05:07 pm
قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی نے علم کی شمع کوروشن رکھاہواہے،فورس کمانڈر

قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی نے علم کی شمع کوروشن رکھاہواہے،فورس کمانڈر

05:07 pm

گلگت (رپورٹ:جونیئر شگری سے ) علم کو انسان کی’ ’ تیسری انکھ‘‘ کہا جاتا ہے۔انسان کو اپنے مقصد حیات،مقصد تخلیق، سچائی کی پہچان‘ حقائق کا ادراک اور معاشرے میں مہذب زندگی گزارنے کا سلیقہ علم ہی کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ انسان کے اشرف المخلوقات ہونے کا راز بھی یہی علم اور تعلیم و تربیت ہے۔اس علم کوحاصل کرنے ، تعلیم و تربیت سیکھنے ، عملی و فکری استعداد کوبڑھانے میں مادر علمی(اسکول و مدارس) کا کردار سب سے اہم ہے
جسے کبھی بھی فراموش نہیں کیا جا سکتاانسان کی عملی و فکری افزائش میں مادر عملی کو فوقیت حاصل ہے۔ دنیا کے تین بڑے پہاڑی سلسلوں کے سنگم میں واقع قراقرم انٹر نیشنل یونیورسٹی علم و ہنر کی ایسی شمع روشن کئے ہوئے ہے جس کی روشنی پاکستان کے شمالی علاقہ جات(گلگت بلتستان ) کو منور کر رہی ہے۔قراقرم یونیورسٹی نے بہت ہی کم مدت میں عالمگیر شہرت حاصل کر لی ہے اور یہاں کے فارغ التحصیل طلبہ دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کر رہے ہیں۔یہ جامعہ اس حوالے سے بھی خوش قسمت ہے کہ اسے ملک کے معروف ماہر تعلیم ڈاکٹر عطاء اللہ شاہ جیسی شخصیت کی قیادت حاصل ہے ان خیالات کا اظہار فورس کمانڈر ایف سی این اے میجر جنرل احسان محمود خان نے قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی میں گریجوٹ اسکول کے افتتاحی تقریب میں کہا کہ تعلیمی ادارہ کی سب سے پہلی اور اولین ذمہ داری طلباء کی علمی، ذہنی اور فکری استعداد کو بڑھانا اور خوب پروان چڑھانا ہے۔ ایک طالب علم کی سب سے اولین ذمہ داری علمی میدان میں ترقی کا حصول ہے۔اس کی یہی تعلیمی ترقی اس کا بات باعث بنے گی کہ وہ مستقبل قریب و بعید میں اپنے اعلیٰ تعلیم و ذہانت کے سبب اپنے ملک و قوم کی فلاح و بہبود کیلئے کام کرسکے۔ جدید ٹیکنالوجی ایک طالب علم کے حصول علم کی راہ میں معاون ثابت ہو سکتی ہے بشرطیکہ اس کا جائز اور مناسب استعمال کیا جائے۔ اس بنا پر ایک طالب علم کو چاہیے کہ وہ اپنی تعلیمی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کیلئے جدید ٹیکنالوجی کے توسط سے جدید علمی تحقیق سے اپنے علم کو اپ ٹو ڈیٹ کرے اور کرتا رہے۔انہوں نے مزید کہا کہمادر علمی کا تعلق ایک تربیتی اور عملی وفکری ادارے سے ہوتا ہے جہاں ایک طالب علم اپنی تعلیمی ، تربیتی، عملی و فکری استعداد کو پروان چڑھانے کیلئے ایک خاص مدت زیر تعلیم رہتا ہے۔ ایک طالب علم اپنی زندگی کا ایک خاص حصہ، ایک معین مدت تعلیمی ادارے میں گزارتا ہے۔یہ تعلیمی ادارے کی ذمہ داری اور فرائض میں شامل ہے کہ طالب علم پر خاص توجہ دے۔وہ جس مقصد کیلئے اپنا گھر بار، خاندان ، عزیز واقارب چھوڑ کر تعلیمی ادارے کے دامن میں چھپا ہے، زیر سایہ پناہ لی اْسے وہ مقصد دینے میں تعلیمی ادارے سر توڑ بازی لگائیں۔ سخت محنت اور دیانتداری سے تعلیم و تربیت طالبعلم کو منتقل کرے۔ قوم و ملت کیلئے ایسے صاحب علم ، باشعور، باکمال لوگ تیار کرے جو قوم وملت کو عروج و کمالات کی طرف لے جائیں اور قوموں کی صفوں میں ایک ممتاز مقام عطا کریں۔وہ طالب علم کو دنیا میں عزت و وقار سے سر اٹھا کر جینے کے ڈھنگ سیکھائے۔وہ قوم کیلئے ایسے مجاہد تیار کریں جو جھکنے والے ہوں نہ بکنے والے۔اس کیلئے طلباء کی ضروری بھرپو ذہنی نشوو نما کی جائے ، ان کی علمی استعداد کو زیادہ سے زیادہ وسیع کیا جائے، طلباء میں موجود تخلیقی و تکنیکی صلاحیتوں کو پرکھا جائے، ان میں موجود عملی و فنی مہارت کا مشاہدہ کیا جائے اور طلباء کو ایسے مواقع فراہم کیے جائیں جس سے طلباء کی تخلیقی و تکنیکی صلاحیتیں اور مہارتیں نکھر کر سامنے ائیںکیونکہ ہر انسان میں اللہ کریم نے کوئی کوئی تخلیقی و اِرتقائی صلاحیت،کوئی نئی و منفرد سوچ اور فکر رکھی ہے جس کو اجاگر کرنے کیلئے انہیں بھرپور مواقع میسر انے چاہئیں تاکہ طلباء میں تخلیقی وتکنیکی اور ارتقائی استعدادیں ابھریں اور فکری و اختراعی انداز فکر پیدا ہو۔تعلیم کا حقیقی مقصد انسانی سیرت و کردار کی تعمیر اور انسان کی تسخیر ِحیات کی صلاحیت کو تقویت پہنچانا ہے اور اسکے ساتھ ہی خدا، کائنات اور انسان کو ایک کلی نظام کی حیثیت سے دیکھنا ہے۔ چنانچہ محض مغرب کی مادی تعلیم یا محض دینی مدارس کی بظاہر روحانی تعلیم کو مقصود ٹھہرا لینا ہی درست نہیں، انسانی روح اور اسکے مادی ضروریات کو ایک دوسرے سے جدا نہیں دیکھا جا سکتا کیا۔ یہ نظام تعلیم کی ذمہ داری ہے کہ انسان کی مادی اور روحانی دونوں ضروریات کو پیش نظر رکھے اور جسمانی و روحانی تقاضوں کو یکساں اہمیت دے۔ اسکے ساتھ ہی تعلیم کا مقصد انسان کو تسخیر کائنات کیلئے تیار کرنا بھی ہے۔ جسکا مطلب اسے ایسے سانچے میں ڈھالنا ہے کہ وہ خود کو مفید شہری بنا کر صالح معاشرے کو وجود میں لانے میں مدد دے اور تعلیم کا آخری اور بڑا مقصد خودی کی تقویت اور استحکام ہے۔تعلیم دراصل کسی قوم کی مادی و روحانی زندگی کی روح رواں ہوتی ہے۔ جتنا کسی قوم کا نظام ِتعلیم مضبوط ، مستحکم اور دینی اصولوں سے ہم اہنگ، جاندار و قوی ہوگا وہ قوم اتنی ہی مضبوط اور طاقتور ہو گی اور ترقی ، کامیابی و کامرانی کے اعلیٰ مدارج پر فائز ہوگی ۔علم کے تمام سرچشمے قران کریم سے پھوٹتے ہیں۔ تمام علوم و حکمت، اخلاق و تمدن، فنون و سائنس کی اصل قران حکیم ہی ہے۔دنیا میں علم کی جستجو، کائنات کی تخلیق میں غور و خوض، تخلیق کے راز کوجاننے ، کائنات میں گھوم پھر کر چیزوں کا قریب سے مشاہد ہ کرنے اور اس کی حقیقت کو جاننے کی دعوت اور حکمت قران نے عطا کی۔ قران ہی نے انسانیت کو پکارا کہ او! غور کرو،فکر کرو، جستجو کرو، مشاہدہ کرو اسمان کی بلندیوں اور زمین کی تہوں سے رب کائنات کے پوشیدہ رازوں اور خزانوں کو ڈھونڈ نکالو اور ان پر تحقیق کرو۔اسلام اپنے ماننے والوں کے دل و دماغ کند نہیں کرتا بلکہ سائنسی تحقیق کو فرض قرار دیتا ہے۔ کائنات کے اندر غور و فکر کرنا ، اس کی پوشیدہ حقیقتوں کو عیاں کرنا، مختلف مخلوقات پر ریسرچ کرنا یہ اسلام کی دعوت و فطرت ہے۔ اس موقع پر یونیورسٹی کے وائس چانسلر انجینئرپروفیسر ڈاکٹر عطاء اللہ شاہ، یونیورسٹی کے اساتذہ، سٹاف اور طلبہ وطالبات بھیء موجودتھے۔