05:55 pm
سپریم کورٹ،گلگت بلتستان کے آئینی حقوق سے متعلق وفاق سے پھررائے طلب

سپریم کورٹ،گلگت بلتستان کے آئینی حقوق سے متعلق وفاق سے پھررائے طلب

05:55 pm

اسلام آباد(ابرار حسین استوری) سپریم کورٹ میں گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت پر عملدرآمد سے متعلق کیس کی سماعت جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سات رکنی لاجر بینچ نے کی۔سماعت شروع ہوئی تو جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کہ حکومت نے قانون سازی کیلئے مزید مہلت کی درخواست دائر کی ہے جس کے مطابق حکومت نے قانون میں کچھ ترامیم تجویز کی ہیں، تاہم گلگت بلتستان کے حوالے سے حکومت کا واضح موقف نہیں ہے، گلگت بلتستان کے حوالے سے حکومت کسی کی ڈکٹیشن پر چل رہی ہے
، قانون سازی میں مزید مہلت کی دائر کردہ درخواست میں نظرثانی کی استدعا کی گئی ہے،دوران سماعت جسٹس عظمت سعید نے گلگت بلتستان کے وکلاء سے استفسار کیا کہ اپ کے وکیل سلمان اکرم راجا کہاں ہیں کیونکہ آپ اور آپ کے وکیل نے تو فیصلے پر ریویو پیٹشن دائر کی ہوئی ہے، جس پر نمائندہ گلگت بلتستان بار کونسل نے عدالت کو بتایا کہ سلمان اکرم راجا لاہور میں ہیں. جس پر جسٹس عظمت سعید نے کہا گلگت بلتستان کا اتنا اہم معاملہ ہے اور سلمان اکرم راجا نے دلائل دینے ہیں اور وہ خود عدالت میں موجود نہیں، جبکہ گلگت بلتستان بار کونسل نے عدالت کو بتایا کی ریو پیٹشن واپس لینے کے لئے پہلے ہی درخواست دے چکے ہیں.سماعت کے دوران گلگت بلتستان کے وکلاء ایک دوسرے سے آگے بازی لیجا نے کے چکر میں لگے رہے. ریمارکس کے دوران گلگت بلتستان بار کونسل، ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن، گلگت بلتستان بار ایسوسی ایشن کے وکلاء روسٹرم میں کھڑے تھے اور دلائل دے رہے تھے. احسان علی ایڈوکیٹ کے بار بار اشارہ کرنے کے باوجود دیگر وکلاء ہچکچاہٹ کا شکار نظر آئے تو احسان علی ایڈوکیٹ نے آخری لمحے پر ایڈووکیٹ جنرل گلگت بلتستان محمد اقبال کے عقب سے نمودار ہوئے اور عدالت میں ایک بار پھر گلگت بلتستان میں غیر مقامی جج کی تعیناتی پر سوالات اٹھا دئے۔احسان علی ایڈوکیٹ کہا کہ حکومت نے گلگت بلتستان میں عدالتی حکم کے برعکس جج تعینات کیا ہے اسے ڈی نوٹیفائی کیا جائے جس پر جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ آئندہ سماعت پر اس حوالے سے بات کریں گے کیونکہ اس وقت اٹارنی جنرل بھی عدالت میں موجود نہیں ہیں۔عدالت نے گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت سے متعلق وفاقی حکومت سے رائے طلب کرلی۔عدالت نے اپنے حکم دیا کہ وفاقی حکومت بتائے گلگت بلتستان سے متعلق حکومت کا کیا موقف ہے، اس موضوع پر اٹارنی جنرل سے کم کسی کو نہیں سنیں گے، اٹارنی جنرل کی غیر موجودگی کے باعث کیس کی سماعت عید کے بعد تک ملتوی کر دی گئی، دوران سماعت اپوزیشن لیڈر گلگت بلتستان اسمبلی کیپٹین ریٹائرڈ محمد شفیع،ایڈووکیٹ جنرل محمد اقبال، صدر ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کمال حسین، سنئیر وکیل احسان ایڈوکیٹ،جاوید اقبال و دیگر موجود تھے۔

تازہ ترین خبریں