05:26 pm
ٹرانسپورٹرزکاسیاحت کوفروغ دینے کیلئے حکومتی پالیسیوں پرنظرثانی کامطالبہ

ٹرانسپورٹرزکاسیاحت کوفروغ دینے کیلئے حکومتی پالیسیوں پرنظرثانی کامطالبہ

05:26 pm

گلگت(نامہ نگار خصوصی) راستے میں کاونوائے سسٹم کی وجہ سے ایک گاڑی کو تین تین دن لگ جاتے ہیں ٹرانسپورٹ کا نظام درہم برہم ہو گیا ہے جس سے سیاحوں کو مشکلات کا سامنا ہوتا ہے چیف سیکرٹری گلگت بلتستان اور آئی جی پی گلگت بلتستان واضح ہدایات کے باوجود کاونوائے سسٹم ختم نہ کرنا ٹرانسپورٹرز کے ساتھ ظلم ہے گلگت بلتستان میں آنے والے سیاحوں کی مشکلات کم کرنے کے لئے حکومت گلگت بلتستان کو اپنی پالیسیوں میں نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے
گلگت بلتستان ٹرانسپورٹرزایسوسی ایشن کے عہدیداران اشرف علی حسینی جنرل سیکرٹری گلگت بلتستان محفوظ الحق جوائنٹ سیکرٹری گلگت بلتستان ال کوہستان پبلک ٹرانسپورٹ صدر گل شہزاد، ال گلگت بلتستان ہائیس ویگن ڈرائیور یونین کے جنرل سیکرٹری محمد یعقوب نے گلگت پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایشو صرف ٹرانسپورٹرز کا نہیں ہے بلکہ کے کے ایچ پر چلنے ہر مسافر کا ایشو ہے جگلوٹ کے مقام پر شام 6 بجے سے لیکر صبح 7 بجے تک گاڑی کو روک کر رکھا جاتا ہے ہالانکہ سیکورٹی کا کوئی ایشو نہیں ہے اور بھاری سیکورٹی بھی تعینات کی گئی ہے اور اوپر سے ہر گاڑی میں ایک سیکورٹی گارڈ بھی ساتھ رکھنا ہے جس کے ساتھ ایک بندوق بھی ہوتی ہے سیکورٹی گارڈ اور بندوق ہونے کی وجہ سے سیاح گلگت بلتستان آنے سے ڈرتے ہیں کئے بار ٹکٹ لینے کے بعد گارڈ کو دیکھ کر سیاحوں نے ٹکٹ ریفنڈ کر کے واپس چلے گئے جس سے ٹرانسپورٹرز کو شدید نقصان اٹھانا پڑا ہے گاڑیوں کی بلاوجہ روکنے کی وجہ سے مسافروں کو ہزاروں روپے دیکر کمرہ لینا پڑتا ہے انہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان پورے پاکستان میں سب سے پر امن علاقہ ہے ایسے اقدامات سے کر کے جی بی کے مثبت چہرے کو مسخ کرنے کی کوشش کی جارہی حکومت کو چاہیے اس پر اقدامات کرے اگر ہمارے مطالبات پورے نہیں ہوئے تو ہماری سقت ختم ہو جائے گی اور ہم چلنا چاہیں گے تو بھی چل نہیں پائیں گے لہزا ہوم سیکرٹری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ جلد از جلد ٹرانسپورٹ کے مطالبات کو مزید تاخیر کا شکار کئے بغیر رمضان المبارک سے پہلے حل کریں ۔

تازہ ترین خبریں