے ہیں۔داریل تانگیر کے عوام ضلع کا اعلان کے لئے بے چین ہیں مگر صوبائی حکومت کے پاس وسائل نہ ہونے کہ وجہ سے مالی مشکلات کا شکار ہی۔ضلعی ہیڈکواٹر کے لئے اربوں درکار ہیں۔جھوٹی اعلانات کر کے عوام میں تشویش پیدا کرنا نہیں چاہتے۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں کم آبادی پہ مشتمل علاقوں خو ضلع کا درجہ دیا گیا اس حوالے سے داریل تانگیر کو الگ الگ ضلعے بنایا جائے۔دیامر کے دونوں تحصیل داریل اور تانگیر خو جی بی کا داخلی دروازے کی حثیت حاصل ہونے کے ناطے داریل اور تانگیر کو الگ الگ ضلعے بنانے کے لیے اقدامت کئے جا رہے ہیں۔چلاس(محمدقاسم)وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن گلگت بلتستان حاجی حیدر خان نے عمائدین داریل تانگیر کے ہمراہ چلاس میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس میں الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سکریٹری جنگلات خیبر پختون خواہ نگر حسین شاہ قیام پاکستان سے قبل کا ایک جعلی اور بے بنیاد دستاویزات کی بنیاد پہ گلگت بلتستان ٹمبر پالیسی کو سبوتاڑ کر رہے ہیں۔جس کی وجہ سے مقامی جنگل مالکان،ٹمبر ٹھیکدار اور حکومتی خزانے کو کروڑوں کا نقصان ہو رہا ہے۔وفاقی حکومت کے جانب سے دی گئی ٹمبر پالیسی کا معیار ختم ہونے کو کم عرصہ باقی ہے مگر سکریٹری جنگلات خیبر پختون خواہ کے زبانی احکامات پہ محکہ جنگلات کوہستان نے محکمہ جنگلات داریل تانگیر کے جانب سے جاری ٹمبر پاس پرمٹ پر مزید کاروائی روک دی گئی ہے۔ محکمہ جنگلات گلگت بلتستان کے جانب سے تمام تر قانونی قواعد و ضوابط اور اتھارٹی سے منظور شدہ ٹمبر ٹرانسپورٹ پرمٹ داریل رییج کو کوہستان فارسٹ نے نظر انداز کر کے کاروائی نہیں کر رہے۔محکمہ جنگلات گلگت بلتستان کے قانونی تقاضے پورے کر کے حکومت کے خزانے میں کڑورں روپے جمع کرنے والے ٹمبر ٹھیکدار سیکریٹری جنگلات کے پی کے کے ناجائز احکامات کی وجہ سے سخت ذہنی اور مالی مشکلات کا شکار ہیں انہوں نے کہا کہ سکریٹری جنگلات خیبر پختون خواہ نے قیام پاکستان سے قبل 1924 کا نام نہاد بوگس اور جعلی معاہدہ عوام داریل اور ہندو بنیا کے مابین بنیاد بنا کر اپنے رشتہ دار سید ارشد حسین شاہ کو کمیشن اور پیسوں سے نوازنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔اور محکمہ جنگلات کوہستان کو لاکھوں معکب فٹ عمارتی لکڑی کا ٹمبر پرمٹ ملک کے دیگر حصوں کو ترسیل کی اجازت نہ دینے کے زبانی ہدایات جاری کر دیئے ہیں۔جس کی وجہ سے محکمہ جنگلات کوہستان ٹمبر پرمٹ پہ کاروائی نہیں کر رہا۔اس موقع پہ سابق وزیر صحت گلگت بلتستان حاجی گل بر خان نے کہا عجب منطق ہے داریل کے جنگل کا کیس ایبٹ آباد کی عدالت میں ٹرائل ہو رہا ہے۔قانون کی روشنی میں کسی بھی جھگڑے یا دعوی کا کیس فریقین کے مابین مقامی عدالت میں ٹرائل کیا جاتا ہے مگر یہاں گنگا الٹی بہتی ہے داریل کے جنگلات کا قیام پاکستان سے قبل کے بے بنیاد اور جعلی دستاویزات کو خیبر پختون خواہ کی عدالت میں دعوی دائر کیا گیا ہے۔ اور دو فریقنن آپس میں کیس کر ریے ہیں۔جو کہ انتہائی حیران کن ہیں۔انہوں نے کہا کہ بین الصوبائی طور پہ ایک صوبہ سے دوسرے صوبہ کو کسی بھی چیز کی آمد و رفعت پہ ڈیوٹی ٹکس نہیں لیا جاتا مگر محکمہ جنگلات کوہستان ڈیوٹی ٹکس کے نام پہ 50 روپے فی معکب فٹ غنڈہ ٹکس بنک میں جمع کرنے کے علاوہ 11 روپے فی فٹ کے حساب سے مزید بدمعاش ٹکس نقد وصول کر رہے ہیں۔اس موقع پہ انہوں نے وزیر اعلی خیبر پختون خواہ محمود خان اور وزیر جنگلات کے پی کے سے مطالعہ کرتے ہوئے کہا کہ سکریٹری جنگلات کا اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے اور اپنے رشتہ دار کو ناجائز طور پہ نوازنے کی کوشش پر معطل کیا جائے۔ورنہ جی بی اور کے پی کے کے درمیان تعلقات خراب ہونے کا اندیشہ موجود ہے اور اس کے برے نتائج برامد ہونگے۔

تازہ ترین خبریں