05:26 pm
خزانہ لوٹنے والے ٹھیکیداروں کی فہرست تیار(محکمہ برقیات کے اہم منصوبے مکمل نہ ہوسکے،کارروائی کافیصلہ)

خزانہ لوٹنے والے ٹھیکیداروں کی فہرست تیار(محکمہ برقیات کے اہم منصوبے مکمل نہ ہوسکے،کارروائی کافیصلہ)

05:26 pm

گلگت(چیف رپورٹر)مالی بد عنوانی اور متعلقہ آفیسران کی ملی بھگت سے محکمہ برقیات کے اہم منصوبوں کی تعمیر میں خلاف ضابطہ ادائیگیوں کی فہرست تیار،آفیسران اور ٹھیکیداروں کے گرد گھیرا تنگ،سخت کارروائی کا حتمی فیصلہ کر لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق دو میگاواٹ سینگل پاور منصوبے کی مد میں ٹھیکیدار کو 2کروڈ32لاکھ سے زائد کی رقم ایڈانس ادا کی گئی ہے اور ٹھیکیدار نے کام نہیں کیا اسی طرح 2.5میگاواٹ کارگاہ ڈور مژکو
کے ٹی جی سیٹ کی مد میں ٹھیکیدار شکیب احمد کو 2کروڑ 60 لاکھ کی رقم خلاف ضابطہ ادا کی گئی ہے جبکہ کھنبری دو میگاواٹ کی مد میں حاجی صاحب حق نامی ٹھیکیدار کو 1کروڑ 10لاکھ کی رقم ایڈوانس جبکہ بٹوگای فیز تھری کی مد میں ٹھیکیدار عبدلرحیم کو 1کروڑ 11لاکھ روپے ایڈوانس ادا کئے گئے ہیں ،محکمہ برقیات کی اب تک کی ایک انکوائری میں مجموعی طور پر 6کروڑ 20لاکھ کی ایڈوانس ادائیگی سامنے آئی ہے اور ایڈوانس ادائیگی میں سیاسی سفارش،رشوت اور دیگر بد عنوانیاں شامل ہیں ۔محکمہ برقیات کے اہم منصوبے دو میگاواٹ سینگل پائور ہائوس کے فیز تھری کی تعمیر میں سرکاری خزانے کو 11کروڑ 36لاکھ کا ٹیکہ،مالی بد عنوانی اور منصوبے کی مد میں ٹھیکیدار کو ایڈوانس ادائیگی کے الزام میں محکمہ برقیات کے تین آفیسران کو چارج شیٹ جاری کرتے ہوئے ان سے وضاحت طلب کی گئی ہے اور متعلقہ آفیسران پر جرمانہ عائد کرنے سمیت ان آفیسران کے خلاف سول سرونٹ ایکٹ کے تحت کارروائی اور انکوائری پر بھی غور شروع کیا گیا ہے ۔انتہائی با خبر ذرائع نے اوصاف کو بتایا کہ سینگل دو میگاواٹ فیز تھری کا منصوبہ جس کی تعمیری لاگت 364.353،لین روپے تھی جبکہ آفیسران کی غفلت اور مالی بد عنوانی کے باعث منصوبہ کی تکمیلی لاگت 477.977ملین تک پہنچا دی گئی ہے اور سرکاری خزانے کو 113.614ملین کا نقصان پہنچایا گیا ہے ۔جبکہ منصوبے کی مد میں دو کروڈ سے زائد کی رقم پن سٹاک پائپ کی خریداری کے لئے ٹھیکیدار کو ایڈوانس ادائیگی کر دی گئی ہے ۔سیکرٹری واٹر اینڈ پائور گلگت بلتستان سید عبدالوحید شاہ کے دستخطوں سے اس وقت کے ایگزیکٹیو انجینئر شباب وحید خان ایس ای سرکل آفس گلگت۔عامر شہزاد اسسٹنٹ ایگزیکٹیو انجینئر اور سب انجینئر حاجی بیگ کے نام جاری چاج شیٹ میں تینوں آفیسران سے وضاحت طلب کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ قانون کے مطابق ترقیاتی منصوبوں کی مد میں ادائیگی ورک ڈن(جتنا کام اتنی ادائیگی) پر ہوتی ہے لیکن پن سٹاک پائپ کی خریداری کے لئے 2کروڑ سے زائد کی رقم ٹھیکیدار محمد غیور کو ادائیگی مالی بد عنوانی کے زمرے میں آتا ہے اور ایم بی نمبر3018کے صٖفحہ نمبر003کے تحت ٹھیکیدار کو ایڈوانس ادائیگی کی گئی ہے چارج شیٹ میں کہا گیا ہے کہ منصوبہ2017میں ہر صورت مکمل ہونا تھا لیکن متعلقہ آفیسران کی ٹھیکیدار سے ملی بھگت ،غفلت،نا اہلی اور مالی بد عنوانیوں کی وجہ سے منصوبہ نہ صر ف تعطل کا شکا ہے بلکہ منصوبے کے لئے منظور شدہ 36رقم کروڑ43لاکھ53ہزار تھی جبکہ منصوبے پر47کروڑ79لاکھ77 کی لاگت آئیگی اور 11کروڑ36لاکھ24ہزار روپے کاسرکاری خزانے کو نقصان پہنچے گا۔چارج شیٹ میںآفیسران کو سات دنوں کے اندر تحریری وضاحت کے ساتھ طلب کیا گیا ہے جبکہ آفیسران کے خلاف سول سرونٹ ایکٹ کے تحت کارروائی اور باقاعدہ انکوائری کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے ۔ایک اور اہم منصوبہ2.5میگاواٹ کارگاہ ڈور مژکو کے ٹی جی سیٹ کے حوالے سے کنٹریکٹر شکیب ٹریڈرز کو آخری نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ منصوبہ گزشتہ سال 22مئی کو مکمل ہونا تھا لیکن ایڈوانس ادائیگی کے بائوجود مکمل نہیں ہو سکا قانون کے مطابق روزانہ پنلٹی 44ہزار350روپے .5فیصد کے حساب سے چارج ہوں گے اور مذید تاخیر کی صورت میںتادیبی کاروائی عمل میں لائے جائے گی۔ادھر سیکریٹری برقیات کی جانب سے محکمہ برقیات کا قبلہ درست کرنے کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات پر گلگت بلتستان کے سیاسی سماجی اور عوامی حلقوں نے مسرت کا اظہار کیا ہے اور سیکریٹری برقیات کو خراج تحسین پیش کی ہے ۔

تازہ ترین خبریں