05:46 pm
گلگت بلتستان حسین خطہ،شعوربیدارہونے تک حالت نہیں بدلے گی(شہزادشگری)

گلگت بلتستان حسین خطہ،شعوربیدارہونے تک حالت نہیں بدلے گی(شہزادشگری)

05:46 pm

گلگت ( سکندر حیات سے ) گلگت بلتستان ایک حسین ترین خطہ ہے ، جب تک ہمارے اندر اجتماعی سوچ اور شعور بیدار نہیں ہوگا حالت تبدیل نہیں ہونگے ، ماحول کی آلودگی ، گندا پانی ، گلیشئیر کا سرکنا ، زمین کی لینڈ سلائیڈنگ سے نجات کیلئے ہمیں اپنے سوچوں میں تبدیلی لانی ہوگی ، ہرکام حکومت نے کرنا نہیں ہوتا بلکہ معاشرے کے ہر فرد کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا لازمی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار گرین میٹو فائونڈیشن گلگت بلتستان کے تحت گورنمنٹ بوائز ہائی سکول نمبر ایک گلگت میں منعقدہ یوم عالمی زمین کے حوالے سے گرین پاکستان تقریب سے مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ
زمین کا ایک اہم ماحولیاتی تہوار عالمی سطح پر 1970سے ہر سال 22ازپریل کو منایا جاتا ہے اس کا بنیادی مقصد تمام مخلوقات کیلئے صاف اور صحت مند مستقبل کیلئے شعور اور ذمہ داری اور عملی کام کو بڑھانا ہے زمین کا دن ہمیں زندگی میں ایک انوکھا موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم قومی اور بین الاقوامی سطح پر منظم مستقبل حاصل کرنے والوں کے ساتھ مل کر کام کریں ، 22اپریل کو ساری دنیا زمین کو بچانے کا عزم کرتی ہے انسان کے غیر زمہ دارانہ رویہ کی وجہ سے زمین کے قدرتی وسائل کم ہو رہے ہیں ، درختوں کے کانٹے کی وجہ سے ہم سہوا ، پانی ، ندی نالے ، مرطوب علاقے جات ، جانروں کے مختلف اقسام کے قدرتی مسکن کو تباہ اور آلودہ کررہے ہیں اور ہوائی آلودگی انسانی صحت کو متاثر کرتی ہے ، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر ای پی آئی شہزاد شگری نے کہا کہ ایک عالمی دنمنانے کی کوئی وجہ ہوتی ہے کہ اس دن کی اہمیت معاشرے کے ہر فرد اور نوجوانون کو شعور آگاہی فراہم کیا جائے شعور نہ ہونے کی وجہ سے حکومت کی طرف سے ویسٹ منیجمنٹ کے ڈبے کچرے کیلئے شہر کے ہر کونے میں نصب کرنے کے باوجود کچرہ کو باہر پھینکا جا رہا ہے سہولیات مہیا حکومت وقت کی ذمہ داری ہے مگر ان سہولیات کو درست انداز میں استعمال کرنا معاشرے کے ہر فرد کی زمہ داری ہوتی ہے ، ہماری ہی غفلت سے پینے کے لئے صاف پانی اور ماحول میں آلودگی پیدا ہوتی ہے ہمیں ہر چیز کو استعمال کرنے کیلئے شعور آگاہی کیلئے ایسے پروگرامات سے ملے گی ۔ تقریب سے جنرل سیکریٹری جی بی آر ایس پی اشفاق احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم میں سے ہر ایک شخص کو کم از کم دو پ۲ودے لگا کر اس کی حفاظت اور دیکھ بھال کرنی چاہئے ماحول خود بخود صاف ہوگا ، درختوں کی کٹائی سے زمین میں ہی مختلف قسم کے امراض پیدا ہو رہے ہیں ، گلیشئیر کا سر بڑھانا اور ماحول کا صاف ستھرا رکھنے کیلئے شجر کاری کی انتہائی ضرورت ہے ہم مقامی کمیونٹی کے سطح پر اس سال ڈھائی لاکھ درخت لگائے ہیں اجتماعی شور جب تک ہمارے اندر نہیں آئیگا ترقی نہیں کر سکتے ہیں ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خادم عباس کنزرویٹر فاریسٹ نے کہا کہ اللہ نے زمین میں ہر فیز کو انسان کے فائدے کیلئے پیدا کیا ہوا ہے مکھی جیسے حقیر پرندہ کئی ذہریلے ہوائوں کو کھاتی ہے ان مخلوقات کی پیداوار انسان کی بقاء کیلئے ضرورت ہے مگر بد قسمتی سے ہمارے شکاری بھائی مختلف جنگلی حیوانات کا بے دریغ شکار کرتے ہیں ہمیں درختوں اور جنگلی حیات کی حفاظت کرنا ہوگا ایک درخت تیس سال بعد پیداوار کے قریب نشو نما پاتا ہے ، تقریب سے ڈپٹی ڈائریکٹر ایجوکیشن گلگت نقیب اللہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماحول کو خوشگوار صاف ستھرا درخت لگانے سے ہوگا زمین کو بچانا ہم سب کی زمہ داری اور فرض ہے ، درخت لگانے سے سیلاب اور زمین کا کٹائو اور دوسرے آفات سے نجات ملتی ہے انسانی زندگی کیلئے آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے صاف ہوا اور پانی کی ضرورت ہے وہ سب درخت لگا کر ان کی حفاظت اور دیکھ بھال سے حاصل ہوگی ، ہمیں اپنے گھروں میں بھی درخت لگانے ہونگے ۔تقریب سے جی بی کی معروف سماجی رہنما دلشاد بانو نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بچے مستقبل کے لیڈر ہیں یہ کام آپ نے کرنا ہوگا آبادی روزانہ کی بنیاد پر بڑھ رہی ہے ہر ایک کو سہولیات دینا نا ممکن ہے ، اپنے ارد گرد ماحول کو صاف رکھنا ہوگااور اس کیلئے شعور دینا لازمی ہے ، ہر بچہ اپنے گھر میں پودا لگا کر اس کی حفاظت کرے اگلے سال شجر کاری کے دوران گھر گھر کا دورہ کرینگے جو بچہ پودا لگا کر حفاظت کریگا اس کو انعام دونگی ، تقریب کے آخر میں شکاء نے واک ریلی نکالی ، اور سکول کے بچوں سے متحد مختلف پینٹنگز کوائی گئیں اور سکول کے گرائونڈ میں درخت لگا کر شجر کاری کا آغاز بھی کیا گیا ۔

تازہ ترین خبریں