06:04 pm
حضرت علی ؑکایوم شہادت عقیدت واحترام سے منایاگیا(مجالس وجلوسوں کاانعقاد)

حضرت علی ؑکایوم شہادت عقیدت واحترام سے منایاگیا(مجالس وجلوسوں کاانعقاد)

06:04 pm

گلگت(نامہ نگار خصوصی)گلگت بلتستان بھر میں یوم شہادت حضرت امام علی ؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا جی بی بھر کے مختلف مساجد اور امام بارگاہوں میں مجالس عزا منعقد ہوئے مختلف مقامات پر جلوس عزا برامد گلگت شہر میں مرکزی مجلس عزا امام بارگاہ قصر اکبر ڈاکپورہ میں منعقد ہوئی مجلس سے شیخ مرزاعلی صابری نے خطاب کرتے ہوئے کہا امام عالی مقام حضرت علی ؑابن طالب کی
سیرت طیبہ اور حالات زندگی ہمارے لیے مشعل راہ ہے حضرت علی کی سیرت ایک راستہ ہے جس پر عمل کر کے ہم عالم اسلام کے تمام مسائل حل کر سکتے ہے بعد از مجلس جلوس عزا برامد ہوا جس میں ہزاروں کی تعداد میں عزاداروں کی شرکت جلوس کے راستے میں عزاداروں نے سینہ زنی و سرکوبی کی جلوس عزا مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا مرکزی جامع امامیہ مسجد گلگت پہنچ کر اختتام پزیر ہوا گزشتہ رات دنیور میں بھی 21 رمضان المبارک شہادت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے سلسلے میں روائتی جلوس عزا خانہ زہرا اخونی محلہ سے بر آمد ہوا عزاداری کا جلوس علمدار روڈ سے ہوتا ہوا سحری کے وقت حسینی چوک جامع امامیہ مسجد دنیور میں اختتام پذیر ہوا شہادت حضرت علی کی مجالس اور جلوسوں کی سیکورٹی کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں۔ پولیس اور جی بی سکا?ٹس کے جوان جلوسوں کے راستوں پر تعینات جلوسوں میں داخل ہونے والے افراد کو تلاشی کے بعد داخل ہونے دیا جاتا تھا پرامن طور پر جلوس اختتام پزیر بہتر سیکورٹی انتظامات کرنے پر جلوسوں اور مجالس کے منتظمین نے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا۔نگر ( بیورو رپورٹ) ضلع نگر میں مختلف مقامات پر یوم شہادت حضرت علی علیہ السلام پر جلوس برا آمد ہوئے ،سب سے بڑا جلوس قدیم امام بارگاہ چھلت پائین سے برآمد ہوا جو رات گئے علمدار چوک پہنچا اور سحری تک سونیکوٹ اور اکبر آباد کے جلوسوں کے ہمراہ واپس مرکزی جامع مسجد چھلت ٹائون پر اختتام پذیر ہوا ۔ یوم علی ؑ کی مناسبت سے گزشتہ تین دنوں سے ملک کے دیگر علاقوں کی طرح ضلع نگر میںشاہراہ قراقرم سمیت اندرون شہری علاقوں میں بھی جلوس بر آمد ہوئے ۔ جلوس اپنے مقررہ راستوں سے ہوتے ہوئے باخیر و عافیت اپنے اختتامی حدود میں مکمل ہو گئے۔ ضلعی پولس نے تمام جلوسوں میں سیکورٹی کے فرائض انجام دئے۔یوم شہادت مولا علی علیہ السلام کا سب سے بڑا جلوس چھلت ٹائون کے قدیم امام بارگاہ سے رات دس بجے برآمد کیا گیا جس میں رستے بھر عزادار، عذاداری کرتے ہوئے علمدار چوک چھلٹ ٹائون تک پہنچ گئے جہاں اکبر آباد اور سونی کوٹ سے آئے ہوئے جلوس کے دستوں نے بھی شرکت کی ۔ علمدار چوک چھلت ٹائون سے جلوس اپنے اپنے دستوں میں ماتم داری اور نوحہ خوانی کرتے ہوئے شرکاء نے جلوس سحری کی اوقات تک مرکزی جامع مسجد چھلت ٹائون پہنچ گئے۔ جہاںجلوس کے اختتام پر مجلس کا انعقاد ہوا اورمختلف علمائے کرام نے مجلس سے خطاب کیا اور مولائے کائینات حضرت علیہ السلام کی سیرت پاک کا تذکرہ کیا۔ علمائے کرام نے مسجد کوفہ مین ابن ملجم کے بیٹے عبد الرحمٰن ملعون کا نماز فجر کی ادائیگی کے دوران عین سجدے کی حالت میں حملہ کرنے کو تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی مسجد میں ہونے والی دھشت قرار دی کر بھر پور الفاظ میں مذمت کی ۔ علمائے کرام میں اپنے خطبوں میں پاکستان میں امن و سلامتی اور دھشت گردی کے خاتمے کے لئے خصوصی دعائیں بھی کرادیں۔ سحری تناول کرنے کے بعد شرکاء جلوس نے نماز فجر باجماعت ادا کی اور ایک مرتبہ پھر پاکستان گلگت بلتستان اور عالم اسلام کی ترقی اتحاد و یگانگت کے لئے ہات بلند کرکے خصوصی دعائیں کرادیں ۔ جبکہ دوسری جانب کے کے ایچ پر بھی مختلف علاقوں سے جلوسوں نے دستے برآمد ہوئے جعفر آباد اور نلت سے برآمد ہونے والے دستے رات 12بجے تک تھولکے مقام پر پہنچ کر اختتام پذیر ہو گئے ۔ ضلع نگر کے دیگر مقامات پر مختلف عبادت خانوں میں روزہ داروں نے عبادات اور نوافل کی ادئیگی میں شب بیداری کی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ کل سے مختلف عبادت خانوں میں ہزاروں کی تعداد مین مسلمان اعتکاف میں بیتھ کر عبادات کی بجا آوری بھی کر رہے ہیں ۔ہنزہ(ذوالفقار بیگ ) ملک بھر کی طرح ضلع ہنزہ میں حضرت امام علیؑ مرتضیٰ کی یوم شہادت عقیدت و احترام کیساتھ منایا گیا۔ امام بارگاہ گرلت سے جلوس برآمد ہوا۔شاہراہ قراقرم سے ہوتا ہوا گنش کے مرکزی امام بارگاہ امامیہ کمپیلکس میں اختتام پذیر ہوا۔کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کیلئے سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ ہنزہ بھر کے تمام امام بارگاہوں میں شہادت امام علیؑ کے سلسلے میں مجالس کا انعقاد کیا گیا تھا۔ 21رمضان المبارک شہادت امام علی ؑ کے عنوان سے گرلت امام بارگاہ میں عزاداروں سے خطاب کرتے ہوئے مذہبی سکالر علی محمد نے کہاکہ حضرت امام علیؑ مرتضیٰ کی تعلیمات اُمت کیلئے مشعل راہ ہے ۔ حضرت علیؑ نے جام شہادت نوش کرکے اسلام کو ختم ہونے سے بچایا یہ عظیم قربانی رہتی دُنیاتک کے مسلمانوں کو ایک لازوال پیغام دیتی ہے ۔ مولائے کائنات کے فرمودات ہمارے لئے آئیڈیل ہے ۔ جس پر عمل کرکے دُنیا و آخرت میں سرخرو ہو سکتے ہیں ۔ مذہبی سکالر علی محمدنے مزید کہاکہ اسلام ایک خوبصورت مذہب ہے جو اپنے ماننے والوں کو انسانی زندگی کے تمام شعبوں میںمکمل رہنمائی فراہم کرتا ہے ۔ مولائے کائنات کی شہادت کی اصل وجہ اللہ کی وحدانیت ، عدل اور نظام مصطفیﷺ کے نفاز کی خاطر جام شہادت نوش کیا ۔امیرالمومینن کی زات کا ایک پہلو عدل و انصاف کا نفاز ہے جس کی وجہ سے معاشرے میں عدل کا علمبردار مانا جاتا تھااسی عدل کے سبب آپ کی شہادت واقع ہوئی۔ اُنہوں نے کہاکہ امیر المومینن کی زات اور جسم سے دشمنی نہیں تھی بلکہ ان کی فکر اور اصلاحات سے عداوت تھی جو علی ابن ابی طالب نے سیاسی، معاشی اور معاشرتی میدانوں میں کی تھیں لہذا کہا جاسکتا ہے کہ امیر المومینن کی شہادت ایک شخص یا فرد کی نہیں ایک سوچ ،فکر اور نظریے کی شہادت ہے ۔بعداز مجلس گرلت امام بارگاہ سے علم کا جلوس برآمد ہوا۔ عزادار سینہ کوبی کرتے ہوئے شاہراہ قراقرم سے ہوتا ہوا مغرب کے ٹائم پر جلوس گنش کے مرکزی امام بارگاہ امامیہ کمپیلکس میں اختتام پذیر ہوا ۔جہاں پر روزہ داروں کیلئے لنگر کا اہتمام کیا گیا تھا ۔جلوس کے آخر میں قرار داد پیش کیاگیا۔

تازہ ترین خبریں