05:47 pm
قومی بیانیہ تشکیل دینے کی ضرورت،وزیراعلیٰ(خطے میں امن ضرور،ذہنوں سے تعصب ختم نہیں ہوا)

قومی بیانیہ تشکیل دینے کی ضرورت،وزیراعلیٰ(خطے میں امن ضرور،ذہنوں سے تعصب ختم نہیں ہوا)

05:47 pm

گلگت (نمائندہ خصوصی) علاقے میں امن ضرور ہے لیکن ذہنوں سے تعصب ختم نہیں ہوا ہے گلگت بلتستان ارتقائی مراحل سے گزررہا ہے جی بی کا بڑا مسئلہ اس کا تھنگ ٹنگ کا نہ ہونا ہے جی بی ایک حساس خطہ ہے بنیادی ایشو ز پر قومی بیانیہ تشکیل دینے کی ضرورت ہے عہد کریں کہ سچی بات کو چھائے نہیں خبر کی تصدیق ضرور کریں تعلیم کے ساتھ تربیت بھی ضروری ہے کوئی کامل انسان نہیں صحافی تحقیقاتی صحافت کو فروغ دیں
صوبے کی انکم گزشتہ تین سال میں سولہ کروڑ سے بڑھ کر ایک ارب 35 کروڑ ہے ۔اخبارات کو اشتہارات صحافیوں کے تنخواہ کے ساتھ مشروط کی ہے پریس کلبز آڈٹ کرادے گرانٹ ملے گا ہمارا واسط صحافی سے ہے مالک سے نہیں۔ان خیالات کااظہار وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے پریس کلب گلگت میں عالمی یوم صحافت اور صحافیوں کے کیپسٹی بلڈنگ کے حوالے سے منعقدہ تین روزہ ورکشاپ کے آخری روز مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوںنے کہاکہ گلگت بلتستان ارتقائی مراحل سے گزر رہا ہے جی بی ان صوبوں کے برابر نہیں جن کا اپنا نظام ہے جی بی کا اپنا این ایف سی نہیں ہمیں مانگ کے پیسے لانے پڑتے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ گلگت بلتستان کا بڑا مسئلہ اسکا تھنک ٹینک کا نہ ہونا ہے۔ اس صوبے کی ذہنی نشونما کی ضرور ت ہے ہم نے اپنی سمجھ کے مطابق اداروں میں ریفامز لائیں ہیں اپنی بساط کے مطابق بہت کچھ کیاہے خطے میں امن قائم کیا اور علاقے کو ترقی کی طرف گامزن کردیا۔ انہوںنے کہاکہ ہم نے ابھی تک اپنا قومی بیانیہ تشکیل نہیں دیا انہوںنے کہاکہ علاقے میں امن ضرور ہے لیکن ذہنوں سے تعصب ختم نہیں ہوا ہے تعصب ترقی کو کھا جاتا ہے سوچنے سیکھنے کی صلاحتیں ختم ہوجاتی ہیں ۔انہوںنے کہاکہ صحافی معاشرے کا ذمہ دار فرد ہے اس کی ذمہ داریاں بھی زیادہ ہیں خبر کو رپورٹ کریں سنی سنائی بات پھیلانے سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے آئیں عہد کریں کہ سچی بات کو چھائینگے نہیں ۔انہوںنے کہاکہ غلطیاں سیاستدانوں سے بھی ہوتی ہیں اور صحافی سے بھی کوئی کامل انسان نہیں انہوںنے کہاکہ تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت بھی لازمی حصہ ہے صرف اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا ہی عقل کل نہیں ہوتا ۔ انہوںنے کہاکہ صحافی تحقیقاتی صحافت کو فروغ دیں حقائق عوام تک پہنچائے ۔وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا کہ ہم نے ابھی تک اخبارات کو دس کروڑ کے اشتہارات دئیے ہیں اور ادائیگیاں بھی کی جاچکی ہے ہم نے اشتہارات کو صحافی کے تنخواہ کے ساتھ مشروط کی ہے ہمارا واسطہ صحافی سے ہے مالک سے نہیں میں جھوٹے وعدے کرنے والوں میں نہیں صوبے میں پیپرا رولز نافذ ہے جس کے تحت پچاس فیصد اشتہارات وفاقی اخبارات کو دینا پڑتا ہے تقریب سے ایڈوائزر انفارمیشن شمس میر سیکرٹری انفارمیشن فدا حسین نے بھی خطاب کئے قبل ازیں صدر گلگت پریس کلب خورشید احمد نے سپاسنامہ پیش کیا اور مہمان خصوصی اور دیگر مہانوں کا شکریہ ادا کیا۔ تقریب کے آخر میں گلگت پریس کلب کے نومنتخب عہدیداروں اور ایگزیکٹیو باڈی کے ممبران سے وزیر اعلیٰ نے حلف لیا صدر پریس کلب خورشید احمد نے مہمان خصوصی وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان اور دیگر مہمانوں کو سوینئرز بھی پیش کئے تقریب میں معروف شاعر عبدالخالق تاج نے اپنے مذاحیہ کلام سے مہمانوں محوظ کیا اور ان کے چہروں پر مسکراہٹیں بھیکر دئیے ۔معروف صحافی صدر سکردو پریس کلب قاسم بٹ نے صحافیوں کو درپیش بنیادی مسائل سے وزیر اعلیٰ کو آگاہ کیا تین روزہ ورکشاپ میں گلگت بلتستان کے تمام پریس کلبوں کے عہدیداروں اور ورکنگ جرنلسٹوں کی بڑی تعداد نے شرکت کئے۔

تازہ ترین خبریں