08:33 am
بلتستان میں پٹرولیم مصنوعات کا بحران شدت اختیار کر گیا

بلتستان میں پٹرولیم مصنوعات کا بحران شدت اختیار کر گیا

08:33 am

سکردو(نامہ نگار) سکردو بلتستان ڈویژن میں پٹرولیم مصنوعات کا بحران دن بہ دن شدت اختیار کیا جارہا گلگت سکردو روڈ کی بندش کے ساتھ ہی پمپ مالکان اپنی اپنی پمپوں کو سیل کردیا جاتا ہے جس کی وجہ سے شہریوں کے ساتھ سیاحوں کو کافی مشکلات پیش آ رہی ہےتاہم اس کے مکمل حل کے لیے ضلعی انتظامیہ نے کوئی ٹھوس اقدامات کرنے سے گریزاں ہیں حالیہ چند دنوں میں سوشل میڈیا میں پیپلزپارٹی ضلع سکردو کے

جنرل سیکرٹری عبداللہ حیدری نے اپنے ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ 1973 میں ذوالفقار علی بھٹو نے تیل ڈپو بلتستان کے لیے 8سے 10 کنال پر پرانی چونگی کے قریب بنایا گیا تھاجہاں 6 ماہ کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کو سٹاک کرنے کی گنجائش موجود ہے مذکورہ ڈپو کئ سالوں سے اب پاک آرمی کے پاس ہے اور وہاں کئی عمارت تعمیر کیا ہے ضلعی انتظامیہ فوری طور پر حل چاہتے ہیں تو پاک فوج کے ذمہ داران سے بات چیت کے ذریعہ معاملہ کا حل تلاش کیا جاسکتا ہے ورنہ یہاں سیاحت کے شعبہ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہےاس وقت پورے بلتستان میں ملکی و غیر ملکی سیاحوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا ہے پٹرولیم مصنوعات کی بار بار قلت سے سیاحتی شعبہ متاثر ہو رہا ہے۔

تازہ ترین خبریں