05:25 pm
ششپرگلیشیرسرکنے سے مرکزی ہنزہ کوپانی کی سپلائی بند

ششپرگلیشیرسرکنے سے مرکزی ہنزہ کوپانی کی سپلائی بند

05:25 pm

گلگت(چیف رپورٹر)ششپر گلیشئر کے سرکنے سے مرکزی ہنزہ کو پانی کی سپلائی بند ہونے سے ہزاروں کنال اراضی کے بنجر اور لاکھوں پھلدار و جنگلی درختوں کے سوکھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے اور فور ی طور پر پانی کی بحالی کے اقدامات نہیں اٹھائے گئے تو مسئلہ مذید سنگین اور پینے کے پانی کی قلت کا خدشہ علاقے کے عوام نے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کئے فوری طور پر ڈایا پائپ کی تنصیب کا عمل شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے
اس حوالے سے اوصاف سے گفتگو کرتے ہوئے اعلیٰ نمبردار و سابق صدر پاکستان پیپلز پارٹی ضلع ہنزہ فدا کریم نے کہا ہے کہ ششپر گلیشئر کے سرکنے سے سنٹر ل ہنزہ کے علاقے علی آباد،حیدرآباد،ڈورکھن اور دیگر علاقوں کو پانی کی ترسیل کا عمل مکمل طور پر منقطع ہو چکا ہے جس کی وجہ سے ان علاقوں میں کاشت کاری متاثرہونے کا خدشہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ مرکزی ہنزہ میں کاشت کاری کا سیزن شروع ہو چکا ہے لیکن پانی کی عدم فراہمی کی وجہ سے کاشت کاری میں تاخیر ہوئی ہے اگر صورتحال جاری رہی تو ہزاروں کنال اراضی بنجر اور لاکھوں پھلدار و جنگلی درخت سوکھ جائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ ہنزہ میں بڑی تعداد میں لوگوں کازریعہ معاش زراعت ہے اور زراعت سے سالانہ خطیر رقم حاصل کرکے صحت ،تعلیم اور دیگر ضروریات پر خرچ کی جاتی ہے کاشت کاری نہ ہونے سے لوگوں کا ذریعہ معاش چھن سکتاہے جس سے ایک نئے بحران کا سامنا کرنا پڑے گا انہوں نے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان اور چیف سیکریٹری گلگت بلتستان سے اپیل کی ہے سنٹرل ہنزہ کا ششپر گلیشئر سے پیدا صوورتحال کے اثرات سے بچانے کے لئے فوری طور پر 3ہزار فٹ 12انچ ڈایا پائپ کی تنصیب کی منظوری دیں تاکہ قدرتی آفت کے نتیجے میں ایک اور سنگین مسئلہ جنم نہ لے۔

تازہ ترین خبریں