05:32 pm
حکومت نے ہرشعبے میں انقلابی تبدیلیاں کیں،نیت درست تھی کامیابی ملی،وزیراعلیٰ

حکومت نے ہرشعبے میں انقلابی تبدیلیاں کیں،نیت درست تھی کامیابی ملی،وزیراعلیٰ

05:32 pm

گلگت ( اوصاف نیوز ) وزیر اعلی گلگت بلتستان نے کہا کہ گلگت بلتستان میںہماری حکومت چار برسوں میں حقیقی تبدیلی لانے میں کامیاب ہوئی ہے،الحمد اللہ ہر شعبے میں انقلابی تبدیلیاں آئیں ہیں ،ایسی قانون سازی اور تبدیلی لانے میں کامیاب ہوئے کہ جو دوسرے صوبوں میں نہیں مثال کے طور پر اساتذہ کے حوالے سے جو قانون سازی کہ جو استاد جس پوسٹ کے لئے بھرتی ہوگا وہ دس برس تک اسی پوسٹ پر ڈیوٹی دے گا
اس سے تعلیمی معیار بہتر ہوا ہے ،ہمارے آنے سے قبل سرکاری سکولوں میں طلبا کی تعداد 86000تھی آج الحمد دللہ ایک لاکھ چھیاسی ہزار ہے ،سرکاری سکولوں میں مفت کتابوں سے بھی بہت تبدیلی آئی ہے،خیبر پختون خوا میں طلبا کو سرکاری سکولوں میں لانے کیلئے سکیم کااعلان کیا گیا مبینہ طور پر اس میں بھی خرد برد کی خبریں ہیں ہم نے ایسی کسی سکیم کا سہارا نہیں لیا ہماری نیت درست تھی تو کامیابی ملی ہماری کوشش ہے کہ سرکاری سکولوں کا معیار بہتر ہو جس کے لئے کوشاں ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے سینئئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا وزیر اعلی نے کہا کہ ہماری حکومت آنے سے قبل پورے صوبے میں صفائی کا نظام انتہائی ناقص تھا جس سے بیماریوں میں اضافہ ہو رہا تھا ہم نے آتے ہی گلگت ویسٹ منیجمنٹ کمپنی بنائی آج دس میں سے آٹھ اضلاع میں کمپنی کام کر رہی ہے اور صفائی کا نظام مثالی ہے جو اضلاع رہ گئے ہیں عنقریب انشا اللہ ان اضلاع میں بھی ویسٹ منیجمنٹ کپمنی کام کا آغاز کرے گی ۔اسی طرح ہیلتھ کے شعبے میں بہت کام کیا ہے تمام ڈسٹرکٹ ہسپتالوں میں ڈائلاسسز مشینیں ہیں ،صوبے میں ایم آر آئی مشین نہیں تھی الحمد للہ مسلم لیگ ن کی سابق پنجاب حکومت کے تعاون سے ایم آر آئی سنٹر بن گیا ،گلگت بلتستان پہلے کینسر ہسپتال،کارڑیالوجی ہسپتال ،سیف الرحمن شہید ہسپتال اس کے علاوہ تمام ہسپتالوں میں بہتر سہولیات،اسی طرح شاہراوں کا جال بچھا دیا ہے ،گلگت بلتستان کے بجٹ کو سات ارب سے چوبیس ارب تک پہنچایا،سکردو روڑ جیسا بڑے منصوبے کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا،بلتستان یونیورسٹی ،قراقرم یونیورسٹی کے کیمپسزز،امن و امان کی بحالی اور گلگت بلتستان کو سیاحتی حوالوں گلگت بلتستان کو دنیا میں متعارف کروایا ،سیاحوں کیلئے سہولیات اور امن و امان کا ماحول فراہم کیا جس کی وجہ سے سالانہ لاکھوں سیاح گلگت بلتستان آتے ہیں لیکن اب ہم چاہتے ہیں کہ سیاحت کو انڈسٹری کا درجہ دیا جائے اس کیلئے تمام سٹیک ہولڈر کا تعاون درکار ہوگا ہم نے اگر خود کفیل ہونا ہے تو اس کے لئے بہت سے اہم فیصلے کرنے ہوں گے ،وزیر اعلی نے مزید کہا کہ نئے اضلاع بننے سے بہت ساری چیزیں بہتر ہوئیں ہیں ہم دعوں اور محض اعلانات کے قائل نہیں عملی کام ہماری ترجیع ہے ۔

تازہ ترین خبریں