05:52 pm
حکومت وعدے کے مطابق 750اساتذہ کومستقل کرے،سیپ ٹیچرزایسوسی ایشن

حکومت وعدے کے مطابق 750اساتذہ کومستقل کرے،سیپ ٹیچرزایسوسی ایشن

05:52 pm

شگر(اوصاف نیوز)سیپ ٹیچرز ایسوسی ایشن بلتستان ریجن کے تمام اضلاع کے سیپ اساتذہ کا ایک اہم اجلاس سکردو کے ایک مقامی ریسٹورینٹ میں منعقد ہوا جس میں کھرمنگ سے سیپ کے رہنما محمد اقبال گانچھے سے غلام عباس , سخاوت اور ضلع شگر سے سیپ کے رہنما غلام رسول, نور محمد سکردو سے خواتین ونگ و دیگر کثیر تعداد میں سیپ اساتذہ نے شرکت کیں تمام اضلاع کے عہداروں نے 375 سیپ سکول کے 750 پہلی فیز کے پوسٹوں کو پر کرنے کی منظوری دینے پے
فرزند گلگت بلتستان جناب حافظ حفیظ الرحمن صاحب,وزیر تعلیم حاجی ابرہیم ثنائی,وزیر قانون اورنگذیب,سیکٹری سی ایم حاجی ثناء اللہ سمیت جی کابینہ کے تمام ممبران و وزیر اعلی گلگت بلتستان کے پوری ٹیم کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا ساتھ ہی وزیر اعلی گلگت بلتستان کے 7 اپریل تک ہر صورت میں پہلی فیز کے 750 سیپ اساتذہ کو ریگولر آڈر جاری کرنے کی واضح احکامات کے باوجود ایک بار پھر ریگولریٹی کا عمل تاخیر کا شکار ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلی گلگت بلتستان سے فوری تاخیری کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا گیا ورلڈ بینک کی طرف سے سیپ سکولوں کو دیے ہوئے خطیر رقم بھی جی بی گورئمنٹ کے اکاوئنٹ میں موجود ہونے کے باوجود پھر بھی فروری 2018 میں وزیر اعلی گلگت بلتستان نے 375 سیپ سکول کے سیپ اساتذہ کے لیے تخلیق کیے ہوئے 750 پہلی فیز کے پوسٹیں اب تک پر ہونے میں مسلسل تاخیر کا شکار ہونا سوالیہ نشان و باعث تشویش ہے آخر کونسی طاقتیں سیپ اساتذہ کے ریگولریٹی کے راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہے حکومت نوٹس لیں حکومت سختی سے اپنی پالیسی اور 750 پوسٹ کے نوعیت کو مد نظر رکھکر پہلی فیز کے 750 سیپ اساتذہ کو فوری یونین کونسل سنیارٹی پر ریگولر آڈر جاری کریں تمام سیپ اساتذہ متفقہ طور پر جی بی حکومت کے ساتھ ہے تمام اضلاع کے سیپ اساتذہ کے رہنماوں نے وزیر اعلی حافظ حفیظ الرحمن چیف سکریٹری, وزیر تعلیم, وزیر قانون, سکریٹری سی ایم ,سکریٹری ایجوکیشن سیمت ریگولریشن کیمٹی کے تمام ممبران کے ساتھ دیگر تمام متعلقہ حکام سے پورطالبہ کیا گیا ہے کہ سیپ اساتذہ کے ریگولریٹی کے عمل میں اب مذید ایک لمحے کی بھی تاخیر نہیں ہونی چاہے 375 سیپ سکولز کے 750 پہلی فیز کے پوسٹوں کو فوری طور پر پر کرکے سیپ اساتذہ کو ریگولر آڈر جاری کرکے 375 سیپ سکولوں کو فوری سرکاری تحویل میں لیا جایں اور باقی ماندہ سیپ اساتذہ کے لیے پالیسی بنایا جائیں ریگولریٹی کے عمل کو جلد مکمل کرکے سیپ اساتذہ کے ذہنی پریشانی و اضطراب کو دور کرکے اساتذہ میں پھیلنے والے تشویش کو دور کیا جائیں۔