06:21 pm
اساتذہ امتحانات میں بہترین نتائج کے لیے کرداراداکریں،سیکرٹری تعلیم

اساتذہ امتحانات میں بہترین نتائج کے لیے کرداراداکریں،سیکرٹری تعلیم

06:21 pm

گلگت ( اوصاف نیوز ) ہمارا نصب العین تعلیم میں اعلیٰ ترین معیار حاصل کرنا ہے۔میرے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ میں علم دوست اور دانش و بینش سے وابستہ شخصیات کے درمیان موجود ہوں۔ محکمہ تعلیم گلگت بلتستان میں خدمات انجام دینا میں اپنے لیے سعادت سمجھتا ہوں۔ اللہ مجھ سے ایسے کام لے کہ جس سے اس اہم ترین ادارے میں بہتری آئے۔ یہ ادارہ ہمارے گھر کی طرح ہے۔ ہم نے مل جل کر اس گھر کے مسائل حل کرنے ہیں
اور اس کی کارکردگی اور وقار کو بامِ عروج پر پہنچاناہے۔آپ احباب کی ملازمت حقیقت میں عبادت ہے ۔آپ کی کارکردگی آپ کی شخصیت کا عکس ہے۔ مغرب میںدرس و تدریس کے پیشے اور اساتذہ کی سب سے زیادہ عزت کی جاتی ہے۔ اس لیے وہاں امن و سکون، ترقی اور خوشحالی اپنی مثال آپ ہے۔ ان خیالات کا اظہار سیکرٹری تعلیم گلگت بلتستان نجیب عالم نے گلگت بلتستان کے گورنمنٹ کالجز کے پرنسپلز کے ساتھ ہونے والی اہم میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔یہ میٹنگ گورنمنٹ گرلز انٹر کالج گاہکوچ میں منعقد ہوئی جس میں پرنسپلز کے علاوہ ڈائریکٹر کالجز پروفیسر منظور کریم اور نظامتِ تعلیمات کالجزکے اہلکار وں نے شرکت کی۔اس موقع پر سیکریٹری تعلیم نے مذید کہا کہ جن کالجز کے امتحانات کے نتائج تسلی بخش نہیں ہیں اُن کالجز کے پرنسپلز اور فیکلٹی کو سخت محنت کرنے کی ضرورت ہے۔آئندہ غیر تسلی بخش نتائج کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے۔ فیڈرل بورڈ کے تحت امتحانات ہونے کی وجہ سے اچھے نتائج دینا اب ایک چیلنج ہے۔ لہٰذا بہترین نتائج کے لیے خلوصِ دل سے اور جنگی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔ چند کالجز کے آڈٹ کا معاملہ نہایت سنجیدہ ہے۔ اس پر ہم نہایت سنجیدگی سے کام کر رہے ہیں۔اس سلسلے میں متعلقہ اہلکاروں کی استعدادِ کار میں اضافے کے لیے ٹھوس اقدامات کئے جائینگے۔ انہوں نے ڈائریکٹر کالجز کو ہدایت کی کہ جلد پرنسپلز کے فرائضِ منصبی (ToRs) کی تفصیل لکھت کی شکل میں جمع کروائے جائیں تاکہ اس کا باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری کیا جاسکے اور کارکردگی کو مذید اعلیٰ معیار پر استوار کیا جاسکے۔ سیکریٹری تعلیم نے کہا کہ گلگت بلتستان میں جہاں کالجز کی اشد ضرورت ہے وہاں کالجز بنانے کا منصوبہ تیار کر رہے ہیں۔ بالخصوص دیامر اور نگر ہمارے توجہ کے مرکز ہیں۔ فیکلٹی کے پروموشن کا مسئلہ جلد حل کیا جائے گا ۔ اس سلسلے میں متعلقہ حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کی خصوصی ہدایات کے مطابق تعلیمی اداروںمیں طالب علموں کی جانب سے سماجی بہبود (سوشل ورک) کو بروئے کار لانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس کا تعلق سالانہ امتحانات سے بھی ہوگا اور باقاعدہ اس کے مارکس دیئے جائیں گے۔ اس لیے متعلقہ حکام گلگت بلتستان کے کالجز میں سماجی بہبود کے نفاذ کے لیے پروپوزل جمع کرادیں۔ سیکریٹری تعلیم نے کہاکہ پرنسپلز، پرفیسرز اور طلباء و طالبات میںکُتب بینی، تحقیق اور بُک ریویو کا رجحان نہ ہونے کے برابر ہے جو کہ ایک تشویش ناک امر ہے۔ انہوں نے کالجز سے تحقیقی رسائل کے اجراء کرنے، بُک ریویوز کو یقینی بنانے ، کُتب بینی کے عمل کو جِلا بخشنے اور تحقیق کو متعارف کرنے پر بھر پور زور دیا اور ہدایات جاری کیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس نوعیت کے تخلیقی اور تحقیقی کام کرنے والے پرنسپلز، پروفیسرز اور طالب علموں کی مکمل حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ اس موقع پر انہوں نے ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن (کالجز) کی زیرِ تعمیر عمارت میں لائبریری کے قیام کے لیے اقدامات کرنے کی بھی ہدایت کی۔ سیکریٹری تعلیم نے مذید کہا کہ ہم جزا و سزا اور پوسٹننگ کی پالیسی لارہے ہیں اس سے محکمے میں بہتری آئے گی۔ اس موقع پر ادبی اور تحقیقی میدان میں نمایاں خدمات سر انجام دینے کے صلے میں ستارہ ء امتیاز حاصل کرنے پر تمام شرکاء کی جانب سے پرنسپل ڈاکٹر عظمیٰ سلیم کو عمیق گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی گئی۔ میٹنگ کے اختتام پر پرنسپل اسلم ندیم اور ڈی ڈی کالجز عبدالرئوف نے سیکریٹری تعلیم ، تمام شرکاء اور منتظمین کا شکریہ ادا کیااور بی۔ ایس فور ائیرز پروگرام کا پی سی ون منظور کروانے ، ایچ ای ڈی کے قیام کے لیے شبانہ روز کاوشیں بروئے کار لانے اور ایجوکیشن سیکریٹریٹ کے لئے بلڈنگ کے حصول میں کلیدی کردار ادا کرنے پرسیکریٹری تعلیم نجیب عالم کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

تازہ ترین خبریں