(اسمبلی اجلاس )ترقیاتی بجٹ میں نظر انداز کرنیکا الزام ،جاوید حسین ، کیپٹن شفیع کا واک آؤٹ
  11  اکتوبر‬‮  2017     |     گلگت بلتستان

گلگت ( خصوصی رپورٹ ) قانون ساز اسمبلی کے اکیسویں اجلاس کے دوسرے روز پی پی پی کے رکن اسمبلی جاوید حسین اور تحریک اسلامی کے رکن کیپٹن (ر) شفیع خان نے صوبائی حکومت پر ترقیاتی بجٹ کی تقسیم میں اپوزیشن کو نظر انداز کرنے کا الزام لگاتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا ۔ قبل ازیں جاوید حسین نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے حکومت کو شدید تنید کا نشانہ بنایا کہ صوبائی حکومت نے فنڈز کی تقسیم میں اپوزیشن ارکان کو بری طرح نظر انداز کیا ہے حالانکہ وزیر اعلیٰ بھی عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوکر اس ایوان میں آئے ہیں اور ہم بھی عوام کے ہی ووٹوں سے منتخب ہوکر اائے ہیں ۔ ہم یہاں صرف زبانی تقریروں کیلئے نہیں بلکہ عوامی مسائل کے حل کیلئے آئے ہیں ۔ اپوزیشن ارکان کے ترقیاتی فنڈز کو کاٹ کر حکومتی ممبران کو نوازنا اپوزیشن ممبران کے ساتھ سنگین زیادتی ہے ۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے اپنے خطاب میں اپوزیشن کو مخاطب ککرتے ہوئے کہا کہ ہم نے گلگت بلتستان میں فنڈز کی تقسیم کے حوالے سے حکومتی ممبران اور اپوزیشن میں کوئی تفریق نہیں کی ہے اگر اپوزیشن چاہتی ہے کہ سندھ اور کے پی کے کے قوانین یہاں لاگو ہوں تو انہیں ایک روپیہ نہیں ملے گا ۔ پی پی پی والے ہمیں بتا دیں سندھ میں

اپوزیشن ارکان کو کونسے ترقیاتی فنڈز ملتے ہیں اگر اپوزیشن یہ ثابت کرے کہ سندھ اور کے پی کے میں اپوزیشن ممبران کو حکمران جماعت کے ممبران کے برابر فنڈز ملتے ہیں تو میں گلگت بلتستان میں اپوزیشن کو دوگنا فنڈ دونگا ۔ اس دوران جاوید حسین اور شفیع خان ایک ساتھ بولنے لگے اور ایوان کا ماحول کشیدہ ہو گیا ۔ سپیکر نے متعدد بار دونوں ممبران کو خاموش رہنے کی وارننگ دی ۔ لیکن دونوں ممبران نے سپیکر کی سنی ان سنی کر دی ۔ جب سپیکر نے سخت زبان استعمال کی تو دونوں ممبران نے ایوان سے واک آؤٹ کیا ۔ وزیر اعلیٰ نے اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ کن کے اشاروں پر ناچتے ہیں مجھے پتہ ہے ، یہ لوگ کسٹم چور اور نیشنل بینک کے چور ہیں انہوں نے نیشنل بینک سے کروڑوں کے قرضے لئے ہیں اب یہ لوگ اپنی سکیموں کے ذریعے پیسے لیکر اپنے قرضے چکانا چاہتے ہیں ۔ جس کی ہم ہر گز اجازت نہیں دینگے ۔ا گر کسی نے یہاں غنڈہ گردی اور بد معاشی کرنے کی کوشش کی تو ہم بھی یہاں سندھ اور کے پیہ کے کے قوانین لاگو کرینگے اور وہاں اپوزیشن کو جو حصہ ملتا ہے وہی ہم بھی دینگے ۔ تاہم اس دوران سپیکر کی ہدایت پر میجر (ر) امین اور رضوان علی نے دونوں ممبران کو منا کر واپس ایوان میں لے آئے ۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

گلگت بلتستان

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved