05:53 pm
جی بی کوبااختیاربنانے کیلئے کمیٹی قائم(وزیراعلیٰ بھی شامل،حتمی سفارشات وزیراعظم کوپیش کی جائینگی)

جی بی کوبااختیاربنانے کیلئے کمیٹی قائم(وزیراعلیٰ بھی شامل،حتمی سفارشات وزیراعظم کوپیش کی جائینگی)

05:53 pm

اسلام آباد(اوصاف نیوز)قومی سلامتی کمیٹی کا گلگت بلتستان کے حوالے سے دوسرا اجلاس وزیر اعظم پاکستان عمراں خان کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں بحری ،بری افواج کے سربراہان سمیت وزیر اعلی گلگت بلتستان اور دیگرمتعلقہ اداروں کے سربراہان نے شرکت کی ،اجلاس میں ملک کی داخلی سلامتی کی صورتحال اور امن و امان کے حوالے سے تفصیلی گفتگو ہوئی، ملکی داخلی صورتحال سے اجلاس کو آگاہ کیا ،اس موقع پر وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے گلگت بلتستان کی
امن و امان کی صورتحال اور درپیش چیلنجز سے آگاہ کرتے ہوئے اجلاس میں گلگت بلتستاں کے انتظامی حقوق کے حوالے سے بھی مختلف پہلووں پر روشنی ڈالی ،وزیر اعلی نے کہا کہ گلگت بلتستان کو قومی دھارے میں شامل کرنا اور قومی اسمبلی اور سینٹ میں نمائندگی دینا وقت کی اہم ضرورت ہے جبکہ گلگت بلتستان کو مزید کسی آرڈر کے زرئیعے نہیں چلایا جا سکتا ہے گلگت بلتستان کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ کرنا ہو تو گلگت بلتستان کے عوامی نمائندوں اور منتخب اسمبلی ممبران کو اعتماد میں لینا ضروری ہے تاکہ گلگت بلتستان کے عوامی نمائندے اپنے عوام کی خواہشات اور جذبات کو ملک کے اعلی ایوان تک پہنچا ئیں ،وزیر اعلی نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کے عوام چاہتے ہیں کہ قومی اسمبلی اور سینٹ میں نمائندگی دی جائے اگر ریاست کی مجبوریاں ہیں تو اس کا دوسرا حل یہ ہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی اور گلگت بلتستان کونسل کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے دونوں منتخب اداروں کی منظوری سے گلگت بلتستان کے لئے مرتب کردہ نظام کو آئینی کور فراہم کرتے ہوئے ایکٹ کی شکل میں انتظامی اصلاحات کی جائیں تاکہ آئے روز تبدیل ہوتے ہوئے آرڈر ز سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال اور بے چینی کا خاتمہ ہوگا اس کے علاوہ گلگت بلتستان کو مزید معاشی و سیاسی طور پر بااختیار بنانے کے لئے قومی مالیاتی اور انتظامی اداروں میں مکمل نمائندگی دی جائے جن میں قومی مالیاتی کونسل ،مشترکہ مفادات کونسل ،نیشنل اکنامک کونسل ،نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اور ارسا شامل ہیں،اس موقع پر اجلاس میں گلگت بلتستان کے موجودہ انتظامی و آئینی نظام میں بہتر اصلاحات لانے کے لئے وزیر اعلی گلگت بلتستان حفیظ الرحمن وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم ، وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین گنڈا پور اورمتعلقہ وزراتوں کے اعلی حکام پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جو مل کر تمام قانونی پیچدگیوں اور گلگت بلتستان کے عوام کے مطابات اور خواہشات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی حتمی سفارشات وزیر اعظم پاکستان کو پیش کرے گی بعد ازاں درج بالا کمیٹی کے ممبران کے مابین مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس میں سب سے پہلے سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے گلگت بلتستان کے حوالے سے دئے جانے والے فیصلے پر عمل در آمد کے حوالے سے گفتگو ہوئی اس حوالے سے وزیر اعلی نے اجلاس کوبتایا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کیا جائے لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ جن شقوں پر صوبائی حکومت نے اعتراضات اٹھائے ہیں اور وزیر قانوں کے وساطت سے ہم نے نظر ثانی کی درخواست کی ہے اس پر جلد فیصلہ دلوانے کے لئے وفاق کو صوبائی حکومت کی مدد کرنا ہوگی تاکہ گلگت بلتستان کے عوامی امنگوں کی حقیقی ترجمانی کرنے والی صوبائی اسمبلی ان فیصلوں پر ببانگ دہل عمل درآمد کر سکے وزیر اعلی نے مزید کہا کہ ٹیکس نظام اور گندم سبسڈی میں فی الحال کسی قسم کی تبدیلی یا چھیڑ چھاڑ کی گنجائیش نہیں ہے اور حتمی بات یہی ہے کہ گلگت بلتستان کے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میںانتظامی اصلاحات کے تمام مرحلوں میں وہاں کے مقامی نمائندوں اور عوامی خواہشات کو ملحوظ خاطر رکھا جائے تاکہ گلگت بلتستان کے عوام کے جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسا نظام ترتیب دیا جائے کہ جس سے گلگت بلتستان کے عوام کے اندر سے احساس محرومی کا خاتمہ ہو سکے آخر فیصلہ ہوا سپریم کورٹ کے فیصلے اور اس مسلے پر تمام تر خدشات اور نقائص کو دور کرنے کے لئے کمیٹی کے مزید اجلاس ہوں گے ۔

تازہ ترین خبریں