05:56 pm
گلگت،ڈاکٹرطارق پرحملہ کرنیوالے مدرس کیخلاف مقدمہ درج(ٹیچرایسوسی ایشن کی سکولوں کوتالے لگانے کی دھمکی)

گلگت،ڈاکٹرطارق پرحملہ کرنیوالے مدرس کیخلاف مقدمہ درج(ٹیچرایسوسی ایشن کی سکولوں کوتالے لگانے کی دھمکی)

05:56 pm

گلگت (محمد ذاکرسے) گلگت سٹی ہسپتال کشروٹ کے ای این ٹی سپیشلسٹ ڈاکٹر طارق شریف پر قاتلانہ حملہ کرنے والے ٹیچر خالق امان پر دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرکے انوسٹی گیشن ونگ منتقل کردیا گیا مخالف گروپ نے ڈاکٹر طارق شریف کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لئے ماڈل تھانہ کشروٹ میں درخواست دیدی۔ ٹیچر کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے پر ٹیچرز ایسوسی ایشن بھی میدان میں کود پڑی دہشت گردی ایکٹ ختم نہ کرنے پر آج سے تمام سکولوں پر تالے لگاکر سخت احتجاج کرنے کی دھمکی دیدی
۔ تفصیلات کے مطابق منگل کے روز صبح 9 بجے کے قریب سونیکوٹ کے رہائشی خالق امان ولد میرزہ امان بیماری کی حالت میں چیک کرانے کے لئے ای این ٹی سپیشلسٹ ڈاکٹر طارق شریف کے آفس گیا دونوں کے مابین معمولی تلخ کلامی اور نامعلوم وجوہات کی بناء پر جھگڑا ہوا اور دونوں کے مابین گھتم گھتا پر ڈاکٹر طارق شریف کے ناک پر شدید چوٹ لگی اور ناک ٹوٹ گئی۔ ڈاکٹر پر حملے کی خبر سنتے ہی ڈی ایچ کیو ہسپتال گلگت اور کشروٹ ہسپتال کے ڈاکٹروں نے سخت احتجاج کرکے مطالبہ کیاکہ فوری طورپر قاتلانہ حملہ کرنے والے استاد کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرکے گرفتار کیاجائے پولیس نے ٹیچر خالق امان کے خلاف مقدمہ نمبر 41/19 بجرائم 506,500,353,186 ضمن 2 6/7, کے تحت مقدمہ درج کرکے انوسٹی گیشن ونگ منتقل کرکے تفتیش شروع کردی۔ ای این کی سپیشلسٹ ڈاکٹر طارق شریف نے اوصاف سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ منگل کے روز صبح نو بجے کے قریب سٹی ہسپتال اپنے آفس میں بیٹھا تھا اچانک خالق امان نامی نوجوان آفس میں آیا اور چیک کرنے کو کہا تو میں نے کہاکہ آپ کمپیوٹرائز ہسپتال پرچی لیکر آئو آپ کو چیک کروں گا بغیر پرچی کے مریضوں کو چیک کرنا پابندی ہے جب نوجوان باہر نکلا تو میں بھی ہسپتال وارڑز دورے کے لئے باہر ہی نکلا تھا اچانک مجھ پر حملہ آور ہوئے اور سخت دھلائی کی اگر بروقت کنٹرول نہ کیا جاتا تو خالق امان نامی نوجوان مجھے قتل کردیتے۔ نوجوان استاد خالق امان کے مطابق منگل کے روز صبح اچانک میرے دانت پر سخت درد شروع ہوئی اور جس کے باعث کان اور ناک میں بھی سخت درد کی وجہ سے میرا دماغ بھی چکرانا شروع ہوگیا فوراً سٹی ہسپتال جاکر ڈاکٹر طارق شریف کی آفس جاکر چیک کرنے کو کہا تو ڈاکٹر نے کہاکہ کمپیوٹرائز پرچی لیکر آئو جب میں باہر جاکر دیکھا تو کمپیوٹرائز پرچی دینے والے رومز کے تالے لگے ہوئے تھے ساتھ رومز جاکر سادھی پرچی جس پر ہسپتال کا مہر لگا ہوا تھا لیکر ڈاکٹر کے پاس گیا تو ڈاکٹر شریف نے پرچی اٹھاکر میرے منہ پر مارا اور مجھ پر غصہ ہونا شروع ہوگیا پھر دونوں کے مابین جھگڑا شروع ہوا اور چوٹ لگنے سے اس کا ناک ٹوٹ گیا ۔

تازہ ترین خبریں