05:57 pm
فاریسٹ ایکٹ 2019گلگت بلتستان اسمبلی سے متفقہ منظور(درختوں کی غیرقانونی کٹائی رکے گی،عمران وکیل)

فاریسٹ ایکٹ 2019گلگت بلتستان اسمبلی سے متفقہ منظور(درختوں کی غیرقانونی کٹائی رکے گی،عمران وکیل)

05:57 pm

گلگت (نمائندہ خصوصی) جی بی اسمبلی نے فارسٹ ایکٹ 2019 کی قومی دستاویز قرار دیکر متفقہ منظوری دے دی ایکٹ کے منظور ہونے کے بعد جنگلات کے غیر قانونی کٹائی کی روک تھام میں مدد ملے گی۔ مقامی ہوٹل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر جنگلات عمران وکیل، چیف کنزرویٹر جی بی ڈاکٹر ذاکر، پروجیکٹ ڈائریکٹر محمد اسماعیل ،ڈسٹرکٹ فارسٹ آفیسر محمود غزنوی نے کہاکہ گلگت بلتستان میں جنگلات کے تحفظ کے لئے کوئی قوانین نہیں تھے
فارسٹ ایکٹ 1927 سے مدد لی گئی تھی جوکہ غیر قانونی کام کو روکنے کے لئے ناکافی تھے ۔گلگت بلتستان کے ٹوٹل فارسٹ کا 750 فیصد جنگل دیامر میں ہیں موجودہ ایکٹ کوجہاں عوام دوست بنایا گیا ہے وہاں اس میں غیر قانونی کام کو بھی روکا گیا ہے اس ایکٹ کے تحت محکمہ جنگلات کو جنگلات فورس ڈکلٹر کیا گیا ہے آئندہ اسمبلی سیشن میں وائلڈ لائف بھی پیش کیاجائے گا اس ایکٹ کے تحت ڈسٹرکٹ کنزرویشن کمیٹز کو بااختیار بنایا گیا ہے جزاو سزا کے قوانین کو متعارف کرایا گیا ہے۔ گلگت بلتستان میں انگریز دور کا فارسٹ ایکٹ تھا جس میں سرکار کو مضبوط بناکر عوام کو کمزور کیا گیا موجودہ ایکٹ جہاں عوام دوست ہے وہاں غیر قانونی کام کو بھی روکا گیا انہوںنے کہاکہ فارسٹ ایکٹ 2019 کے تحت فارسٹ ڈیپارٹمنٹ کو فارسٹ فورس ،ڈکلیٹر کیا گیا ہے اس ایکٹ کے تحت کمیونٹی کو بھی مضبوط بنایا گیا ہے محکمہ فارسٹ کو درپیش مشکلات کو اس ایکٹ کے ذریعے ددر کئے گئے ہیں کمیونٹی کی شمولیت کو بھی قانونی تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ فارسٹ ایکٹ 2019 سے قبل کوئی قوانین نہیں تھے ایک درخت کا ٹنے پر بھی دس ہزار روپے جرمانہ اور پورے جنگل کو کاٹنے پر بھی دس ہزار جرمانہ کیا جاتا تھا۔ انہوںنے کہاکہ گلگت بلتستان 1975 میں وائلڈ لائف ایکٹ نافذ ہے جی بی میں ابھی تک ٹرافی ہیٹنگ کی مد میں دو ارب روپے عوام میں تقسیم کئے گئے ہیں جی بی وائلڈ لائف کے تحفظ کے لئے بھی آئندہ اسمبلی سیشن میں بل پیش کیا جائے گا انہوںنے کہاکہ گلگت بلتستان میں دو قسم کے جنگلات پائے جاتے ہیں ایک گورننس پروٹیکٹڈ فارسٹ کہاجاتا ہے جو دیامر کے علاوہ باقی اضلاع میں پایا جاتا ہے جبکہ دوسرا پراوئیویٹ فارسٹ کہلاتا ہے جو صرف دیامر میں پایا جاتا ہے۔ انہوںنے کہاکہ سابقہ قوانین میں سزائیں اورجرمانے انتہائی ناکافی تھیں جس کا فائدہ قانون شکن لوگ لیتے تھے اب ان کو پوری طرح سے موجودہ دور کے ہم آہنگ بنائے گئے ہیں اور مناسب جرمانے اور سزائیں بھی تجویز کی گئی ہیں ۔انہوںنے کہاکہ قیمتی جڑی بوٹیاں گلگت بلتستان میں کافی بڑی مقدار میں پائی جاتی ہے جن سے مقامی آبادی لاتعداد فائدہ اٹھاسکتے ہیں لیکن موجودہ قوانین میں ان قیمتی جڑی بوٹیوں کی فروخت اور ترسیل کے لئے کوئی واضح قانون ،طریقہ کارنہیں تھا جونئے ایکٹ میں تفصیل کے ساتھ واضح کیاگیا ہے پاکستان اس وقت مدسجانی تبدیلیوں سے متاثرہ ممالک میں ساتویں پوزیشن پرموجود ہے ان تبدیلیوں کا احاطہ کرنے کے لئے بین الصوبائی سطح پر مختلف اقدامات تجویز کئے گئے ہیں ترمیم شدہ قوانین میںان فوائد کو بروئے کار لاکر اپنے قدرتی وسائل کی بہتر استحکام کے لئے گنجائش پیدا کی گئی نئے قوانین محکمہ جنگلات و جنگلی حیات کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ کوئی بھی محفوظ اراضی کو عوامی مفاد میں ریزورو فارسٹ یاو بلیک فارسٹ قرار دے سکتا ہے انہوںنے کہاکہ گلگت بلتستان وائلڈ لائف ایکٹ 2019 تقریباً مکمل ہے اور اخری مراحل پر ہے اس کو بھی آئندہ اسمبلی سے منظور کرایا جائے گا جو وائلڈ لائف ایکٹ 1975 کی جگہ لے گا۔

تازہ ترین خبریں