04:59 pm
گلگت بلتستان کے کسانوں کا حکومت سے بڑی سبزی منڈی قائم کرنے کامطالبہ

گلگت بلتستان کے کسانوں کا حکومت سے بڑی سبزی منڈی قائم کرنے کامطالبہ

04:59 pm

نگر ( اقبال راجوا) گلگت بلتستان میں آلو کی سب سے بڑی مندی سج گئی ،کسان اور بیوپاری دونوں نے صوبائی حکومت سے گلگت بلتستان کی واحد نقد آور سبزی آلوکی انشورینس کرنے اور گلگت بلتستان میں ایک بڑی منڈی قائم کرنے کامطالبہ کیا۔ تفصیلات کے مطابق ان دنوں ضلع نگر کی سب سے بڑی تحصیل چھلت میں آلو کی پورے گلگت بلتستان میں سب سے بڑی منڈی لگ گئی ہے ،روزانہ کی بنیاد پر 45سے 50 ٹرک آلو یہاں سے پاکستان کے
مختلف بڑے شہروں میں فروخت ہونے جاتا ہے،ہر موسم میں آلو کاکام کرنے ولاے بیوپاریوں کا کہنا ہے کہ ہم پورے گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں کام کرتے ہیں لیکن سب سے بڑی پیداوار والی مارکیٹ چھلت میں ہے کیوں کہ آلو اپنے موسم کے لحاظ سے ضلع نگر اور ہنزہ میں ابتداء یہاں سے اوراختتام بھی اسی مارکیٹ میں ہوتا ہے تقریباً جون کے آخری ہفتے سے شروع ہو کر نومبر کے دوسرے ہفتے تک لگاتا آلو کی تجارت ر جاری رہتی ہے کیوں کہ نشیبی علاقوں میں آلو جون کے آخری ہفتے سے نکلنا شروع ہوتا ہے ادر دوبارہ میان میں کچھ وقفے سے اکتوبر کے آخری ہفتے میں بالائی علاقوں کا آلو نکل کر یہاں منڈی لگنا شروع ہو جاتی ہے جو اختتام تک مسلسل جاری رہتا ہے ۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ آلو کوگلگت بلتستان میں عوامی سبزی کی حیثیت حاصل ہے کیوں کہ ہر کوئی کیش کراپ ہونے کے سبب کاشت کرتا ہے اور زیادہ مقدار میں پیدا ہونے کے سبب 90فیصد آبادی کاشت کرتی ہے ۔ اسلئے اس سبزی کے لئے محکمہء زراعت خصوصی منصوبہ بندی کرنا چاہیئے تاکہ عوام کو اس فصل سے پورا نفع حاصل ہو جائے جبکہ صوبائی اور وفاقی حکومت اس فصل کی انشورینس کرے اور گلگت بلتستان میں ایک مرکزی منڈی قائم کر کے پنجاب کی بڑی منڈیوں کے لئے آلوکی سپلائی اسی منڈی میں ہی خریداری کے زریعے بھجوادے ۔ ایک غیر منظم طریقے سے کوئی بھی آدمی ٹھیکیدار بن کر ان وادیوں میں چلا جاتا ہے اور کچھ نوجوانوں کو اپنا منشی بناکر کسانوں سے کچھ رقم ایڈوانس دے کر پوری فصل لے اڑتا ہے جبکہ چھوٹے چھوٹے کسان ہاتھ ملتے منشی اور ٹھیکیدار کی تلاش میں بقیہ جمع پونجی خرچ کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔ اس فصل کو حکومت براہ راست اپنی نگرانی میں عوام الناس ایک مقررہ ریٹ پر خرید کر رستے کے اخراجات اضافہ اس میں جمع کرکے بڑی منڈیوں میں فروخت کر کے اپنے لئے ایک آمدنی کا زریعہ بھی بنا سکتی ہے۔ ایک تخمینے کے مطابق پورے گلگت بلتستان سے 15 سے20 لاکھ بوری آلو پیدا ہوتا ہے جو پاکستان کے دو سے اڑھائی کروڑ آبادی کے لئے ایک ہفتے کا خوراک ہے لیکن اس کے باوجود آلو کی مناسب قیمت کسان کو نہیں مل جاتی جس کی وجہ صوبائی حکومت کی عدم دلچسپی اور نگرانی کا نہ ہونا ہے ۔ اگر صوبائی حکومت اس سلسلے میں اقدامات کر ے اور عوام کو فائدہ پہنچانے کا منصوبہ کرے تو وفاقی حکومت سے ملنے والی گندم سبسڈی کا آرام سے خاتمہ اسی فصل کے زریعے کر سکتی ہے

تازہ ترین خبریں