06:15 pm
نیب ،ایف آئی اے کرپٹ عناصرکوپکڑیں(امجدایڈووکیٹ)

نیب ،ایف آئی اے کرپٹ عناصرکوپکڑیں(امجدایڈووکیٹ)

06:15 pm

گلگت (نمائندہ خصوصی) پیپلزپارٹی کے صوبائی صدر نامور قانون داد امجد حسین ایڈووکیٹ نے اوصاف سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں کوئی نظام نہیں جنگل کا قانون ہے انصاف کو ٹھیکے پر دیا جارہا ہے سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم کو ردی کی ٹوکری میں ڈال کر من پسند جج کو لگایا جارہا ہے انہوںنے کہاکہ جی بی کا نظام اور انصاف کٹھ پتلی میں اور کٹھ پتلیوں کے ذریعے ہی چلایا جارہا ہے
عوامی مسائل جائیں باڑ میں ان کی حکمرانی برقرار ہو، اس ٹھیکہ داری نظام کے خلاف پیپلزپارٹی پندرہ سالوں سے جدوجہد کر رہی ہے اور ہمارا مطالبہ ہر دفعہ مسترد کیاجارہاہے،بعض طاقتیں نہیں چاہتی ہیں کہ عوام تک براہ راست انصاف میسر ہو،عوام تک انصاف پہنچانے کا مخالف طبقہ ہر دفعہ ایسی کررہا ہے اور یہ طاقتیں بتارہی ہے کہ جی بی ہمارا چراگاہ ہے اور اسے چراگاہ برقرار رکھنا چاہتی عوامی حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والوں کا بیانیہ نہیں چل رہا جو جی بی کو چراگاہ سمجھ رہے ہیں ان کا بیانیہ چل رہا بلکہ عمل بھی ہورہا ۔انہوںنے کہاکہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو جی بی لاکر اسے دیکھائیں گے کہ آپ کے انصاف کے ساتھ کیا ہورہا جی بی میں چیف جج لگانے کے سپریم جوڈیشل کونسل کو بائی پاس کردیا گیا سپریم کورٹ کے احکامات کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا گیا ۔ایک سوال کے جواب میں پیپلزپارٹی کے صوبائی صدر نے کہاکہ سلطان آباداور بلاس روڑ کا ٹینڈر پری ہوکے دو ماہ ہوگئے ہیں لیکن ٹھیکیدار کو کام نہیں دیا جارہا ہے بلکہ اس پر دبائو ڈالا جارہا ہے کہ وہ اپنی کاپیاں واپس لے جو کم ریٹ پر ہے اسے ٹھیکہ نہیں دیا جارہا اور جس نے زیادہ ریٹ دیا ہے اسے ٹھیکہ دینے کی کوشش ہورہی یہ کیسا نظام ہے نیب اور ایف آئی اے کو دھمکیاں دیکر ڈرایا گیا ہے انتظامیہ کا سربراہ ستوپی کر سوگیا ہے اور انہیں کرپشن کی کھلی چھٹی دے دی۔نظام ایسے نہیں چلے گا کسی نیب اور ایف آئی اے اپنی کارروائی کرے بصورت دیگر ہمیں نکلنا پڑے گا۔استور (شمس الرحمن شمس) پیپلزپارٹی گلگت بلتستان کے صوبائی صدر امجد حسین ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ عمران خان تاریخ کا نااہل ترین کٹھ پتلی وزیرِ اعظم اور تحریکِ انصاف بدنما سیاسی داغ ہے۔ریاست مدینہ کی بات کرنے والے کا طرز عمل زمانہ جاہلیت سے بھی بدتر ہے.عمران خان اور تحریک انصاف بہت جلد قصہ پارینہ ہونگے۔سلیکٹڈ وزیرِ اعظم خارجہ پالیسی اور عالمی جغرافیے سے نابلد ہے اور عالمی سطح پر ملکی بدنامی کا باعث بن رہا ہے۔کٹھ پتلی وزیرِ اعظم کو گلگت بلتستان سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔گلگت بلتستان میں تحریک انصاف کا کوئی وجود نہیں۔جس جماعت کے پاس عہدوں کے لئے بندے نہیں وہ پیپلزپارٹی کا کیا مقابلہ کریں گے۔کرپشن کے خلاف باتیں کرنے والے کی سیاست کا محور نااہل جہانگیر ترین ہے۔عمران خان کی تقاریر مایوس کن اور گمراہ کن ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ ناکام ہو چکے ہیں۔عمران خان پانچ سال پورے کریں یا پھر قبل از وقت استعفیٰ دیں دونوں صورتوں میں تحریک انصاف کا مصنوعی وجود مٹ جائے گا۔نجات دہندہ بننے کے دعویداروں کے ہاتھوں ملک نادہندہ بننے کے قریب ہے۔عمران خان کے موقف میں بار بار تبدیلی کے علاوہ کوئی تبدیلی نظر نہیں آرہی۔ملک میں تبدیلی کے بجائے تنزلی کا سفر شروع ہوا ہے۔نام نہاد تبدیلی کے سونامی نے ملکی معیشت کا بیڑہ غرق کر دیا اور مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔قرضے کو خودکشی قرار دینے والے آئی ایم ایف کے سامنے نہ صرف ڈھیر ہو گئے بلکہ روپے کی قدر گرا کر قرضوں میں کئی ارب کا اضافہ کروا دیا۔کنٹینر پہ کھڑا عمران خان جن معاملات کو لے کر تنقید کرتا تھا آج وزیر اعظم عمران خان خود اسی راستے پر گامزن ہے۔تحریک انصاف نے ملکی سیاست کو نوے کی دہائی میں واپس دھکیلا ہے اور احتساب کے نام پر سیاسی مخالفین کے خلاف انتقامی کاروائی کی جا رہی ہے۔حکومت اب بھی کنٹینر والی سیاست کر رہی ہے انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ حکومت نے کام کرنا ہوتا ہے نہ کہ تنقید۔چندہ مافیا نے چند ماہ میں ہی ملکی معیشت کا پٹہ گول کر دیا ہے۔تحریک انصاف کی نام نہاد بہترین معاشی ٹیم کی بدولت ملکی معیشت کے بجائے ڈالر دن دگنی رات چگنی ترقی کر رہا ہے اور ملکی تاریخ میں مہنگائی اپنے عروج پر ہے اور غریب عوام کی چیخیں نکل گئی ہیں۔

تازہ ترین خبریں