06:11 pm
مسئلہ کشمیرکے حل تک جی بی کوآزادیامقبوضہ کشمیرطرزکاسیٹ اپ دیاجائے(مولاناعطااللہ)

مسئلہ کشمیرکے حل تک جی بی کوآزادیامقبوضہ کشمیرطرزکاسیٹ اپ دیاجائے(مولاناعطااللہ)

06:11 pm

گلگت (وقائع نگار خصوصی) گلگت بلتستان کو کئی دہائیوں سے بے آئین رکھ کر سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا گیا کوئی مائی کا لعل جی بی خطے کو مسئلہ کشمیر سے الگ نہیں کرسکتا ہے کشمیریوں کی حمایت کرنا ہی آئینی حقوق کے لئے سب سے بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔ عوام کو ان کے حقوق سے محروم نہیں رکھا جاسکتا ہے مسئلہ کشمیر کے پرامن حل تک گلگت بلتستان کو مسئلہ کشمیر یا مقبوضہ کشمیر طرز کا سیٹ اپ دیاجائے۔
آل پارٹیز کانفرنس میں جمعیت علماء اسلام نے تجاویز دی تھی نواز شریف حکومت میں جی بی آئینی مسئلے کو حل کیاجاسکتا تھا مگر حفیظ الرحمن نے کوئی توجہ نہیں دی جس کی سزا آج پوری قوم کو بھگتنا پڑتا ہے۔ 2019 میں جے یو آئی گلگت بلتستان میں دوسری بڑی جماعت بن گئی تھی خطے میں پائیدار امن بھی جمعیت کے مرہون منت قائم ہواہمارے قائد عمران خان کو سلیکٹ وزیر اعظم کہتے ہیں حلقہ دو میں ترقیاتی کاموں سمیت عوامی مسائل حل کرنے میں مسلم لیگ ن حکومت کی کارکردگی بلکل صفر ہے جمعیت علماء اسلام نے گلگت بلتستان سطح پر 2020 الیکشن میں حصہ لینے کا فیصلہ کرلیاہے ۔ان خیالات کااظہار امیر ضلع گلگت جے یوآئی مولانا عطاء اللہ شہاب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوںنے کہاکہ گزشتہ ستر سالوں سے گلگت بلتستان کو مسئلہ کشمیر کے نام پر بے آئین رکھا گیا عوام چاہتے ہے کہ آئینی حقوق مسئلے کو مزید نہ الجھایا جائے بلکہ محب وطن پاکستانیوں کو مسئلہ کشمیر یا مقبوضہ کشمیر طرز جیسا سیٹ اپ دیاجائے۔ گلگت بلتستان کا خطہ متنازعہ ضرور ہے مگر کشمیر کا حصہ ہے گزشتہ ستر دہائیوں سے گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کا مسئلہ ہی کشمیریوں کی حمایت کرنا سب سے بڑا مسئلہ بن گیا ہے کوئی مائی کا لعل کشمیریوں کو گلگت بلتستان سے الگ نہیں کرسکتا ہے حکمرانوں کو چاہئے کہ وہ عوام کو ان کے آئینی حقوق دیں اور گلگت بلتستان کو مسئلہ کشمیر یا مقبوضہ کشمیر طرز جیسا سیٹ اپ دیاجائے۔ انہوںنے کہاکہ مسلم لیگ ن کی صوبائی حکومت نے آل پارٹیز کانفرنس بلایا جمعیت علماء اسلام سمیت دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں نے حفیظ الرحمن کو تجاویز دی تھی کہ وہ نواز شریف کے ساتھ بات کرکے گلگت بلتستان کے آئینی مسئلے کو حل کریں حفیظ چاہتا تو نوا زشریف کے ساتھ مل کر عوامی آئینی حقوق مسئلے کو حل کرسکتے تھے نواز شریف ،حفیظ کو اپنا بیٹا سمجھتے تھے مگر حفیظ نے توجہ نہ دیں نوا زشریف کے جیل جانے کے ساتھ ہی سرتاج عزیز کمیٹی سفارشات بھی دفن ہوگئے جیسا کروگے ایسا ہی بھرو گے عوام کے لئے جس نے کام کیا ہے وہ اگلے الیکشن میں پھل پائیں گے۔ انہوںنے کہاکہ گلگت حلقہ ایک اور حلقہ دو کے عوام پریشان ،بجلی لوڈشیڈنگ نے عوام کی زندگی ہی اجیرن کردی ہے عوام کی مسلم لیگ ن سے جو توقعات تھی حفیظ عوامی توقعات پر پورا نہیں اتر سکیں۔ انہوںنے کہاکہ شندور ،کھنبری گلگت بلتستان کا حصہ ہے فٹ باتھی لوگ بھی جی بی کو اپنا حصہ سمجھتے ہیں فٹ پاتھی لوگوں کی باتیں ہر گز قبول نہیں کریں گے غیر منتخب نمائندوں نے عوام کا بیڑا ہی غرق کر کے رکھ دیا ہے آج عوام اپنے مسائل کے حل کیلئے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کررہے ہیں یہی حفیظ حکومت کی نااہلی اور ترقیاتی کاموں کے حوالے سے کارکردگی بلکل صفر ہے۔ انہوںنے کہاکہ 2009 سے 2015 تک جمعیت علماء اسلام گلگت بلتستان میں دوسری بڑی جماعت بن گئی تھی جبکہ فرقہ وارنہ قتل و غارت گری کے باعث جی بی نوگو ایریا بن گیا تھا مگر جمعیت علماء اسلام نے دوسری بڑی جماعت کی حیثیت سے علماء بورڈ ،مساجد بورڈ کا قیام عمل میں لاکر گلگت بلتستان کے پائیدار قیام امن کے لئے اپنا کلیدی کردار ادا کیا آج امن کا کریڈیٹ بھی سیاسی مخالفین اپنے نام کرنا چاہتے ہیں جے یو آئی آئندہ بھی خطے کے امن کے لئے اپنا کلیدی کردار ادا کرتے رہے گی۔ انہوںنے کہاکہ جمعیت علماء اسلام جی بی سطح پر الیکشن کا آغاز کرچکی ہے بھرپور انداز میں 2020 الیکشن میں جی بی سطح پر الیکشن میں حصہ لے گی ملک کے اندر جماعت کا بڑا کردار ہے سلیکٹ وزیر اعظم دینی جماعتوں کے کردار کو ختم کرنا چاہتے ہیں ہم سلیکٹ وزیر اعظم عمران خان کو نہیں مانتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ گلگت بلتستان میں مسلم لیگ ن حکومت کا مستبقل صرف ایک سال رہ گیا ہے گلگت شہر کے عوام پریشان ہیں غیر منتخب عہدوں پر فائز لوگ عوامی مسائل پر توجہ دیں۔ انہوںنے کہاکہ گلگت حلقہ ایک اور حلقہ دو میں ترقیاتی کاموں کے نام پر عوامی منصوبوں کو عوام کے لئے قبروستان بنادیا گیا ہے ۔انہوںنے کہاکہ آرڈر 2018 کے تحت وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کے پاس مکمل اختیار ہیں داریل ،تانگیر ،گوپس یاسین کا الگ الگ اضلاع بنانے کا اعلان خوش آئند ہے وزیر اعلیٰ فی الفور اپنے اعلانات پر عملدرآمد یقینی بنائیں وفاقی حکومت کا کام ہی جی بی حکومت کے کاموں میں دخل اندازی کرنا رہ گیا ہے ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی عوام کے ساتھ سنگین مذاق ہوگا۔

تازہ ترین خبریں