06:26 pm
موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے بچائوکیلئے اقدامات کی ضرورت ہے(کینیڈین ہائی کمشنر)

موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے بچائوکیلئے اقدامات کی ضرورت ہے(کینیڈین ہائی کمشنر)

06:26 pm

گلگت( فہیم اختر ) کینیڈین ہائی کمشنر وینڈی گلمرنے کہا ہے کہ گلگت بلتستان قدرتی حسن سے مالامال خطہ ہے، اس خطے میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے بچائو اور مقامی آبادیوں کو مضبوط کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ کینیڈین حکومت کی روز اول سے کاوش رہی ہے کہ مقامی کمیونٹیز کو سپورٹ کرکے انہیں معاشی طور پر مضبوط کریں تاکہ وہ اپنے پائوں پر کھڑے ہوکر روزگار کماسکے۔گلگت بلتستان کے لئے یہ بھی اعزاز کی بات ہے
کہ پورے ملک میں پہلا پلاسٹک فری ضلع یہاں پر بناہوا ہے ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی میں آغا خان رورل سپورٹ پروگرام کے زیر اہتمام لوکل سپورٹ آرگنائزیشن کنونشن سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ کینیڈا کی حکومت نے گزشتہ کئی سالوں سے اس علاقے کے ساتھ اپنا تعاون جاری رکھا ہوا ہے ۔ اے کے آر ایس پی نے مقامی کمیونٹیز کو مضبوط کرنے اور بااختیار بنانے کے لئے اچھا ماڈل قائم کیا ہے جس کی وجہ سے مقامی لوگوں بالخصوص خواتین کو باعزت روزگار مل رہا ہے۔ ہماری حکومت کی اولین خواہش یہی ہے کہ خواتین باہنر اور مضبوط ہوسکے اور معاشرے میں اپنا کردار ادا کریں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ہز ہائی نس پرنس کریم آغا خان اور شعیب سلطان خان کا کردار ناقابل فراموش ہے، جن کی بدولت آج مقامی سطح پر تنظیمیں قائم ہیں اور بھرپور طریقے سے کام کررہی ہیں۔ صوبائی حکومت گلگت بلتستان کا ویژن بھی مقامی کمیونٹیز کو روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہے جس کی بنیاد پر ایفاد پراجیکٹ شروع کیا ہے جس کے تحت اب تک سوا لاکھ کنال زمین آباد کردیا ہے اور انشاء اللہ 8لاکھ کنال زمین کو آباد کرنے کا ہدف بھی جلد حاصل کریںگے۔گزشتہ ستر سالوں میں صرف 1لاکھ کنال زمین آباد ہوئی ہے جس میں کاشت کاری ممکن ہے ۔ ایفاد پراجیکٹ پہلے 9ارب روپے کا تھا لیکن اب بڑھ کر 18ارب سے بھی زیادہ کا ہوگیا ہے ۔ گلگت بلتستان کی اپنی آبادی 15لاکھ ہے جبکہ 15لاکھ کم از کم سیاح آتے ہیں ۔ 30لاکھ افراد کے لئے ہمارے پاس زرعی اجناس کی پیداوار ممکن ہی نہیں ہے جس کے لئے ہم کم از کم 80فیصد پیداوار دیگر علاقوں سے منگواتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے نچلے طبقے کے لوگوں اور عام آدمی کو بااختیار بنانے بالخصوص خواتین کو باہنر بنانے کے لئے ایک ارب سے زائد رقم سے بلاسود قرضے فراہم کئے ہیں ، جو کہ سرمایہ دارانہ نظام سے چھٹکارا دلانے کا بھی ایک راستہ ہے ۔ اس رقم کی 99فیصد ریکوری ہورہی ہے جو کہ آج کسی بھی بنک کی نہیں ہے۔ وزیراعلیٰ نے دیہی تنظیموں کے استحکام اور نظم و ضبط میں اے کے آر ایس پی کے کردار کو بھی سراہا اور کہا کہ دیہی تنظیموں کی موجودگی سے خطرات سے بچنا آسان ہوتا ہے۔ تقریب سے چیئرمین رورل سپورٹ پروگرام نیٹ ورک شعیب سلطان خان نے کہا کہ ترقی وہ نہیں ہوتی کہ جس میں اربوں روپے لگائے جائیں ، بلکہ ترقی وہ ہوتی ہے کہ جس کے زریعے غریب اور عام آدمی کو فائدہ مل سکتا ہوں۔ گلگت بلتستان کے ترقی کے سفر میں مقامی اور دیہی تنظیموں کا اہم کردار رہا ہے ۔ تقریب سے غربت مٹائو پروگرام کے چیف ایگزیکٹو آفیسر قاضی عظمت عیسیٰ،وائس چیئرمین اے کے آر ایس پی جاوید اقبال،جنرل منیجر مظفر الدین، سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کی نجمہ فرمان، سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر گلگت بلتستان اور چترال سے سینکروں دیہی تنظیموں کے زمہ داران نے شرکت کی اور اپنے علاقے کے مسائل سمیت تنظیم کی کارکردگی پر بریفنگ بھی دی۔

تازہ ترین خبریں