05:28 pm
(پٹواری کوتھپڑمارنے کاکیس)انسداد دہشت گردی عدالت نے اپوزیشن لیڈرشفیع خان کوجیل بھیج دیا

(پٹواری کوتھپڑمارنے کاکیس)انسداد دہشت گردی عدالت نے اپوزیشن لیڈرشفیع خان کوجیل بھیج دیا

05:28 pm

گلگت(نامہ نگار خصوصی) انسداد دہشتگردی کی عدالت کے جج راجہ شہباز خان نے اپوزیشن لیڈر گلگت بلتستان اسمبلی کیپٹن (ر) شفیع خان کی ضمانت قبل از گرفتاری کو منسوخ کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔کیپٹن (ر) شفیع خان نے چیف کورٹ سے ضمانت لیا ہوا تھا جس کے بعد اپوزیشن لیڈر عدالت میں پیش ہوئے تو جسٹس شہبازخان نے ضمانت منسوخ کرکے جیل بھیج دیا اپوزیشن لیڈر کو مناور جیل منتقل کردیا گیا ہے
یاد رہے 3 سال قبل سیلاب متاثرین کو ریلیف کے سامان تقسیم کیدوران اوشکھنداس میں محمد شفیع خان پر تحصیل دنیور کے پٹواری کو تھپڑ مارنے کا الزام تھا جس پر تحصیل مجسٹریٹ اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان جھگڑا ہوا تھا اور شفیع خان پر اپنے ساتھیوں کے ہمراہ تحصیلدار اور اس کے عملے پر تشدد کا الزام تھاجس کا مقدمہ انسدا دہشتگردی کی عدالت زیر سماعت تھا۔منگل کے روز انسداد دہشتگردی عدالت گلگت نے اپوزیشن لیڈر کو جوڈیشل کرکے مناور جیل بجھوادیا ھے۔ ایک سال پہلے گلگت بلتستان اسمبلی نے اپوزیشن لیڈر پر مقدمات ختم کرنے کے لیے مراسلہ سیکریٹری داخلہ کو بھیجا تھا مراسلہ بیھجوانے کے باوجود گلگت بلتستان انتظامیہ نے اسمبلی کے مراسلے پر ایک سال تک عملدرآمد نہیں کیاسپیکر اسمبلی فدا ناشاد دوران سیشن کیپٹن ریٹائرڈ شفیع کا پروڈکشن آرڈر جاری کیا۔ مگر ہوم ڈیپارٹمنٹ نے آ رڈر پر عمل درآمد نہیں کیا جس پر اسمبلی میں موجود اپوزیشن اراکین نے اسمبلی اجلاس کا بائیکاٹ کیا جس کے بعد سپیکر اسمبلی فدا ناشاد نے اسمبلی کا اجلاس ملتوی کردیا۔گلگت( بیورورپورٹ) پروڈکشن آرڈر جاری ہونے کے باوجود قائد حزب اختلاف کیپٹن (ر) محمد شفیع کو اسمبلی اجلاس میں پیش نہ کرنے پر اپوزیشن ممبران نے اجلاس کا بائیکاٹ کرلیا۔ قائد حزب اختلاف کیپٹن (ر) محمد شفیع کے خلاف انسداد دہشتگردی عدالت نے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کردئے تھے ،منگل کے روز عدالت میں پیشی کے لئے گئے تو انہیں گرفتار کرکے مناور جیل منتقل کردیا گیا جس پر سپیکر نے پروڈکشن آرڈرجاری کیا کہ قائد حزب اختلاف کو اسمبلی اجلاس میں پیش کیا جائے لیکن اجلاس شروع ہونے کے دو گھنٹے تک انہیں اسمبلی میں پیش نہیں کیا گیا۔ سپیکر نے رکن اسمبلی جاوید حسین کو محمد شفیع کے ساتھ مشترکہ قرارداد پیش کرنے کا موقع دیا تو جاوید حسین نے کھڑے ہوکر کہا کہ میں قرارداد پیش نہیں کروںگا بلکہ احتجاج کرتے ہوئے واک آئوٹ کروںگا کیونکہ پروڈکشن آرڈر جاری ہونے کے باوجود اسمبلی میں پیش نہ کرنا اسمبلی کی توہین ہے۔ جس پر جاوید حسین نے اسمبلی اجلاس چھوڑ کر واک آئوٹ کرلیا ، جاوید حسین کے ہمراہ حاجی رضوان، راجہ جہانزیب، نواز خان ناجی ، بی بی سلیمہ ، کاچو امتیاز نے بھی واک آئوٹ کرلیا ۔ جس پر سپیکر نے کہا کہ اجلاس کا بقایا بزنس سارا اپوزیشن ممبران کا ہے ان کی غیر موجودگی میں اجلاس کو جاری نہیں رکھ سکتے ہیں لہٰذا اجلاس کو جمعرات 11 بجے تک ملتوی کیا جاتاہے۔

تازہ ترین خبریں