05:46 pm
ہنزہ کے مسائل حل نہ ہوئے توشاہراہ قراقرم بندکرکے دھرنادینگے،اے پی سی

ہنزہ کے مسائل حل نہ ہوئے توشاہراہ قراقرم بندکرکے دھرنادینگے،اے پی سی

05:46 pm

ہنزہ(بیورورپورٹ)ہنزہ میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ سمیت دیگر دیرینہ مسائل کے حل میں غیر معمولی تاخیر پر آل پارٹیز اجلاس طلب کیا گیا جس میں تمام پارٹیوں کے عہدیداروں سمیت ہنزہ بزنس ایسوسی ایشن،ہنزہ ہوٹلز ایسوسی ایشن،ہنزہ ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن سمیت سماجی تنظیموںکے ذمہ داران نے شرکت کی اجلاس میں بجلی کی غیر اعلانیہ اور طویل لوڈ شیڈنگ اور محکمہ برقیات کے ذمہ داروں کی جانب سے اعلیٰ حکام کو
غلط بریفنگ اور جھوٹے دعوئوں اور وعدوں اور آئے روز نت نئے بہانوں کے ذریعے عوام کو بیوقوف بنانے کی کوشش پر سخت تشوش کا اظہار کیا گیا اور ہنزہ کو ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت حق نمائندگی سے محروم کرنے،روزگار میں ہنزہ کے ساتھ امتیازی سلوک،صحت اور تعلیم و ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر ی حربے استعمال کرنے کے اقدام پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا گیا ہے کہ ہنزہ کے مسائل بالخصوص بجلی کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر قابو پانے اور دیرپا منصوبوں جن میں عطاء آباد 4میگاواٹ سر فہرست ہے کے پی سی ون کی منظوری میں تاخیر کی صورت میں شاہراہ قراقرم بند کرکے مسائل کے حل تک احتجاجی دھرنا دیا جائے گا تا ہم اس سلسلے میں وقت اور جگے کا تعین اگلے اجلاس میں کیا جائے گا جو آئندہ ایک دو روز میں طلب کیا جائے گا۔اجلاس میں کہا گیا کہ وزیر اعظم کے مشیر امین اسلم کی ہنزہ آمد اور التت میں ایک تقریب میں ہنزہ میں بجلی کے بحران کے حوالے سے آگاہ کیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ وہ وزیر اعظم سے ا س حوالے سے بات کریں اس موقع پر مشیر وزیر اعظم کو غلط بریفنگ دی گئی تھی جس کی وجہ سے امین اسلم نے سٹیج سے اعلان کیا کہ آئندہ دو دنوں میں دومیگاواٹ بجلی شامل ہو جائے گی جبکہ دیگر منصوبوں کی جلد تکمیل کی بات کی اس وقت صورتحال یہ ہے کہ نہ دو میگاواٹ سسٹم میں شامل ہو سکی ہے نہ ہی چیف سیکریٹری کے وعدے کے مطابق اپریل کے آخر تک مسگر سے بجلی کی ترسیل ممکن ہو سکی ہے اور نہ عطاء آؓاد 4میگاواٹ کے یی سی ون کی منظوری ملی ہے ڈیزل جنریٹرز سے بھی بجلی بند ہونے سے ہنزہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہے اس صورتحال بالخصوص وزیر اعظم کے مشیر کو غلط بریفنگ سے چیف سیکریٹری کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے تو دوسری جانب سے ہنزہ میں سیاحوں کی آمد اور اندھیرے کے راج کی وجہ سے صوبائی و وفاقی حکومت کا اصل چہرہ سامنے آگیا ہے ۔اجلاس میں کہا گیا کہ ہنزہ کو ایک سوچی سمجھ ساز کے تحت حق نمائندگی سے محروم رکھا گیا یہاں قانون وانصاف کی دھجیاں بکھیر دی گئی ہے منتخن نمائندے کو نا اہل کرنے کے لئے الیکشن کمشنر کو استعمال کیا گیا جبکہ ضمنی انتخابات کے لئے چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی آڑے آگئی۔ہنزہ میں روزگار کے مسائل سنگین ہو رہے ہیں سرکاری اداروں میں تعیناتیوں کے دوران ہنزہ کے عوا م کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے پینے کے صاف پانی،ششپر گلیشئر کے ممکنہ خطرے کے حوالے سے حکومت کی خاموشی،صھت تعلیم اور ترقیاتی منصوبوں کی تعمیر میں تاخیر جیسے مسائل سے مسائل جنم لے رہے ہیں ۔آل پارٹیز اجلاس میں آئندہ بہت جلد احتجاج کی حکمت عملی مرتب کرنے کا اعلان کرتے ہوئے فیصلہ کیا گیا ہے آل پارٹیز کے آئندہ اجلاس میں احتجاجی دھرنے کی تاریخ اور وقت کا تعین کیا جائے گا۔اجلاس میں نور محمد،فدا کریم،سلمان علی،خوش آمدین،فدا علی،ریاض الدین اور دیگر نے شرکت کی۔

تازہ ترین خبریں