06:12 pm
(سپریم کورٹ)جی بی کی آئینی حیثیت پر فریقین کونوٹس جاری

(سپریم کورٹ)جی بی کی آئینی حیثیت پر فریقین کونوٹس جاری

06:12 pm

اسلام آباد(ابرار حسین استوری) سپریم کورٹ آف پاکستان میں گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت سے متعلق عملدرآمد کا معاملہ، قائم مقام چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سات رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی، سپریم کورٹ نے وزارت امور کشمیر کی دائر درخواست پر اٹارنی جنرل سمیت فریقین کو نوٹسس جاری کر دیا، سماعت شروع ہوئی تو اٹارنی جنرل انور منصور نے عدالت سے استدعا کی کہ ہمیں عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کے لیے مزید وقت دیا جائے
. جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ آپ نے پہلے ہی عدالت میں جو تجویز جمع کرائی تھی کہ حکومت ایکٹ آف پارلمنٹ کے ذریعے عملدرامد کرائیں گی اس کا کیا بنا. جس پر اٹارنی جنرل انوار منصور نے عدالت کو بتایا کہ اسی تجویز پر عملدرآمد کے لیے وقت درکار ہے اور اسی پر ہی یہ درخواست دی ہے. دروان سماعت گلگت بلتستان سے آئے ہوئے وکلائ￿ روسڑم میں کھڑے ہوئے تو اٹارنی جنرل نے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے انہیں بیٹھنے کا کہا تاہم احسان ایڈوکیٹ، جاوید اقبال اور کمال حسین روسٹرم پر ہی کھڑے رہے اور احسان ایڈوکیٹ نے عدالت سے گزارش کرتے ہوئے کہا کہ ہم گلگت بلتستان سے آئے ہیں وفاقی اور صوبائی حکومت نے عدالت کے 2019 کے آرڈر پر عمل کرنے کے بجائے سابق انتظامی حکم 2018 کے تحت گلگت بلتستان میں چیف جسٹس تعینات کر دیا ہے. اسی وجہ وہاں جوڈیشل نظام بھی خراب ہونے کا خطرہ ہے، قائم مقام چیف جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کہ اب تو وہاں جج بھی تعینات ہوا ہے، جس پر احسان ایڈوکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ متعلقہ جج کی تعیناتی کے خلاف احتجاج شروع ہو چکے ہیں، جسٹس عظمت سعید نے گلگت بلتستان سے آئے ہوئے وکلاء کی طرف مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ اسی وجہ سے تو ان تمام فریقین کو نوٹس جاری کر رہے ہیں تاکہ اپ سمیت سب کو سنے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کرینگے جس کے بعد کیس کی مزید سماعت اگلے ہفتے تک کے لیے ملتوی کر دی گئی، سماعت کے دوران ایڈوکیٹ جنرل گلگت بلتستان محمد اقبال بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے. یاد رہے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سات رکنی لاکر بینچ نے 17 جنوری 2019 کو تاریخی فیصلے میں گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت برقرار رکھتے ہوئے آئینی حقوق دینے کا حکم دیا ت?ا جس پر عملدرآمد کے بجائے وزارت امورکشمیر و گلگت بلتستان نے درخواست میں عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کے لیے مزید وقت کی استدعا کی ت?ی. سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے پر عملدرآمد کے لیے 14 دن کا وقت دیا ت?ا. تاہم وزارت امور کشمیر و گلگت_بلتستان فیصلے پر عملدرآمد کرانے میں ناکام رہی تھی۔اسلام آباد(اوصاف نیوز) سپریم کورٹ آف پاکستان میں گلگت بلتستان کی آئینی حثیت سے متعلق عملدرآمد کا معاملہ، قائم مقام چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سات رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی، سپریم کورٹ نے وزارت امور کشمیر کی دائر درخواست پر اٹارنی جنرل سمیت فریقین کو نوٹسز جاری کر دیا، سماعت شروع ہوئی تو اٹارنی جنرل انور منصور نے عدالت سے استدعا کی کہ ہمیں عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کے لیے مزید وقت دیا جائے. جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ آپ نے پہلے ہی عدالت میں جو تجویز جمع کرائی تھی کہ حکومت ایکٹ آف پارلمنٹ کے ذریعے عملدرامد کرائیں گی اس کا کیا بنا جس پر اٹارنی جنرل انوار منصور نے عدالت کو بتایا کہ اسی تجویز پر عملدرآمد کے لیے وقت درکار ہے اور اسی پر ہی یہ درخواست دی ہے. دروان سماعت گلگت بلتستان سے آئے ہوئے وکلائ￿ روسڑم میں کھڑے ہوئے تو اٹارنی جنرل نے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے انہیں بیٹھنے کا کہا تاہم احسان ایڈوکیٹ، جاوید اقبال اور کمال حسین روسٹرم پر ہی کھڑے رہے اور احسان ایڈوکیٹ نے عدالت سے گزارش کرتے ہوئے کہا کہ ہم گلگت بلتستان سے آئے ہیں وفاقی اور صوبائی حکومت نے عدالت کے 2019 کے آرڈر پر عمل کرنے کے بجائے سابق انتظامی حکم 2018 کے تحت گلگت بلتستان میں چیف جسٹس تعینات کر دیا ہے. اسی وجہ وہاں جوڈیشل نظام بھی خراب ہونے کا خطرہ ہے، قائم مقام چیف جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کہ اب تو وہاں جج بھی تعینات ہوا ہے، جس پر احسان ایڈوکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ متعلقہ جج کی تعیناتی کے خلاف احتجاج شروع ہو چکے ہیں، جسٹس عظمت سعید نے گلگت بلتستان سے آئے ہوئے وکلائ￿ کی طرف مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ اسی وجہ سے تو ان تمام فریقین کو نوٹس جاری کر رہے ہیں تاکہ اپ سمیت سب کو سنے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کریں گے. جس کے بعد کیس کی مزید سماعت اگلے ہفتے تک کے لیے ملتوی کر دی گئی، سماعت کے دوران ایڈوکیٹ جنرل گلگت بلتستان محمد اقبال بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے. یاد رہے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سات رکنی لاکر بینچ نے 17 جنوری 2019 کو تاریخی فیصلے میں گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت برقرار رکھتے ہوئے آئینی حقوق دینے کا حکم دیا ت?ا جس پر عملدرآمد کے بجائے وزارت امورکشمیر و گلگت بلتستان نے درخواست میں عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کے لیے مزید وقت کی استدعا کی ت?ی. سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے پر عملدرآمد کے لیے 14 دن کا وقت دیا ت?ا. تاہم وزارت امور کشمیر و گلگت_بلتستان فیصلے پر عملدرآمد کرانے میں ناکام رہی تھی۔سپریم کورٹ نے گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت سے متعلق عملدرآمد کیس میں وزارت امور کشمیر کی درخواست پر فریقین کو نوٹسز جاری کر تے ہوئے کیس کی سماعت ایک ہفتے تک ملتوی کردی ہے۔پیر کو سپریم کورٹ میں گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت سے متعلق عملدرآمدمعاملہ پر سماعت قائم مقام چیف جسٹس جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سات رکنی لارجر بینچ نے کی۔ دوران سماعت اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں گلگت بلتستان کو آئینی حقوق دینے کا حکم دیا تھا وزارت امور کشمیر فیصلے پر عملدرآمد کرانے میں ناکام رہی ہے فیصلے پر عملدرآمد کیلئے وقت دیاجائے جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ آپ نے جو تجویز جمع کرائی تھی کہ پارلیمنٹ کے ذریعے فیصلے پر عملدرآمد کروایا جائیگا اس کا کیا بنا ء اٹارنی جنرل نے کہا کہ اسی تجویز پر عملدرآمد کیلئے وقت درکار ہے نمائندہ گلگت بلتستان بار کونسل نے اس موقع پر عدالت کو بتایا کہ عدالت کے کلچر پر عمل کرنے کی بجائے حکومت نے سابق انتظامی حکم کے تحت ایک مزید جج کی تعیناتی عمل میں لائی ہے جس پر جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ معاملے میں فریقین کو نوٹسز جاری کررہے ہیں تاکہ سب کا موقف سامنے رہے عدالت نے وزارت امور کشمیر کی درخواست پر کیس کی سماعت ایک ہفتے کیلئے ملتوی کردی ہے۔

تازہ ترین خبریں