06:10 pm
چیف انجینئررشیداحمد،صدرپیپلزپارٹی امجدایڈووکیٹ لڑپڑے،تلخ جملوں کاتبادلہ

چیف انجینئررشیداحمد،صدرپیپلزپارٹی امجدایڈووکیٹ لڑپڑے،تلخ جملوں کاتبادلہ

06:10 pm

گلگت(چیف رپورٹر)سیکریٹری تعمیرات عامہ کے دفتر میں چیف انجینئر رشید احمد اور پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے صدر امجد حسین ایڈوکیٹ کے درمیان جھگڑا،تلخ جملوں کا تبادلہ،اس موقع پر اپوزیشن لیڈر کیپٹن(ر)محمد شفیع خان اور ممبر گلگت بلتستان اسمبلی جاوید حسین اور سیکریٹری تعمیرات عامہ سمیت بعض سرکاری آفیسران بھی موجود تھے ۔ذرائع کے مطابق پیر کے روز سیکریٹری تعمیرات عامہ کے دفتر میں
چیف انجینئر ورکس ڈپارٹمنٹ رشید احمد خان اور پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے صدر امجد حسین ایڈوکیٹ لڑ پڑے اور تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا اس موقع پر گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر محمد شفیع خان اور ممبر اسمبلی جاوید حسین بھی موجود تھے چیف انجینئر اور امجد حسین ایڈوکیٹ کے درمیان الفاظ کے جنگ کا سلسلہ بڑی دیر تک جاری رہا تا ہم موقع پر موجود سیاسی رہنمائوں اور سرکاری آفیسران نے مداخلت کرکے جھگڑا طول پکڑنے ،کسی قسم کی گالم گلوچ یا ہاتھا پائی سے قبل ہی ختم کرا دیا گیا۔اس حوالے سے اوصاف سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے صدر امجد حسین ایڈوکیٹ نے کہا کہ ہم سیکریٹری سے بات کر رہے تھے اور تعمیر و ترقی کی بات چیت چل رہی تھی چیف انجینئر درمیان میں گھس گئے ،دفتر کے تقدس کا خیال رکھا ورنہ نوبت ہاتھا پائی تک جا پہنچی تھی ایک ٹھیکیدار جس نے ہسپتال کی تعمیر کا منصوبہ مکمل بھی کیا ہے اور چیف سیکریٹری کی جانب سے اچھے تعمیر پر تعریفی سند بھیملی ہے ہم اس سلسلے میں سیکریٹری سے بات کر رہے تھی ادھر سے چیف انجینئر نے برملا طور پر کہا کہ یہ ٹھیکیدار پیپلز پارٹی کا ہے اور میں مسلم لیگ ن کا نمائندہ ہوں اس لئے اس فائل کی منظوری نہیں دیتا۔ واقعی چیف انجینئر سرکاری آفیسر کم مسلم لیگ ن کے کارکن زیادہ لگتے ہیں اس بات پر گرما گرمی ہو گئی ہم سیاسی لوگ ہیں ہم اپنے کارکنوں کے جائز کام کریں گے اور جائز کام میں کسی قسم کی امتیازی سلوک برداشت نہیں کریں گے بہر حال میں نے سیکریٹری کے دفترکے تقدس کا خیال رکھا اور کسی بھی قسم کی جارہانہ اقدام سے گریز کیا ۔امجد ایڈوکیٹ نے کہا کہ چیف انجینئر ریاستی اداروں کا نا م لیکر لوگوں کو ڈراتا دھمکاتا ہے پچھلے 4سال سے کس قانون کے تحت اور کس کس کے کہنے پر ایک سٹیشن پر بیٹھا ہوا ہے اور کس کس کے ساتھ لین دین میں حصہ ہے تحقیقاتی ادارے پوچھتے ہی نہیں۔انہوں نے کہا کہ مینٹی نینس کی مد میں 80کروڑ کا بجٹ ہے لیکن سالانہ3ارب روپے خرچ ہوئے4سالوں میں 12ارب روپیکی کرپشن کی گئی ہے اور ڈکار بھی نہیں لیا ،ٹھیکوں کے فروخت اور مینٹی نیس کی مد میں ہونے والی کرپشن پر نیب ،ایف آئی اے اور سی ایم آئی ٹی خاموش ہے اور کوئی ادارہ تحقیقات نہیں کر رہی لیکن میں نہیں چھوڑوں گا ایک ایک پائی کا حساب لوں گا ان کی کرپشن پر وائٹ پیپر جاری کریں گے اور ڈی جی نیب تک جائوں گا اور مینٹی نینس کی مد میں ہونے والی کرپشن کو بے نقاب کریں گے ۔ انہوں نے مذید کہا کہ جعلی پی سی ون پر دستخط نہ کرنے والے ایماندار آفیسروں کا تبادلہ کیا جاتا ہے اور اور ایسے آفیسر تعینات کئے جاتے ہیں جو ان کے غیر قانونی احکامات بھی ماننے کے لئے تیار ہوں ۔اب حساب کتاب کا وقت آچکا ہے کرپٹ عناصر احتساب کے لئے تیار رہیں۔اس حوالے سے اوصاف سے گفتگو کرتے ہوئے چیف انجینئر رشید احمد خان نے کہا کہ سیکریٹری تعمیرات عامہ کے دفتر میں GRCکی میٹنگ چل رہی تھی اس دوران امجد حسین ایڈوکیٹ اپوزیشن لیڈر محمد شفیع خان ۔جاوید حسین اورذوالفقار علی مرادکے ہمراہ آئے اور بات بات پر امجد حسین ایڈوکیٹسیکریٹری کودبائو میں ڈالنے کی کوشش کر رہے تھے میں نے کہا کہ سرکاری دفاتر میں کام دھونس دھمکیوں سے نہیں قانون کے مطابق ہوتے ہیں غلط کام ہوا توہم جواب دہ ہیں کسی قسم کا دبائو قبول نہیں کیا اور میرٹ پر کام کیا ہے اور کرتے رہیں گے اس بات پر گرما گرمی شروع ہو گئی۔چیف زنجینئر رشید احمد نے کہا کہ ٹینڈر پالیسی ہے ڈھائی کروڑ کے لئے علحٰیدہ پالیسی ہے ساڑھے 6کروڑ کے لئے الگ اور ساڑھے 6کروڑ سے اوپر کی لاگت کے لئے الگ پالیسی ہے جو ٹھیکیدار پالیسی پر نہیں اتر سکتے وہ پہلے سیاسی دبائو ڈالتے ہیں اور دبائو قبول نہ کریں تو الزامات لگاتے ہیں محکمہ تعمیرات عامہ کو سٹریم لائن کرنے کی کوشش کی لیکن دبائو بڑھتا جا رہا ہے ۔ہماری محنت کی وجہ سے آج کوئی بیمار منصوبہ نہیں تما م منصوبے بروقت مکمل ہو رہے ہیں اور منصوبوں پر کام معیار اور تیز رفتاری کے ساتھ جاری ہے۔

تازہ ترین خبریں