06:06 pm
طلبہ پروفیسرعثمان کے فلسفے کولیکرآگے بڑھیں (فورس کمانڈر)

طلبہ پروفیسرعثمان کے فلسفے کولیکرآگے بڑھیں (فورس کمانڈر)

06:06 pm

گلگت( فہیم اختر بیوروچیف ) معروف مورخ ،استادالاساتذہ پروفیسر عثمان علی کی دوسری برسی کے مناسبت سے منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فورس کمانڈر جی بی میجرجنرل احسان محمودخان نے کہا ہے کہ پروفیسر عثمان علی جیسے شخصیات ہمیشہ پیدا نہیں ہوتے ہیںمگر صدیوں تک زندہ رہتے ہیں۔ پروفیسرعثمان علی نے 1955سے درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا تھا جو آخری دم تک جاری رہا
جس میں کم از کم پانچ نسلوں کو زیورتعلیم سے آراستہ کیاہے ، میرے لئے بھی یہ اعزاز کی بات ہے کہ میرا شمار پروفیسرعثمان علی کے شاگردوں میں ہوتاہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کی اہمیت اسی روز سے اجاگر ہوگئی جب قرآن کی پہلی آیت اتری تھی، اسلام نے تعلیم حاصل کرنے پر جتنازور دیا ہے اور تعلیم حاصل کرنے کو جتنا افضل سمجھا ہے اس کومدنظر رکھتے ہوئے ہم اس بات کا اندازہ لگاسکتے ہیں کہ تعلیم دینے والوں کی کتنی اہمیت ہوگی۔ اگر علم حاصل کرتے ہوئے کوئی انتقال ہوجائے تو اسے شہید کا درجہ دیا جاتا ہے تو علم دیتے ہوئے اللہ کو پیارے ہونے والوں کا درجہ کیا ہونا چاہئے؟۔معاشرے کی تشکیل میں استادکا ہمیشہ اہم اور نمایاں کردار رہا ہے،گلگت بلتستان میں پروفیسرعثمان علی کے علم و تحقیق کے اثرات صدیوں تک زندہ رہیںگے اور اس کے ہزاروں روحانی بیٹے اس کی فکر اور فلسفے کو لیکر آگے بڑھیںگے۔پروفیسرعثمان علی اپنے متعدد ہم عصروں کے ہمراہ محاز علم کے سپاہی تھے جس پر انہیں متعدد تمغات اور اعزازات بھی ملے ہیں،اور مزید بھی ملنے چاہئے۔نوجوانوں اور طلبہ سے یقین ہے کہ وہ عثمان علی کے بتائے ہوئے راستے پر چل کر قوم کے مستقبل کی بھاگ دوڑ سنبھالیںگے۔تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر تعمیرات ڈاکٹرمحمد اقبال نے کہا کہ مجھے فخر ہے کہ میں نے پروفیسرعثمان علی سے طویل عرصہ تک علم حاصل کیا ہے، اور کئی سالوں تک اس کے ساتھ تعلق رہا ،لیکن کبھی بھی میں نے پروفیسر عثمان علی کو فرقہ وارانہ سوچ کا حامل نہیں پایا بلکہ ہمیشہ فرقہ واریت کی مخالفت میں استاد محترم کو کھڑا پایا ۔ جہالت کے جنگ میں پروفیسر عثمان علی کو چراغ اور مشعل راہ کی مانند پایا ہے۔ علمی میدان میں ماضی میں بہت سارے نام تھے لیکن ٹیکنالوجی کے آمد کے ساتھ ہی ان کا نام ختم ہوتاگیاکیونکہ بدلتے وقت نے ہر شے کو تبدیل کرکے رکھ دیا لیکن پروفیسرعثمان علی نے سوشل میڈیا کے دور تک ہمیشہ خود کو تحقیق کے لئے صرف کئے رکھا یہی وجہ ہے کہ ان کا نام زندہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان صوبائی حکومت نے اپنے مختصر عرصے میں درجنوں میگا منصوبے مکمل کئے ہیں لیکن آج بھی ہمارے لئے چیلنج امن کو برقرار رکھنا ہے، یہ امن درحقیقت پروفیسرعثمان علی جیسے شخصیات کے بدولت قائم ہوا ہے۔پروفیسر عثمان علی صرف ایک استاد ہی نہیں تھے بلکہ ایک عظیم والد بھی تھے کہ جنہوں نے برگیڈیئر مسعود جیسے بیٹوں کو جنم دیا ہے۔ تقریب سے پروفیسر عثمان علی کے فرزند ستارہ امتیاز برگیڈیئر(ر) مسعود احمد نے بھی خطاب کرتے ہوئے مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میرا والد ہمیشہ میرے لئے ایک مثال رہے ہیں 1994 میں امریکی ادارے نے انہیں مثبت معاشرتی تبدیلیاں لانے والے نمایاں افراد میں شامل کیا تھا۔میرے والد محترم نے ہمیشہ علاقے میں امن، بھائی چارے اور اتحاد کو فروغ دینے کی بات کی اور ہمیشہ فرقہ واریت کی مخالفت کی ہے یہی وجہ ہے کہ معاشرے کے تمام طبقات میرے والد کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے، صوبائی حکومت بالخصوص وزیرتعمیرات ڈاکٹر محمد اقبال کا شکریہ ادا کرتاہوں کہ جنہوں نے والد محترم کے خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے کالج آج ایجوکیشن کو ان کے نام سے منسوب کیا ہے کہ جس کے اولین پرنسپل بھی وہی تھے۔۔ اس موقع پر حلقہ ارباب زوق گلگت کے صدر پروفیسرامین ضیائ، سینئر نائب صدر عبدالخالق تاج، جنرل سیکریٹری جمشید خان دکھی،کالج پرنسپل ناصر حسین،خوشی محمد طارق ، رحمان آہی ودیگر نے اظہار خیال کیا اور شاعری کے زریعے خراج تحسین پیش کیا جبکہ پروفیسر احمد سلیم سلیمی اور امیر جان حقانی نے اپنا مقالہ پیش کیا۔تعزیتی ریفرنس میں وزیراعلیٰ کے سپیشل کوآرڈینیٹر راجہ شہزادہ حسین مقپون، انسداد دہشتگردی عدالت کے جج راجہ شہباز خان، ڈائریکٹر محکمہ تعلیم گلگت ریجن ریاض حسین شاہ، سیکریٹری/ڈائریکٹر لوکل کونسل بورڈ زوالفقار احمد،ٹیچر ایسوسی ایشن جی بی کے صدر شاہد حسین سمیت بڑی تعداد میں طلباء ، اساتذہ اور پروفیسر عثمان علی مرحوم کے عزیز و اقارب نے شرکت کی۔

تازہ ترین خبریں