06:19 pm
جی بی کاسیٹ اپ آزادکشمیرسے بہتر،متحدنہ ہوناآئینی حقوق نہ ملنے کی وجہ ہے(وزیراعلیٰ)

جی بی کاسیٹ اپ آزادکشمیرسے بہتر،متحدنہ ہوناآئینی حقوق نہ ملنے کی وجہ ہے(وزیراعلیٰ)

06:19 pm

گلگت( بیورورپورٹ) وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ گلگت میں ایل پی جی ایئر مکس گیس کی فراہمی اور سیوریج نظام کے منصوبے کی وجہ سے بعض سڑکوں کی تعمیر اور میٹلنگ کا معاملہ رکا پڑاہوا تھا ، سیوریج کا منصوبہ وفاقی حکومت کی وجہ سے تاخیر ہوا جبکہ ایل پی جی ائیرمکس کا منصوبہ ہماری اپنی کوتاہی کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوگیا، دونوں منصوبوں کی تاخیر کااثرگلگت شہر کی سڑکوں پر پڑگیا
کیونکہ ہماری خواہش تھی کہ سیوریج اور ایل پی جی ائیرمکس منصوبے کو مکمل کرنے کے بعد شہر کی سڑکوں کو میٹل کیا جائیگا ۔ گلگت سکردو روڈ ایف ڈبلیو او 9کروڑ روپے فی کلومیٹر کے حساب سے کام کررہی ہے جبکہ محکمانہ کام ابھی تک 70لاکھ روپے فی کلومیٹر کے حساب سے چل رہے ہیں۔رواں بجٹ میں گلگت شہر کی سڑکوں کی تعمیر اور میٹلنگ کے لئے 50کروڑ روپے خرچ کئے جائیںگے۔ سنجیدہ معاملات میں تنقید نہیں اصلاح ہی کرتے ہیں، عمران خان کے ساتھ اختلاف کے باوجود میری آئینی زمہ داری ہے کہ میں انہیں وزیراعظم تسلیم کرلوں۔ گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ جی بی کے لوگوں کا تقسیم ہونا ہے، ابھی تک منطقی بنیادوں پر ایسی کوئی تجویز اور مطالبہ سامنے نہیں آیا جو علاقے کی ضروریات کے مطابق ہوں، اس وقت جی بی کا سیٹ اپ آزادکشمیر کے سیٹ اپ سے بہت بہتر ہے ، ہم نے سوائے ٹیکس کے اختیارات کے باقی سب اختیارات حاصل کرلئے ہیں۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے وزیراعلیٰ ہائوس میں سینئر صحافیوں کے ساتھ ایک سیاسی بیٹھک کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے کہا کہ آئندہ بجٹ سے قبل عوامی ضروریات کو ترجیح دی جائے گی۔سول سوسائٹی اور دیگر عوامی اور نجی تنظیموں سے بھی آئندہ بجٹ کے حوالے سے آراء طلب کی ہیں، بدقسمتی سے جی بی کا بجٹ محدود ہوتا ہے ، وفاقی حکومتوں کی تبدیلی کی وجہ سے میگا منصوبے متاثر ہوتے ہیں۔ پیپلزپارٹی کی سابقہ حکومت اب بھی ہم پر تنقید کررہی ہے کہ مسلم لیگ ن نے اپوزیشن میں ہوتے ہوئے ہمارے منصوبے رکوائے اور اضلاع کا جو اعلان کیا تھا اس کو ثبوتاژ کرایا ہے، پیپلزپارٹی کی نادان حکومت جی بی میں تین ڈویژن بناسکی لیکن ایک ضلع نہیں بناسکی اور اس کا الزا م ن لیگ پر لگارہی ہے جو کہ انتہائی مضحکہ خیز ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کوئی بھی ایسا اعلان ماضی میں بھی نہیں کریگی جس پر عملدرآمد ممکن نہیں ہوسکے گا، ہم نے پوری زمہ داری کے ساتھ نئے اضلاع کے قیام کا اعلان کیا ہے اور رواں ماہ کے اختتام تک نوٹیفکیشن کے ساتھ ساتھ اضلاع باقاعدہ فنگشنل بھی ہوںگے ، ڈپٹی کمشنر اور ایس پی سمیت دیگر آفیسران کی تعیناتیاں بھی عمل میں لائی جائیںگی، ایسا ممکن ہی نہیں ہے کہ ہم اعلان کریں اور اس پر عملدرآمد نہ کراسکے۔ گلگت بلتستان میں اضلاع کے قیام کا اختیار گزشتہ حکومت کے پاس بھی موجود تھا لیکن وہ اس کو استعمال نہیں کرسکی تو اس میں ہماری کوئی غلطی نہیں ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت ، شندور، چکدرہ اور سوات روڈ پر وفاقی حکومت خیبرپختونخواہ حکومت کی باتوں میں آکر پی سی ون کو تبدیل کرنے کی کوشش کررہی تھی ،جس دن اس منصوبے کے حوالے سے ایکنک کا اجلاس ہورہا تھا اس وقت میں بن بلائے اجلاس میں حاضر ہوا جس پر وفاقی وزیر مخدوم خسرو بختیار نے بڑی حیرت کااظہار کیا تاہم میں نے انہیں اس منصوبے کے حوالے سے مکمل بریفنگ دی اور بتایا کہ گلگت سے شندور تک روڈ کو پی سی ون سے نکالنے کے بعد اس منصوبے کی افادیت ختم ہوجائے گی ، کیونکہ گلگت سے منسلک ہونے کے بعد یہ منصوبہ سی پیک کا متبادل شاہراہ بن جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ سیوریج نظام کے منصوبے کو ہم نے اپنے بجٹ کے دیگر منصوبوں سے کٹوتی کرکے رقم مختص کردیا ہے، شہر کی ٹریفک کو کنٹرول کرنے اور صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے شہید سیف الرحمن ہسپتال سے بائی پاس بنایاجائیگا اور 40کروڑ کی رقم سے مین ٹرنک بنایا جائیگا۔ گلگت شہر کے سڑکوںکو معیاری طریقے سے میٹل کرنے کے لئے پیور مشین بھی منگوائی گئی ہے اور اس کے لئے ٹریننگ اور افرادی قوت کی کمی کو بھی پورا کیا جائے گا، انشاء اللہ اگلے سات مہینوں میں گلگت کی تمام سڑکیں میٹل ہوجائیںگی اور پہلے ہی خبردار کیا ہے کہ ٹھیکیداروں کی غفلت کو برداشت نہیں کرینگے، غفلت برتنے پر سخت کاروائی ہوگی۔وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان کے آئینی حیثیت اور حقوق کے معاملے میں قیادت کو ایک ہونا لازمی ہے، پیپلزپارٹی کی قیادت نے کبھی اس معاملے پر سنجیدگی کااظہار نہیں کیا ہے، حالانکہ انہوں نے اے پی سی طلب کی تو ہم نے شرکت کیا لیکن ہم نے اے پی سی طلب کرلی تو ان کی قیادت نے شرکت نہیں کی جبکہ شرکت کرنے والوں سے بعد میں لاتعلقی کااظہار کیا۔ وفاقی حکومت اس معاملے میں انتہائی شش و پنج میں مبتلا ہے، انہیں ایکٹ آف اسمبلی میں بھی دشواریاں درپیش ہیں اور سپریم کورٹ کے آرڈر پر عملدرآمد کرانے میں بھی مسائل کا سامنا ہے کیونکہ سپریم کورٹ کے آرڈر میں ہمیں اختیارات تفویض کرنے کی بجائے اختیارات چھین لئے گئے ہیں۔صحافیوں سے گفتگو کرتے وزیراعلیٰ نے کہا کہ انڈیا نے بیرون ملک اپنے تمام دشمن شخصیات کو اپنا ہمنوابنایا ہے یہاں تک کہ طیارہ ہائی جیکنگ کیس کے مرکزی ملزم کو بھی آج نئی دہلی میں آزادانہ کام کرنے کی اجازت دیدی ہے، عبدالحمید کی واپسی اس لحاظ سے پاکستان کا پہلا قدم ہے۔گلگت بلتستان کی کل عمر 70 سال ہے اور یہاں کی سیاسی جدوجہد کو ابھی 10 سال بھی پورے نہیں ہوئے ہیں، ہم اپنے ارتقائی مرحلے سے گزررہے ہیں اور کسی صورت بھی ناامید نہیں ہیں، لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کے معاملے کو یہاں کی سیاسی قیادت نے ہمیشہ جھوٹ بول کر پیچیدہ بنایا ہے، سیاسی قائدین ہمیشہ اس معاملے میں مجبوریوں اور مفاہمت کا شکار رہے ہیں ، اس وقت صورتحال یہ ہے کہ انڈیا اس انتظار میں ہے کہ جی بی کے آئینی حیثیت میں زرہ برابر بھی ترمیم کی صورت میں مقبوضہ کشمیر کو دئے گئے آرٹیکل 370 کو ختم کریں، کیونکہ ان کا دعویٰ اٹوٹ انگ کا ہے جبکہ پاکستان نے ہمیشہ حق خودارادیت کی حمایت کرتے ہوئے متنازعہ حیثیت کا ساتھ دیا ہے، جو اس اقدام سے سخت متاثر ہوجائیگا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ناتوڑ رول، شیڈول فورآج کے قوانین نہیں ہیںیہ کئی عرصے سے چل رہے ہیں۔ گلگت بلتستان مین ججوں کی تقرری کے لئے جوڈیشل کونسل قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ گلگت بلتستان کو نمائندگی دئے بغیر قومی اسمبلی اس حوالے سے کوئی بھی قدم نہیں اٹھاسکتی ہے۔ چیف جج سپریم اپیلٹ کورٹ ارشاد شاہ کا نام گزشتہ دور میں بطور جج کے لئے نامزد ہوا تھا اور نوازشریف کو ایک لابی نے گمراہ کرنے کی کوشش کی تھی کہ ارشاد شاہ جی بی کا مقامی فرد ہے لیکن میں نے اسے موخر کرایا۔میں زاتی طور پر بھی اور مسلم لیگ ن بھی اس بات کو سمجھتی ہے کہ غداروں کے فتوے ملک و علاقے کے لئے نیک شگون نہیں ہے، ہر ناراض رہنما سے بات چیت کی جاسکتی ہے۔

تازہ ترین خبریں