05:39 pm
چیف کورٹ،آرڈر2018کانفاذغیرقانونی قرار،حکومت سے 2ہفتوں میں وضاحت طلب

چیف کورٹ،آرڈر2018کانفاذغیرقانونی قرار،حکومت سے 2ہفتوں میں وضاحت طلب

05:39 pm

گلگت (اوصاف نیوز)چیف جسٹس چیف کورٹ جسٹس وزیر شکیل احمد کی سر براہی میں جسٹس محمد عمر پر مشتمل دو رکنی بینچ نے گلگت بلتستان پیلز لائر فورم نے آڈر 2018 کا گلگت بلتستان میں نافذ العمل کو غیر قانونی قرار دیکرسپر یم کورٹ آف پاکستان کا جوڈیشل آڈر 2019پر عملدرآمد کیلئے دائر رٹ پٹیشن کو سماعت کیلئے منظور کر کے فریقین کو نوٹسز جاری کردی
چیف جسٹس وزیر شکیل احمد نے کونسل سے استفادہ کرتے ھوئے کہا رٹ پٹیشن کی مزید سماعت کے بارے میں قانونی پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے آئندہ پیشی میں عدالت کو مطمئن کرے گلگت بلتستان پیلز لائرز فورم کے کونسل امجد حسین ایڈووکیٹ نے رٹ پٹیشن میں موقف اختیار کرتے ھوئے کہا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کے حوالے سے 28فروری 2019میں فیصلہ جاری کیا ہے جس میں گلگت بلتستان کے عوام کے آئینی حقوق اور عبوری صوبہ بنا کر جی بی کے عوام کا دیرینہ مطالبہ حل کرنے کا حکم دیدیا ھے جبکہ کشمیر آفئیرز اینڈ گلگت بلتستان اور جی بی کونسل میں انتظامی اور دیگر معاملات سپریم کورٹ آف پاکستان کا فیصلہ 2019 پر عملدرآمد کرتے جوڈیشل آڈر2019کے عین مطابق چلایا جا رہا جبکہ گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کے باوجود سرکاری امور کو چلانے کیلئے آڈر2018نافذ العمل کر چکی ھے جو سپریم کورٹ کا جوڈیشل آڈر 2019 جاری ہونے سے ختم اور 2019 کا حکم نامہ کے تحت صوبائی امور چلانے کا حکومت پابند ھیاس کے باوجود صوبائی اور وفاقی حکومت صوبائی امور سمیت سپریم اپیلٹ کورٹ اور چیف کورٹ میں ججوں کی خالی آسامیوں پر تقرریوں کیلئے خفیہ طور پر آڈر 2018کے تحت سمریاں وفاق کو ارسال کر رہی ھے جو سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کی سنگین خلاف ورزی اور توہینِ عدالت کے مترادف ھے ڈویڑن بینچ نے ابتدائی دلائل سن کر رٹ پٹیشن سماعت کے لیے منظور کر کے فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے 14دنوں میں وضاحت طلب کر لی۔

تازہ ترین خبریں