06:13 pm
(ترقیاتی ورکنگ پارٹی کااجلاس)3ارب55کروڑ61لاکھ کے 7منصوبے منظور

(ترقیاتی ورکنگ پارٹی کااجلاس)3ارب55کروڑ61لاکھ کے 7منصوبے منظور

06:13 pm

گلگت(اوصاف نیوز)وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن کے زیر صدارت ہونے والے گلگت بلتستان ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (جی بی ڈی ڈبلیو پی) کے اجلاس میں 3 ارب55 کروڑ 61 لاکھ روپے مالیت کے7منصوبوںکی منظوری دی۔محکمہ برقیات کے منظور کئے جانے والے 5منصوبوںکی مجموعی لاگت 2 ارب 20 کروڑ 81لاکھ اور گلگت ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے منظور کئے جانے والے منصوبے کی مجموعی لاگت 93کروڑ79لاکھ، محکمہ تعمیرات
کے منظور کئے جانے والے منصوبوں کی مجموعی لاگت 41 کروڑ روپے ہے۔ محکمہ برقیات کے منصوبوں میں گلگت بلتستان کے مختلف اضلاع کیلئے 13 میگاواٹ کے ڈیزل جنریٹرز کی خریداری اور تنصیب اس کے علاوہ 2 میگاواٹ ہائیڈرو پاور پروجیکٹ بٹورا پھسو گوجال کی تعمیر اور حسن آباد پاور پروجیکٹ کی اپ گریڈیشن، 1 میگاواٹ ہائیڈرو پاور پروجیکٹ چھلت نگر کی بحالی اور 2 میگاواٹ ہائیڈرو پاور پروجیکٹ سمائر نگرکی منظوری دی گئی۔ سینٹری سیوریج سسٹم بمعہ ٹریٹمنٹ پلانٹ زون2 اور3کے منصوبے کی بھی منظوری دی گئی۔ محکمہ تعمیرات کے منظوری کئے جانے والے منصوبوں میں چھموگڑھ تا عالم برج روڈ کی توسیع اور میٹلنگ سمیت حلقہ3 کے مختلف شاہراہوں کی میٹلنگ اور توسیع کے منصوبے کی بھی منظوری دی گئی۔گلگت بلتستان میں بجلی گھر(پاور پروجیکٹس) ندی نالوں میں تعمیر کئے گئے ہیںموسم سرما میں پانی کم ہونے کی وجہ سے بجلی گھروں کی استعداد کار میں کمی ہوتی ہے اور گرمیوں میں سیلاب کا خدشہ رہتا ہے جس کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیزل جنریٹرز خریدنے کی منظور دی گئی ہے تاکہ بوقت ضرورت تھرمل جنریٹرز کا استعمال کیا جاسکے ۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بلیک آئوٹ سے بچا جاسکے۔ محکمہ برقیات کی جانب سے تھرمل جنریٹرز کی خریداری کیلئے 9 ماہ کا وقت مانگا گیا۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے 9ماہ کے مدت سے اختلاف کرتے ہوئے 6 کی قلیل مدت میں تھرمل جنریٹرز کی خریداری عمل میں لانے اور فعال بنانے کے احکامات دیئے۔ تھرمل جنریٹرز کا استعمال ہنزہ، سکردو، دیامر اور گلگت میں سردیوں میں بجلی کی کمی کو دور کرنے میں بھی معاون ثابت ہوگا۔واضح رہے کہ ایک میگاواٹ ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کی تعمیر میں بھی کئی سال لگتے ہیں جس کو مدنظر رکھتے ہوئے شارٹ ٹرم پالیسی کے تحت تھرمل جنریٹرز کی خریداری کی جارہی ہے۔ گلگت بلتستان میں کارڈیک ہسپتال، کینسر ہسپتال اور ایم آر آئی جیسے انتہائی اہم منصوبے فعال ہورہے ہیں جن کیلئے بلاتعطل بجلی کی ترسیل درکار ہوتی ہے۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے محکمہ برقیات کے متعلقہ آفیسران کو ہدایت کی ہے کہ ریکوری اور بلنگ کے نظام کو مزید بہتر بنانے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہاکہ گلگت بلتستان حکومت دیگر صوبوں سے 70 فیصد سستی بجلی عوام کو فراہم کررہی ہے جسے جاری رکھا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہاکہ گلگت بلتستان حکومت کی بہت بڑی کامیابی ہے کہ گلگت بلتستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کے ایف ڈبلیو ڈیڑھ ارب کا گرانٹ گلگت بلتستان کو دے رہاہے جس سے ساڑھے 6 میگاواٹ بجلی کے منصوبے تعمیر کئے جارہے ہیں جن میں ہائیڈرو پاور پروجیکٹ بٹورا پھسو اور حسن آباد پاور پروجیکٹ کی اپ گریڈیشن اور ایک میگاواٹ ہائیڈرو پاورپروجیکٹ چھلت نگر کی بحالی اور2 میگاواٹ ہائیڈرو پاور پروجیکٹ سمائر نگر شامل ہیں۔ گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت نے 6 میگاواٹ ہائیڈرو پاور پروجیکٹ عطاء آباد کی تعمیر کیلئے بھی کے ایف ڈبلیو کو سفارش کی ہے۔ اس سے قبل کے ایف ڈبلیو نے گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ صحت کے شعبے کی بہتری کیلئے کام کیا تھا۔ حکومت کے اقدامات، شفافیت اور بھرپور تعاون کی وجہ سے کے ایف ڈبلیو نے گلگت بلتستان حکومت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پاور سیکٹر میں بھی ڈیڑھ ارب روپے گرانٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا کہ دنیا بھر میں مکس انرجی کے ذریعے عوام کو بجلی فراہم کی جاتی ہے اسی لئے حکومت گلگت بلتستان مکس انرجی کے تحت عوام کو بجلی فراہم کرنے کیلئے اقدامات کررہی ہے۔ محکمہ برقیات جنریٹر کی مرمت کیلئے اپنے ورکشاپ میں صلاحیت پیدا کرے ۔ بلوں کے حوالے سے عوامی شکایات کی شنوائی کیلئے کاونٹر قائم کیا جائے جہاں پر صارفین کے شکایات کا ازالہ کیا جاسکے۔ گھروں میں بجلی کے بلوں کی بروقت فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ سیوریج سسٹم گلگت کیلئے انتہائی اہم منصوبہ ہے پہلے مرحلے میں گلگت کے نشیبی علاقوں کے سیوریج کا نظام مین ٹرنک سے منسلک کیا جائے۔ چھموگڑھ تا عالم برج روڈ متبادل کے کے ایچ کی حیثیت رکھتا ہے اس شاہراہ کی تعمیر پیور مشین کے تحت کیا جائے۔

تازہ ترین خبریں