06:04 pm
نگرمیں بہترین نتائج کیلئے اساتذہ کی نگرانی جاری،کوتاہی پرکارروائی ہوگی(عاقل حسین)

نگرمیں بہترین نتائج کیلئے اساتذہ کی نگرانی جاری،کوتاہی پرکارروائی ہوگی(عاقل حسین)

06:04 pm

نگر ( اقبال راجوا) نگر میں اس سال بہترین نتائج دینے کے لئے اساتذہ کی تدریسی کار کردگی کی بھر پور نگرانی کی جا رہی ہے ، میں خود تمام سکولوں میں جارہا ہوں اور سکول کے تمام معاملات کا جائزہ لے رہا ہوں، ابھی تک 92 اساتذہ کی اسامیاں خالی ہیں جن پر تعیناتی کے بعد اساتذہ کی کمی پوری ہوگی اور معیاری نظام ازخود قائم ہو جائے گا۔ کوشش ہے کہ کیمروں کے زریعے اساتذہ کے تدریسی عمل کی بھی مسلسل نگرانی کی جائے
۔نو تعینات ڈی ڈی ایجوکیشن نگر عاقل حسین کا اپنے ادارے کی کار کردگی سے متعلق صحافیوں کے سوالوں کے جوابات۔ سوالات کے دوران دفتری عملے نے صحافیوں کو ڈرا دھمکانے کی بھی کوشش کی اور ان پر غصہ کرنے او طنز کی بھی کوشش کی تا ہم صحافیوں کا دفتری عملے کے روئیے کو نظر انداز کرنے پر معاملہ لڑائی جھگڑے کی نوبت تک نہ پہنچ پایا۔ تفصیلات کے مطابق ڈپٹی ڈائیریکٹر محکمہء تعلیم نگر عاقل حسین نے کہا کہ محکمہء تعلیم نگر نے آئندہ سال سرکاری سکولوں میں بہترین نتائج دینے کے لئے تمام تر تیاریاں مکمل کر لی ہیں جن میں اساتذہ کو عملی ایام کے دوران نصابی کورس مکمل کرانے کے لئے باقاعدہ سکیم آف ورک بنا کر دیا گیا ہے اور اس کے لحاظ سے دفتر میں ہی ٹیسٹ پرچہ جات تیار کئے جا رہے ہیں اس تمام سسٹم کی مسلسل نگرانی کی جارہی ہے ۔ کوتاہی برتنے والے اساتذہ کو کسی قیمت نہیں بخشا جا ئے گا۔ ایک سوال کے جواب میں ڈپٹی دائیریکٹر نے بتایا کہ ضلع نگر میں اساتذہ کی کمی کے سبب درس وتدریس کا کام متاثر ہوا ہے چندایک بزرگ اساتذہ کے علاوہ باقی تمام اساتذہ تربیت یافتہ ہیں ۔200خواتین جبکہ ایک 176 مرد اساتذہ ضلع نگر کے 63سکولوںمیں تعلیم دینے میں مصروف ہیں ۔ 8350طلباء و طالبات کی پروفائیلنگ کی گئی ہے اور ہر طالبعلم پر انفرادی توجہاور اس کی پڑھائی لکھائی کی بھی برابرنگہداشت کی جا رہی ہے۔ انہوں نے پچھلے سال کی خراب نتائج بارے میں بتایا کہ مجھے بھی اس بات کا افسوس ہے کہ پچھلے سال ضلع نگر کے سکولوں کے نتائج بہتر نہیں تھے تا ہم مجھے آئے ہوئے زیادہ عرصہ نہیں ہوا ہے لیکن پچھلے سال کے نقائص کو ہر قیمت پر دور کریں گے۔ اس سلسلے میں میں دفتر میں بیٹھنے کے بجائے تما م اسکولوں میں جاتا ہوں اور خود ہی سکولوں میں تمام معاملات کا قریب سے جائزہ بھی لے رہا ہوں ۔ والدین کو ہر حال میں سرکاری سکولوں پر اعتماد کرنا ہوگا یہ ایک بلاوجہ تاثر ہے کہ سرکاری سکولوں میں معیار تعلیم بہتر نہیں ہے ۔ کچھ افراد اس تاثر کو قائم کرکے اپنا دانہ پانی چلانے کے لئے پرائیویٹ سکولوں میں غریب عوام کے اضافی اخراجات کرا رہے ہیں حالانکہ ان کئی پرائیویٹ سکولوں کی نسبت معیار تعلیم اور سالانہ نتیجہ بھی سرکاری سکولوں کا کہیںبہتر ہے ۔انہوں نے ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری اسکولوں کے اساتذہ کوپرائیویٹ سکولوں میں رضاکارانہ نظام چلانے کے لئے اعزازی عہدے لینا غیرقانونی ہے اگر میری معلومات میں ایسے اساتذہ آجائیں تو میں ان کے خلاف اداراجاتی تادیبی کاروائی کروں گا۔انہوں پرائیویٹ سکولوں سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بعض پرائیویٹ سکول رجسٹریشن کے بغیر غیر قانونی طور پرچلائے جا رہے ہیں ان کی اسناد جعلی ہیں لیکن عوام الناس کو اس بارے میں کچھ بھی علم نہیں ہے ۔ غلمت ماڈل سکول سمیت دیگر اسکولوں کی عمارتوں کی زمینوں پر تجاوزات کے خلاف کاروائی کرنے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس میں بھی ہمیں عدالت اور عوامی تعاون نہایت ضروری ہے کیوں کہ ہم کاروائی کرتے ہیں تو تجاوز کنندگان عدالتوں میں چلے جاتے ہیں اور حکم امتناعی حاصل کر لیتے ہیں یا عوام کو ورغلا کر ہمارے ساتھ جھگڑنے پر مجبور کرتے ہیں ۔سرکاری سکولوں کی عمارتوں کی خستہ حالی بارے میں ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ محکمہ تعمیرات عامہ کے ٹھیکیدار کی جانب سے بغیر کسی نگرانی و معائینے کے سکول عماتوں کی ہینڈنگ ٹیکنگ کی جاتی ہے جس سے اندرون ایک سال ان عمارتوں کے چھتوں سے پانی ٹپکنا یا دراڑیں پڑنا معمول ہیں اس کے لئے ہم کچھ بھی نہیں کر سکتے ہیں۔ ماڈل سکول کیلئے سکول منتخب کرنے کے حوالے سے ADI اکبر حسین نحوی نے ایک ہی وجہ بتایا کہ غلمت سکول کو منتخب کرنے کی ایک وجہ یہ ہو ئی کہ سکول کی عمارت جونہ تو زیادہ خستہ حال تھی اور نہ بہت شاندار کہ جس پر بہت زیادہ اخراجات ہوتے یا بلکل ماڈل سکول کے لحاظ سے اخراجات نہیں کئے جاتے اور امکان بھی ظاہر کیا کہ سکول میں اساتذہ بھی بہتر ہیں جو کہ دونوں وجوہات ہیں فضول ہیں کیوں کہ ماڈل سکول طلباء کے لئے ہے نہ کہ سکول عمارت یا قابل اساتذہ کے لئے۔ اے ڈی آئی اکبر حسین نحوی نے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کے اساتذہ کے حوالے سے حالیہ بیان کے جواب میں کہاکہ صرف اساتذہ کے بچوں کو سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کرنے کے حکم پر عملدرآمد ممکن نہیں کیوں کہ سرکاری اساتذہ سرکار کے ملازم ہیں نہ کہ ان کے بچے۔قابل زکر بات یہ ہوئی کہ دوران انٹرویو ڈپٹی دائیریکٹر ایجوکیشن کا دفتر میں ایک زمہ دار ملازم اُس وقت غصے سے لال پیلا ہو کر صحافیوں کو ڈرا دھمکا کر باہر نکالنے کی کوشش کرتا رہا کہ صحافی DDکو ڈکٹیشن دینے والے کون ہوتے ہیں حالانکہ انٹرویو بڑے خوبصورت ماحول میں جاری تھا۔صحافیوں نے معاملے کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے موصوف کے ان باتوں پر کوئی دیہان نہیں دیا جس کے بعد وہ واپس چل نکل گیا اور انٹڑ ویو کا سلسلہ معمول کے مطابق خوش اسلوبی سے جاری رہا۔

تازہ ترین خبریں