06:38 pm
چلاس سے خیبرپختونخواہ تک مارچ کی تجویز(ٹمبراورڈرائی فروٹ پرغنڈاٹیکس لیاجارہاہے،وزیراعلیٰ)

چلاس سے خیبرپختونخواہ تک مارچ کی تجویز(ٹمبراورڈرائی فروٹ پرغنڈاٹیکس لیاجارہاہے،وزیراعلیٰ)

06:38 pm

گلگت( بیورورپورٹ) گلگت بلتستان اسمبلی اجلاس کے 38ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ خیبرپختونخواہ کی تبدیلی سرکار مسلسل گلگت بلتستان کے متعصبانہ رویہ اختیار کئے ہوئے ہے ، تمام ممبران اسمبلی اور کابینہ تیاری کریں چلاس سے خیبرپختونخواہ تک پیدل مارچ کرتے ہیں۔ پورے ملک میں کہیں پر بھی ایسا نہیں ہے کہ ایک صوبہ دوسرے صوبے سے ٹیکس لیں
جبکہ خیبرپختونخواہ گلگت بلتستان سے مسلسل ٹیکس لے رہا ہے۔1998 میں میاں محمد نوازشریف کے دور حکومت میں ہی چونگی سسٹم کا خاتمہ کرکے ٹیکس جمع کرنے کا اختیار وفاقی حکومت کو دیدیا گیا تھا لیکن داسو کے مقام پر خیبرپختونخواہ حکومت نے اس وقت بھی زبردستی بیرل لگایا اور ہم سے غنڈہ ٹیکس لیا ۔ اس وقت ٹمبر اور ڈرائی فروٹ دونوں پر غنڈہ ٹیکس لیا جارہا ہے۔ صوبائی حکومت گلگت بلتستان نے تحقیقات کا حکم دیا ہے کہ پشاور ہائیکورٹ میں دائر کئے گئے کیس میں گلگت بلتستان کو کیسے فریق کیا گیا ہے ، اگر کوئی بھی آفیسر اس میں ملوث پایا گیا تو ہم اسے چھوڑینگے نہیں اگر ریٹائرڈ ہوا ہے تو اس کی پنشن کے پیچھے لگیںگے اگر ملازمت میں ہے تو ہم اس کے نوکری کے پیچھے لگیںگے۔ شاہراہ قراقرم وفاقی سڑک ہے جس کی کبھی مرمت تک خیبرپختونخواہ حکومت نے نہیں کرائی ہے تو پھر ٹیکس کس بات کا۔ افسوس اس بات کا ہے کہ 20سالوں سے کھنبری کے جنگل کا کیس پشاور ہائیکورٹ میں ہے اور ہمیں ابھی تک پتہ نہیں چلا ہے ۔وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے کہا کہ پرویز خٹک کے دور میںگلگت بلتستان سے ڈرائی فروٹ ٹیکس کے نام پر بھتہ لینا شروع کردیا گیا ۔ جس پر میں نے پارٹی چیئرمین کے طور پر عمران خان سے ملاقات کرکے اپنے تحفظات کااظہار کیا تھا عمران خان نے پرویز خٹک کو فوری طور پر ہدایت کردی کہ وزیراعلیٰ جی بی کے ساتھ بیٹھ کر اس معاملے کا حل نکالیں اس حوالے سے دو ملاقاتیں ہوگئی لیکن اس کے بعد پرویز خٹک خیبرپختونخواہ ہائوس سے ہی غائب ہوگئے اور کئی بار کوشش کرنے کے رابطہ نہیں ہوسکا ۔ خیبرپختونخواہ کے نگران وزیراعلیٰ کا انتہائی مشکور ہوں جنہوں نے ہماری درخواست پر اس ظالمانہ طریقہ کار کو ختم کردیا تاہم محمود خان کی حکومت آتے ہی اس ٹیکس کو بحال کردیا ہے۔ خیبرپختونخواہ اس وقت دو اطراف سے تجاوزات کررہا ہے ۔ شندور اور دیامر حدود تنازعہ کے حل کے لئے ہر اقدام اٹھانے کے لئے بھی تیار ہیں۔ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کو بھی میں نے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ اگر حدود کا معاملہ حل کئے بغیر دیامر ڈیم بنانے کی کوشش کی گئی تو ہر طاقت کے سامنے مزاحمت کریںگے۔ اپنے حدود میں کالاباغ ڈیم کو مردہ گھوڑا بنانے والے اب دیامر ڈیم کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ جس کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔ بعض دوستوں کو یہ اعتراض بھی ہے کہ میں نے دیامر کے معاملات میں زاتی دلچسپی نہیں لی ہے ، ان کی معلومات کے لئے بتاتاہوں کہ حدود تنازعہ کے حل کے لئے ممبران دیامر کے کہنے پر وزیراعظم کے زریعے کمیشن قائم کرایا اور بعد ازاں کمیشن کے فیصلے پر دیامر کے ممبران نے تحفظات کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کمیشن نے ہمیں سنا ہی نہیں ہے تو میںنے میاں محمد نوازشریف کے ساتھ اس کمیشن کی رپورٹ رکوادی ۔ حافظ حفیظ الرحمن نے کہا کہ پشاور ہائیکورٹ کا دائرہ کارہی یہ نہیں ہے کہ وہ گلگت بلتستان کے جنگلات کے بارے میں کوئی فیصلہ دیں۔ ہمیں اس کا علم بھی نہیں تھا کہ جنگلات کا معاملہ پشاورہائیکورٹ میں ہے لیکن جب ہائیکورٹ نے عملدرآمد کرانے کے احکامات جاری کئے تو ہم نے سٹینڈ لیا ۔ اس آفیسر کو کبھی نہیں چھوڑیںگے جنہوں نے گلگت بلتستان حکومت اور محکمہ جنگلات جی بی کو پشاور ہائیکورٹ میں زیر بحث ایک کیس کا فریق بنایا ہے ، تحقیقاتی کمیٹی بنائی گئی ہے آفیسر کی نشاندہی ہونے پر تادیبی کاروائی کریںگے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان آرڈر2018جب لاگو ہورہا تھا تب بہت شور مچایا گیا ممکن ہے کہ ہم نے بھی سمجھانے میں کوتاہی کی ہو لیکن آج دیکھیں کہ اسمبلی اور کابینہ کے پاس کتنے اختیارات آچکے ہیں۔ ماضی میں ایک فٹ لکڑی کے لئے بھی ہمیں اسلام آباد میں دربدر کی ٹھوکریں کھانا پڑتا تھا لیکن اب ہمارے پاس یہ اختیار آچکا ہے کہ ہم گلگت بلتستان میں وزیراعظم پاکستان کی جانب سے دی گئی ٹمبر ایمنسٹی سکیم میں توسیع کردیں۔ ہمارے پاس اس بات کا بھی اختیار ہے کہ ہم مزید اضلاع کا قیام عمل میں لاسکتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ گلگت تا چکدرہ روڈ کو چھٹے جے سی سی میں میری تجویز پر منظوری دی گئی تھی لیکن خیبرپختونخواہ نے بدنیتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس منصوبے کو دو حصوں میں تقسیم کرکے شندور سے چکدرہ کا الگ پی سی ون بنالیا جس پر سخت احتجاج کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان سے مطالبہ کیا کہ دونوں حصوں کے پی سی ون کو ایک ساتھ جمع کرائے جائیں بصورت دیگر آدھے پی سی ون کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا جس پر عمران خان نے تجویز کو منظور کرلیا اور دونوں پی سی ون کو بیک وقت جمع کرانے اور بنانے کا حکم دیا ہے جس پر ان کا شکریہ بھی اداکرتاہوں ۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخواہ کے ان تجاوزات کے خلاف ہم نے کوئی بھی دروازہ نہیں چھوڑا ہے اب وقت آچکا ہے کہ تمام ممبران اسمبلی جمع ہوجائیں اور چلاس سے لیکر خیبرپختونخواہ یا اسلام آباد تک لانگ مارچ کریںگے ، گلگت بلتستان میں بیٹھ کر تحریک انصاف کے پرچم لہرانے والوں کی پہلی زمہ داری بنتی ہے کہ وہ سامنے آئیں اور اپنی حکومت سے اس مسئلے کو حل کرائیں۔گلگت (بیورورپورٹ ) گلگت بلتستان میں ورلڈ فوڈ پروگرام کے تعاون سے تعمیر کیئے جانے والے مرکزی سٹوریج کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا کہ گلگت بلتستان آفات زدہ علاقہ ہے لیکن گزشتہ حکومتوں نے ان آفات سے بروقت نمٹنے کے لئے کسی بھی قسم کے اقدامات نہیں اٹھائے ۔ ہم نے اپنی حکومت کے شروع میں ہی باقاعدہ قانون سازی کے زریعے ڈیزاسٹرمنیمجنٹ اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا اور اس کو فعال کیا۔ اس وقت جی بی ڈی ایم اے میں 45کروڑ سے زائد رقم انڈومنٹ فنڈز کے طور پر موجود ہے جبکہ 15کروڑ روپے وفاقی حکومت نے روک لیا ہے، نیشنل ڈیزاسٹرمنیجمنٹ سے بھی اپیل کرتاہوں کہ رقم کو جاری کرانے میں اپنا کردار ادا کریں، ڈونرزکی امداد کے بعد انڈومنٹ فنڈز کی رقم ایک ارب سے تجاوز کرجائے گی۔اب جہاں کہیں پر بھی قدرتی حادثہ یا آفت پیش آتی ہے تودو دنوں کے اندر تمام اقدامات پورے کئے جاتے ہیں۔عالمی اداروں اور ڈونرز کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کو حکومت گلگت بلتستان قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ گلگت بلتستان کے وزیر اعلی حفیظ الرحمن جو کہ اس تقریب کے مہمان خصوصی تھے نے کہا کہ یہ سہولت گلگت اور ارد گرد کے علاقوں میں مستقبل میں آنے والی آفات سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے امداد دینے والے اداروں اور ان کی حکومتوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انسانی جانوں کو مقدم رکھنے اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے ان کے اقدامات قابل ستائش ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ آسٹریلیا ، نیدر لینڈ ، کینیڈا، اٹلی، جاپان اورڈنمارک نے 2.5ملین ڈالر کی رقم فراہم کی اورہم ان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کر تے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ حکومت گلگت بلتستان نے بھی اس منصوبے کی تکمیل کے لیے 384ملین روپوں کی امداد دی ہے۔ وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن کا مزید کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے آفات سے نمٹنے کے اداروں کے استعداد کار کو بڑھانے کی خاطر اہم اقدامات کیئے ہیں۔ تمام اضلاع میں ایمرجنسی حالات سے نمٹنے کے لیے ڈیزاسٹر منیجمنٹ کے ادارے قائم کئے جا چکے ہیں، اور ان اداروں کو ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیئے ضروری آلات، گاڑیوں سمیت مشینری بھی خرید کر دی گئی ہے۔ وزیر اعلی گلگت بلتستان نے کہا ہمارا خطہ موسمی تبدیلیوں سے دوچار ہے۔ گلیشیئرز کی بڑی تعداد اور پانی کا منبع ہونے کی وجہ سے موسمی تبدیلیوں کی صورتحال پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ خطے کو موسمی تغیرات سے بچانے کے لیے آلودگی کو کم کرنے کے لئے اقدامات کیے جا رہے ہیں، ہنزہ کو پلاسٹک فری ضلع بنانا ا س سلسلے کی اہم کڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت کا عزم ہے کہ پورے گلگت بلتستان کو پلاسٹک سے پاک صوبہ بنایا جائے گا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ورلڈ فوڈ پروگرام کے کنٹری ڈائریکٹر برائے پاکستان فنبار کیورن نے کہا کہ پاکستان بھر میں اس طرح کے مراکز کی کل تعداد سات ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہنگامی صورتحال میں اس طرز کے مراکز متاثرہ افراد تک امدادی اشیاء کی فراہمی کے عمل کو مزید تیز کرتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ صوبائی ڈیزاسٹر منیجمٹ کے اداروں کو 2013کے سیلاب جس سے پنجاب اور سندھ متاثر ہوئے تھے ، اور چترال و بلوچستان کے زلزلوں کے باعث درپیش صورتحال میں اس طرز کے ہنگامی ہیومینٹرین رسپانس فیسیلیٹی کی بدولت متاثرہ افراد کی مدد کا عمل نہایت سہل ثابت ہوا تھا۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کے کنٹری ڈائریکٹر برائے پاکستان نے کہا کہ اس طرح کے دیگر ہیومینٹرین رسپانس کے مراکز مظفر گڑھ، کوئٹہ، لاہور، حیدر آباد، پشاور اور سکھر میں بھی موجود ہیں۔ مظفر آباد آزادکشمیر میں بھی اس طرز کا مرکز قائم کیا جا رہا ہے جس کی تعمیر میں فنڈز کی کمی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ فنڈز کی کمی کو دور کرنے کے لیے ورلڈ فوڈ پروگرا م شراکت داروں اور ڈونرز کی تلاش میں ہے تاکہ کام کا آغاز کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت میں تعمیر کیے جانیو الے اس سٹوریج کے مرکز کی ذخیرہ کرنے کی مجموعی صلاحیت 960 میٹرک ٹن ہے۔ ، دو گودام کے یونٹس اور10ہزار میٹرک ٹن تک کھلی اسٹوریج کی جگہ بھی موجود ہے. تقریب سے کینیڈا کے پاکستان میں ہائی کمشنر وینڈی گلمور نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ کینیڈ ا گلگت بلتستان سے خصوصی تعلقات ہے کیونکہ آغاخان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک کے ساتھ تعاون ماضی میں بھی جاری رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس خطے میں رونما ہونے والی نازک موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے بارے میں ہم فکر مند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے مراکز کی تعمیر کے زریعے ہماری کوشش ہے کہ مقامی افراد کو موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ہنگامی صورتحال سے بچانے میں خاطر خواہ مدد ملے گی۔ اس تقریب سے جی بی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل فرید احمد نے بھی خطاب کیا اور حکومت گلگت بلتستان سمیت دیگر عالمی امدادی اداروں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کو موسمی تغیرات کی بناء پر ہر سال مختلف قسم کی قدرتی آفات کا سامنا رہتا ہے جن سے نمٹنے کے لیے ان اداروںکی جانب سے کی جانے والی معاونت نہایت قابل تحسین ہے۔ یاد رہے کہ اس مرکز کی تعمیر کے لیے حکومت گلگت بلتستان نے زمین مہیا کی ہے۔ تقریب میںآسٹریلیا کے ہائی کمشنر NDMA کے ڈائریکٹر لاجسٹکس،وزیراعلیٰ کے کوآرڈینیٹر برائے جی بی ڈی ایم ا ے راجہ شہزادہ حسین خان مقپون، سیکریٹری داخلہ گلگت بلتستان جواد اکرم ، سیکریٹری اطلاعات فدا حسین ، سیکریٹری محکمہ صحت راجہ رشید علی ، ڈائریکٹر محکمہ صحت ڈاکٹر اسرار، سمیت سرکاری محکموں، سول سوسائٹی اور ذرائع ابلاغ کے نمائندے بھی شریک ہوئے ۔ڈبلیو ایف پی دنیا بھر میں سب سے بڑی انسانی ادارہ ہے جس میں دنیا بھر میں بھوک سے لڑنے میں مدد ملتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ کمیونٹیوں کے ساتھ کام کرنا غذائیت اور لچکدار بناتا ہے. ہر سال ڈبلیو ایف پی 80 ممالک میں 80 ملین افراد کی مدد کرتا ہے. اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام ہنگامی حالتوں میں زندگی بچانے اور پائیدار ترقی کے ذریعے لاکھوں کے لئے زندگی کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

تازہ ترین خبریں