06:03 pm
محکمہ تعمیرات عامہ سے ٹھیکیداروں کی ملی بھگت،اہم ترقیاتی منصوبے زیرالتوائ(نیب،ایف آئی اے خاموش)

محکمہ تعمیرات عامہ سے ٹھیکیداروں کی ملی بھگت،اہم ترقیاتی منصوبے زیرالتوائ(نیب،ایف آئی اے خاموش)

06:03 pm

گلگت(چیف رپورٹر)محکمہ تعمیرات عامہ اور ٹھیکیداروں کی ملی بھگت،گلگت بلتستان کے کئی اہم منصوبے التواء کا شکار جبکہ کئی منصوبوں پر ناقص کام کی شکایات،عوام کی جانب سے کام کی سست رفتاری اور ناقص تعمیر کی شکایات کے بائوجود وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان،صوبائی وزیر تعمیرات عامہ اور سیکریٹری تعمیرات عامہ سمیت نیب و ایف آئی اے کا نوٹس نہ لینے سے عوامی نوعیت کے اہم منصوبے کھٹائی میں پڑنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ذرائع کے مطابق گلگت بلتستان کے دس اضلاع میں
عوامی نوعیت کے اہم منصوبے محکمہ تعمیرات عامہ اور ٹھیکیداروں کی ملی بھگت کے بھینٹ چڑھ گئے ہیں اور بڑی تعداد میں منصوبوں کا کام سست روی کا شکار ہونے کی وجہ سے ان منصوبوں کا بیمار منصوبوں میں شمار ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے جبکہ بیشتر منصوبوں پر کام مطلوبہ معیار کے مطابق نہیں ہو رہا اس حوالے سے شکایات کے بائوجود گلگت بلتستان کے کسی ذمہ دار نے نوٹس نہیں لیا۔محکمہ تعمیرات عامہ ذرائع کے مطابق گلگت بلتستان کے بیشتر منصوبوں کی تعمیر کی آخری تاریخ گزر چکی ہے لیکن منصوبے مکمل نہیں جبکہ بیشتر منصوبوں کی تعمیر کی آخری تاریخ اگلے ایک دو ماہ میں ختم ہونے والی ہے لیکن ان منصوبوں پر خاطرخواہ کام نہیں ہو سکا ذرائع کے مطابق ا ن منصوبوں کام کی سست رفتاری کی ایک وجہ بروقت فنڈز نہ ملنا بھی ہے ذرائع کے مطابق ضلع ہنزہ،ضلع نگر،ضلع استور،دیامر،غذر، اور بلتستان کے اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں پر کام سست روی کا شکار ہونے کی وجہ سے منصوبے التواء کا شکار ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے اس حوالے سے ذرائع نے اوصاف کو بتایا کہ بیشتر منصوبوں کے ٹھیکوں کے حصول کے لئے اعلیٰ سیاسی و سرکاری عہدیداروں کا بھاری رقوم رشوت دی گئی ہے جس کی وجہ سے محکمہ تعمیرات عامہ کام کی رفتار تیز کرنے اور معیار بہتر بنانے کے لئے ٹھیکیداروں پر دبائو نہیں ڈال سکتی اور اگر کسی ایگزیکٹیو انجینئر کی جانب سے دبائو ڈالنے کی کوشش بھی کی جائے تو ٹھیکیدار کسی قسم کا دبائو قبول کرنے کی بجائے اعلیٰ حکام کے پاس مذکورہ ایگزیکٹیو انجینئر کی شکایت کرتے ہیں اور انہیں تبادلوں کی دھمکیاں دی جاتی ہیں ۔ذرائع کے مطابق استور ویلی روڑ پر کام نہایت سست روی کا شکار ہے جبکہ متعلقہ ایکسئین بے بسی کی تصویر بنا ہوا ہے اسی طرح ہنزہ میں علی آباد تا کریم آباد روڑ پر بھی کا م سست روی کا شکار ہے جبکہ اس روڑ پر ناقص کام کی شکایات بھی موصول ہو رہی ہیں ۔اس روڑ کے حوالے سے مشہور ہے کہ ٹھیکیدار نے اس روڑ کا ٹھیکہ حاصل کرنے کے لئے ایک سابق اعلیٰ حکومتی عہدیدار کو بھاری رقم رشوت کے طور پر دی ہے ۔اس کے علاوہ ہنزہ میں ہی گنش تا الیپت روڑ کا ٹھیکہ حاصل کرنے کے بعد ٹھیکیدار نے دوسرے ٹھیکیدار کوفروخت کیا ہے جبکہ دوسرے نے تیسرے ٹھیکیدار کو فروخت کیا ہے جس کی وجہ سے اس روڑ پر بھی ناقص کام جاری ہے ۔نگر میں بھی بیشتر منصوبے ایک ٹھیکیدار سے دوسرے پھر تیسرے ٹھیکیدار کو فروخت کی گئی ہیں جبکہ دیگر اضلاع میں بھی منصوبوں پر جاری کا غیر تسلی بخش ہے۔اس حوالے سے سیاسی سماجی اور عوامی حلقوں نے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان اور صوبائی وزرؤیر تعمیرات عامہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان منصوبوں کی تعمیر میں مبینہ گھپلوں اور کام کی رفتار اور معیار کا نوٹس لیں اور سیکریٹری تعمیرات عامہ کو فوری طور پر تما منصوبوں کے دوروں کی احکامات جاری کریں ۔عوامی سیاسی اور سماجی حلقوں نے نیب اور ایف آئی سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان منصوبوں میں مبینہ مالی گھپلوں اور بھاری رقوم کے عوض ٹھیکوں کے حصول اور بندر بانٹ کے حوالے سے تحقیقات کریں۔

تازہ ترین خبریں