05:57 pm
اپیلٹ کورٹ کاجج باہرسے قبول نہیں(گلگت بلتستان اسمبلی)

اپیلٹ کورٹ کاجج باہرسے قبول نہیں(گلگت بلتستان اسمبلی)

05:57 pm

گلگت(فہیم اختربیورو چیف) گلگت بلتستان اسمبلی نے سپریم اپیلٹ کورٹ میں جج کے لئے بھیجی گئی سمری اور منظوری پر تحریک التواء منظور کردی ۔ پیپلزپارٹی کے رکن جاوید حسین کی جانب سے پیش کردہ تحریک التواء پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی وزیر قانون اورنگزیب ایڈوکیٹ نے کہا کہ2009 کے گورننس آرڈر سے ایک نیا سلسلہ شروع ہوگیاجس کے بعد سیاسی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر ججوں کی تقرری عمل میں لانا شروع کردیا گیا
، سمری سیاسی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر بھیجی گئی جن میں میرٹ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے فرقہ وارانہ بنیاد پر تقرریاں ہوئیں۔اس مخصوص کھول سے نہ کوئی باہر نکلا اور نہ ہی باہر نکلنے کی کوشش کرسکا۔ یہ ہماری عدلیہ کی داستان ہے جہاں سے عام آدمی کو انصاف کی توقع ہے۔2009 میں سیاست کے میدان سے اٹھاکر لوگوں کو ہائی کورٹ کا جج بنایا ہے۔ایک شیعہ بھرتی کیا گیا تو سمری میں ایک سنی بھی شامل کیا گیا ،2009میں ہونے والے ججوں کی بھرتیوں میں نہ مقامی حکومت کو علم تھا اور نہ ہی انہوں نے بنایا تھا۔کہاں سے گئی اور کہاں سے چلی ، کیسے چیئرمین جی بی کونسل منظوری دیتا ہے یہ مجھ سے بہتر تحریک التواء پیش کرنے والے رکن جاوید حسین بہتر جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرتاج عزیز کی سربراہی میں کمیٹی قائم ہوئی تو عدلیہ کے لئے طریقہ کار وضع کرنے کے لئے مجھے بھی بھیجا گیا جہاں پر میں نے صوبائی حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے مئوقف دیا کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 175میں جو طریقہ کار ہے اسی طریقے کے مطابق گلگت بلتستان میں ججوں کی تقرری کی جائے۔سیاسی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقرری کا سلسلہ ختم کیا جائے،لیکن گلگت بلتستان آرڈر2018 سے وہ چیزیں حذف کی گئیں، حالانکہ میں نے تحریری موقف دیا تھا۔ گلگت بلتستان آرڈر2018 میں عدلیہ کے حوالے سے کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہے۔جبکہ آرڈر2019 میں سپریم کورٹ آف پاکستان میں اٹارنی جنرل نے موجودہ طریقہ کار کو ہی جاری رکھنے کی تجویز کی ہے جس پر سپریم کورٹ کے فل بنچ کے سامنے میں نے بحث کی۔مجھ سے جسٹس گلزار نے پوچھا تھا کہ جی بی میں سپریم اپیلٹ کورٹ اور چیف کورٹ میں ججوں کی تقرری کیسے ہوتی ہے؟ میں نے جواب دیا جس کے پاس اثررسوخ ہوتا ہے اسی کی تقرری بھی ہوتی ہے۔سیکریٹری لاء سے سمری شروع ہوتی ہے اور گھوم گھوم کر منظور ہوجاتی ہے۔ پھر مجھ سے تجویز مانگی گئی تو میں نے سادہ الفاظ میں کہا کہ ہمیں آزاد عدلیہ چاہئے ، اگر مسجدوں سے اور سیاسی پارٹیوں سے جج تعینات کیا جائے تو وہ لوگوں کو کیا انصاف فراہم کریگا، وہ تو صرف اپنی وفاداری نبھائے گا۔آزاد عدلیہ کا خواب تب تک شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکے گا جب تک آئین پاکستان میں وضع طریقے کے مطابق ججوں کی تقرری نہ ہو،اس موقف کو بعد میں تحریری شکل میں بھی جمع کرایا۔ وزیر قانون نے کہا کہ ہم چاہتے تو اپنے گزشتہ ساڑھے تین سالوں میں بھی من پسند لوگوں کو عدالت میں تعینات کرسکتے تھے لیکن ہم نے انصاف کے عہدے کو غلط استعمال کرنے سے اس کو خالی رکھنے میں فوقیت دیدی،ہمارے دور میں چیف کورٹ میں دو اور سپریم اپیلٹ کورٹ میں ایک جج کا عہدہ خالی تھا لیکن ہم نے دبائو بھی برداشت کرکے ان عہدوں پر غلط تقرریاں نہیں کیں۔ 6ماہ تک وکلاء نے جدوجہد کی ہے جس کو خراج تحسین پیش کرتاہوں، آزاد عدلیہ کے لئے بار کونسلز اور وکلاء کا کردار ناقابل فراموش ہے۔بار کونسل کی ریویو پٹیشن کو نمبر لگ گیا ہے۔ آرڈر2019کے حوالے سے بھی وفاقی حکومت کی درخواست جمع ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں پہلے خود ٹھیک ہونا پڑیگا۔ پیپلزپارٹی کے صوبائی صدر امجد ایڈوکیٹ گورنر سے لیکر ہر فورم پر صرف دو اشخاص کی سفارش کرتے رہے ہیں۔چیف کورٹ کی جو سمری گئی ہوئی ہے اس میں حسب سابق وہی بیلنس رکھا گیا ہے، دو سنی، دو شیعہ ، ایک اسماعیلیہ اور ایک نوربخشی جج کا۔ سمری میں کوئی میرٹ نہیں ہے، جسے گورنر نے وفاق کو بھیجا ہے، ایسے لوگوں کی سفارش کی ہے جن کی کوئی اہلیت نہیں ہے۔ سپریم اپیلٹ کورٹ میں چیف جج کی تقرری کے لئے بھیجی گئی سمری کا تجویزکردہ شخص دیامر کے خلاف کیس میں ڈائریکٹ فریق ہے، جس کے خلاف سب سے پہلے دیامر کے عوام نے احتجاج کیا،گورنر نے بھجوائی ہے اور وزیراعظم نے منظوری دی ہے۔ تحریک انصاف کی صوبائی قیادت کی زمہ داری ہے کہ وہ اس معاملے کا حل نکالیں اور وزیراعظم کو سمجھائیں ۔ جب تک سپریم جوڈیشل کونسل کی پالیسی پر عملدرآمد نہیں کرایا جائیگا ہماری آہ و بکا کا کچھ نہیں ہوگا۔ بار کونسل اور وکلاء کے ہر موقف کی حمایت کرتاہوں کیونکہ وہ عوامی نوعیت کے ہیں اور عوامی مسائل کے متعلق ہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان سپریم جوڈیشل کونسل کے طریقے کووضع کرکے بیوروکریٹس کے نام کو خارج کریں،جس پر صوبائی حکومت کا تحریری اعتراض بھی جمع ہے۔ قبل ازیں پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی جاوید حسین نے تحریک التواء پیش کرتے ہوئے کہا کہ جس بندے کی سمری بھیجی گئی ہے وہ دیامر میں ٹمبر مافیا بناہوا ہے اور دیامر کے ساتھ باقاعدہ طور پر عدالت میں زیر بحث کیس میں فریق ہے۔ گلگت بلتستان کے حقوق کا معاملہ عدلیہ کے ساتھ منحصر ہے ، ایک ڈپٹی اٹارنی جنرل کو لاکر چیف جج لگانا 22لاکھ عوام کی توہین ہے،کسی سول کورٹ میں بھی تقرری نہ ہوسکی تو وہ گلگت بلتستان کی سب سے بڑی عدلیہ کا چیف جج لگایا جاتا ہے ، ماضی میں ہمیں کہا جاتا تھا کہ ہم آپس میں تقسیم ہیں اس لئے ایسا ہوتا ہے اب میں آن دی ریکارڈ کہتاہوں کہ کسی بھی گائوں، ضلعے ،قوم اور فرقے سے لگایا ہے جائے ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن مقامی لوگوں کو آگے لیکر آئیں۔ میں مطالبہ کرتاہوں کہ آج بزنس کو معطل کرکے اسی موضوع پر ہی بحث کرایا جائے۔ ڈپٹی سپیکر جعفراللہ خان نے کہا کہ گلگت بلتستان کوئی چراگاہ نہیں ہے کہ من پسند اورر بااثر افراد کی تقرری کی جائے اس عمل سے عدلیہ کی روح متاثر ہورہی ہے۔ جس بندے کی سمری بھیجی ہے وہ تو ہمارے خلاف فریق بناہوا ہے۔ اس شخص کی تقرری کو فوری طور پرروکی جائے اور سب کو اعتماد میںلیکر سمری بھیجی جائے۔ پارلیمانی سیکریٹری غلام حسین ایڈوکیٹ نے کہا کہ 2009 سے قبل LFOہوا کرتا تھا جس کی ترمیم کااختیار ہمارے پاس تھا لیکن اب ترمیم کا اختیار ہمارے پاس نہیں ہیں۔ ممبران متفق ہوں تو ہم ترمیم کے لئے جدوجہد اور تحریک چلائیںگے ۔مقامی اور غیر مقامی کی تفریق کو ختم کرنا ہوگا، مقامی گزشتہ گورنروں کو توفیق ہی نہیں ہوئی ہے کہ وہ بلتستان کا دورہ کریں جبکہ برجیس طاہر مختصر مدت میں 10 بار بلتستان آئے اور ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کرتے رہے۔ ہم نے مہدی شاہ کو بطور وزیراعلیٰ قبول ہی نہیں کیا اور آج تعریفیں کررہے ہیں جبکہ آج حفیظ الرحمن پر بے جا الزامات لگاکر اس بات کا ثبوت دے رہے ہیں کہ ہم مقامی لوگوں کو پسند نہیں کرتے ہیں اور نہ ہی ان کی تکریم کرتے ہیں ہمیں اس دہرے معیار سے نکلنا ہوگا۔نواز خان ناجی نے کہا کہ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ 21ویں صدی کے دو عشرے گزرجانے کے باوجود ہمارے پاس اپنا آئین نہیں ہے، جو بندہ آرڈر کرتا ہے وہ کسی کی بھی تقرری کرسکتا ہے ہمیں اپنے لئے آئین کا مطالبہ کرنا ہوگا۔ اس موقع پر تحریک انصاف کے رکن راجہ جہانزیب، کیپٹن سکندر، کاچو امتیاز و دیگر نے بھی خطاب کیا۔ سپیکر فدا محمد ناشاد نے تحریک التواء کو متفقہ منظور کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے وقت کے مطابق ہمیشہ مطالبات کئے ہیں اور کوئی کوتاہی نہیں برتی ہے۔ یہ انتہائی نامناسب امر ہے کہ سپریم اپیلٹ کورٹ ججوں سے خالی پڑی ہوئی ہے جبکہ ایک عرصے تک صرف سنگل جج تھا جس کے پاس فیصلے کااختیار ہی نہیں تھا۔ گلگت بلتستان کے مقامی لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے نئی سمری بھیجی جائے جو مکمل میرٹ کے مطابق ہوں، حکومت اورگورنر کو اس پرفوری کاروائی کرنا چاہیے۔

تازہ ترین خبریں