05:24 pm
سانحہ اشکومن تشنلوٹ،انسداددہشت گردی عدالت سے 4ملزموں کوسزائے موت(32لاکھ سے زائدجرمانہ)

سانحہ اشکومن تشنلوٹ،انسداددہشت گردی عدالت سے 4ملزموں کوسزائے موت(32لاکھ سے زائدجرمانہ)

05:24 pm

گلگت( بیورورپورٹ) انسداد دہشتگردی عدالت گلگت نے سانحہ اشکومن تشنلوٹ کیس کے ملزمان پر جرم ثابت ہونے پر چار ملزموں کو سزائے موت کی سنادی، ملزمان کو 40،40سال کی قیداور مجموعی طور پر 32لاکھ سے زائد جرمانہ جبکہ جرمانہ ادانہ کرنے کی صورت میں مزید ساڑھے چار سال مزید قید کی سزا سنادی۔ منگل کے روز انسداد دہشتگردی عدالت کے معزز جج راجہ شہباز خان نے سانحہ اشکومن تشنلوٹ میں جنسی زیادتی اور قتل کیس کی سماعت کرتے ہوئے ملزموں کو سزا سنادی
۔ملزموں میں نور اعظم ولد عبدالحنان، نورمحمد ولد عبدالحنان، محمد عمر ولدچلو، عزیز ولد چلو شامل ہیں۔ اس موقع پر معزز جج نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہاکہ ملزمان پر قتل، جنسی زیادتی، نعش چھپانے، اغواء کرنے اور موبائل چوری کرنے کے الزامات ثابت ہوگئے ہیں لہٰذا ان کو سزائے موت سنادی جاتی ہے اور تمام ملزموں کو الگ الگ دفعات پر مجموعی طور پر 8،8لاکھ روپے جرمانہ کی سزابھی سنادی جاتی ہے جسے ادانہ کرنے کی صورت میں مزید ساڑھے چار سال قید کی سزاسنادی جائے گی۔اس موقع پر ملزم عزیز ولد چلو پر دیدار حسین کی موبائل چرانے کا جرم ثابت ہونے پر 2سال مزید قید کی سزاسنادی ۔ معزز جج نے فیصلے میں کہا کہ چاروں ملزموں پر معصوم بچے کو اغواء کرنے ، اپنی حوس کا نشانہ بنانے ، قتل کرنے ، نعش کو دریا برد کرنے کے الزامات ثابت ہوچکے ہیں جس کے بعد وہ کسی بھی قسم کی رعایت اور نرمی کے مستحق نہیں ہیں۔ واضح رہے کہ انسداد دہشتگردی عدالت میں دیدار قتل کیس کا چالان 16مارچ کو انسداد دہشتگردی عدالت میں پیش کیا گیا تھا اور انسداد دہشتگردی عدالت نے روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرکے ایک مہینہ کے اندر ہی سزاسنادی جس پر سیاسی اور سماجی حلقوں نے معزز عدالت کی کارکردگی کی تعریف کی ہے۔

تازہ ترین خبریں