05:50 pm
88کروڑکے قرض معافی،زرعی بنک کوسٹیٹ بنک سے ادائیگی نہ ہوسکی(مالیاتی امورمتاثر)

88کروڑکے قرض معافی،زرعی بنک کوسٹیٹ بنک سے ادائیگی نہ ہوسکی(مالیاتی امورمتاثر)

05:50 pm

گلگت( بیورورپورٹ) زرعی ترقیاتی بنک گلگت بلتستان کے 88کروڑ سے زائد رقم کی معافی کے بعد بینک کو واپس نہ ملنے کی وجہ سے بنک کے مالیاتی امور سخت متاثر، گزشتہ کئی سالوں سے زرعی ترقیاتی بنک قرضوں کی رقم کو ماضی کے مقابلے میں کم سے کم کررہا ہے ، زرعی شعبے میں اہم کردار ہونے کے باوجود صوبائی حکومت کی جانب سے ابھی تک کوئی خاطر خواہ تعاون بھی نہیں کیا گیا ہے
۔ ذرائع کے مطابق سابق صدر پاکستان پرویز مشرف کے دور میں گلگت بلتستان میں زرعی ترقیاتی بنک کو واجب الادا 88کروڑ سے زائد مالیت کے قرضوں کو معاف کرنے کا اعلان کیا گیا تھا جو کہ طریقہ کار کے مطابق سٹیٹ بنک آف پاکستان سے بعد میں زرعی ترقیاتی بنک کو ادا ہونے تھے تاہم کئی سال گزرنے کے باوجود بنک کو رقم واپس نہیں دی گئی جس کی وجہ سے زرعی ترقیاتی بنک کے گلگت بلتستان میں مالیاتی امور سخت متاثرہوکررہ گئے اور زرعی ترقیاتی بنک نے گلگت بلتستان میں قرضوں کے حجم کو ماضی کے مقابلے میں کم سے کم کرنے کی کوشش کی ہے ۔ ذرائع کے مطابق 88کروڑ سے زائد مالیت کے واجب الاداقرضوں کی رقم کا معاملہ گزشتہ دنوں وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن اور صدر زرعی ترقیاتی بنک پاکستان شیخ امان اللہ کے مابین ایجنڈے کا حصہ بھی تھا اور اس معاملے میں اتفاق بھی پایا گیا ہے کہ مذکورہ رقم کے حصول کے لئے جدوجہد کی جائے گی تاکہ گلگت بلتستان میں زرعی ترقیاتی بنک زراعت کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں اور گلگت بلتستان کے شعبہ زراعت کو مزید مضبوط کرسکے۔ زرائع نے یہ بھی بتایا کہ ماضی میں زرعی ترقیاتی بنک کو مرکز سے فنڈز ملتے تھے تاکہ علاقے میں قرضے جاری کرسکیں تاہم گزشتہ کچھ سالوں سے زرعی ترقیاتی بنک جی بی کو مرکزسے فنڈز دینا بند کردیا ہے اور ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ازخود فنڈز پیدا کرکے اپنے پائوں پر کھڑے ہوجائے اس دوران صوبائی حکومت کی جانب سے بھی تعاون نہ ہونے کے برابر رہا ہے۔

تازہ ترین خبریں