05:19 pm
حکمرانوں نے غذرکونظراندازکردیا،گاہکوچ کی رابطہ سڑکیں تباہ،پینے کاپانی ناپید

حکمرانوں نے غذرکونظراندازکردیا،گاہکوچ کی رابطہ سڑکیں تباہ،پینے کاپانی ناپید

05:19 pm

غذر (بیورو رپورٹ )ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر گاہکوچ کی رابط سڑکیں روز بروز خراب ہورہی ہے مگر شہر کے ترقیاتی کاموں پر کوئی توجہ دینے والا نہیں غذر گلگت بلتستان کا تیسرا بڑا ضلع ہے مگر وقت کے حکمرانوں نے اس ضلع کو نظر انداز کیا ہوا ہے ایک طرف ڈسٹرکٹ کے مسائل اپنے جگہ یہاں کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر گاہکوچ کے مسائل میں کمی کی بجائے روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے مگر حکام یہاں کے مسائل کے حل کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوگئے ہیں
یہاں پر بنائی گئی سڑکیں آثار قدیمہ کا منظر پیش کر رہی ہے لوگوں کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں کئی سالوں سے درمدر سے پانی لانے کی ایک بڑی سکیم کے حوالے بات ہورہی ہے مگر اس میں بھی کوئی پیش رفت نظر نہیں آتی کھاری ایریا اور بازار ایریا کے عوام کو پینے کا صاف پانی ایک خواب بن گیا ہے شہر کی آبادی بڑہ رہی ہے اور زیادہ تک سٹریٹ کی گلیاں اور سڑکیں کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہے مگر ان کی مرمت تک نہیں ہورہی ہے بلدیاتی فنڈز تو مل جاتے ہیں مگر پتہ نہیں وہ کس مد میں استعمال ہوتے ہیں ایل جی اینڈ ار ڈی کی بنائی ہوئی سڑکیں آثار قدیمہ کا منظر پیش کر رہی ہے مگر وہ سیکیں کہاں کے لئے رکھتے ہیں اس حوالے سے بھی اس محکمہ کی کارکردگی صفر ہوکر رہ گئی گزشتہ دو سالوں میں گاہکوچ میں صرف ایل جی اینڈڈی کے اپنے دفتر پر کام ہوتا نظر آتا ہے مگر عوامی منصوبے کئی نظر نہیں آتے شہر میں سوریج سسٹم کا کوئی انتظام نہیں سوریج کا گندہ پانی سٹی پارک میں جاگرتا ہے شہر کے کچرے کو جلانے کے لئے کوئی مناسب جگہ دستیاب نہیں گورنجر گائوں کے سامنے روڈ کے کنارے کچرے کو جلایا جاتا ہے جس کی بدبو سے نہ صرف روڈ پر سفر کرنے والے عوام بلکہ گورنجر کے عوام بھی متاثر ہورہے ہیں اس قبل جب بلدیاتی امیدوار ہوتے تھے تو ان کو سالانہ ترقیاتی بجٹ مل جاتا تھا جس سے وہ اس رقم سے اپنے حلقے میں تعمیراتی کام کراتے تھے جن میں لنک روڈ حفاظتی بندوں کی تعمیر اور ندی نالیوںکوبنانا شامل ہے مگر جب سے بلدیاتی الیکشن نہیں کرائے گئے ہیں اس وقت سے اب تک یہ فنڈز کدھر خرچ ہوتا ہے اس بارے میں کچھ بھی پتہ نہیں ہے اور ترقیاتی کاموں کی مد میں ملنا والا پیسہ کا بھی کچھ پتہ نہیں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرمیں لوکل گورنمنٹ کی طرف سے بنائے گئے سڑکیں آثار قدمہ کا منظر پیش کررہی ہے اور ندیوں کی مرمت اور دیکھ بال نہ ہونے کی وجہ سے پانی لوگوں کے گھروں میں داخل ہوتا ہے جس کی اصل وجہ بلدیہ غذر کی نااہلی ہے 2010سے اب تک ہیڈ کوارٹر میں سڑکوں اور کوئی ندی نالی کی تعمیر نہیں ہوئی تعجب کی بات یہ ہے کہ ترقیاتی سیکموں کی مد میں ملنا والا بجٹ اخر کہا خرچ ہوتا ہے اس سے قبل ممبران میونسپل کمیٹی نے اپنے دور میں اہم منصوبے مکمل کرادئیے اس کے بعد جب بلدیاتی الیکشن نہ ہوئے تو ترقیاتی بجٹ کا بھی کوئی پتہ نہ چل سکاممبران بلدیہ نے متعدد رابطہ سٹرکیں بنائی ہے مگر مناسب دیکھ بال نہ ہونے کی وجہ سے عوام کو امدورفت کے سلسلے میں شدید مشکلات کا سامناہے جبکہ گاہکوچ میں دریا کے کٹاو سے بچانے کے لئے حفاظتی بند تعمیر نہ ہونے کی وجہ سے دو سال قبل لوگوں کی کروڑوں کی اراضی سیلابی ریلے کی نذر ہوگئی جبکہ اس سال ہونے والی ریکارڈ برف باری سے گرمیوں کے موسم میں پانی کے بہائو میں مزید ضافے کا امکان ہے یہاں کے عوام نے کئی حفاظتی بند کی تعمیر کے حوالے سے انتظامیہ کو اپنے مشکلات سے اگاہ کرنے کے باوجود حفاظتی بند تعمیرنہ ہوسکا اس سال پانی کے بہاو میں ریکارڈ اضافے کا امکان ہے مگر نشیبی علاقوں میں آباد لوگوں کے لئے کوئی حفاظتی بند تعمیر نہیں کرایا گیا اور گاہکوچ شہر میں دریا کے کنارے آباد لوگوں کو اس سال دریا کے کٹاو سے شدید نقصانات کا خدشہ ہے ۔

تازہ ترین خبریں