سپریم اپیلٹ کورٹ میں خالصتاًمقامی افراد بھرتی کیے جائیں، جی بی اسمبلی
  11  اکتوبر‬‮  2017     |     گلگت بلتستان

گلگت ( محبوب خیام سے ) گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی نے سپریم اپیلیٹ کورٹ میں خلاف ضابطہ ججوں کی تعیناتی اور گریڈ 1سے گریڈ 22تک کی خالی آسامیوں پر غیر مقامی افراد کی بھرتیوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے ایک متفقہ قرار داد کے ذریعے مطالبہ کیا ہے کہ ججوں کی تعیناتی گورننس آرڈر 2009کے مطابق طے شدہ اصول کے تحت بار اور بنچ کے تناسب سے عمل میں لائی جائیں اور گریڈ 1سے گریڈ 17خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر مقامی لوگوں کو بھرتی کیا جائے ۔ بدھ کے روز قانون ساز ساز اسمبلی کے اکیسویں اجلاس کے دوسرے روز پارلیمانی سیکریٹری اورنگزیب ایڈووکیٹ نے ایک قرار داد ایوان میں پیش کی جس میں کہا گیا ہے کہ گلگت بلتستان کا یہ مقتدر ایوان اس امر پر زور دیتا ہے کہ گلگت بلتستان سپریم اپیلٹ کورٹ میں جج کی خالی اور چیف کورٹ میں ججوں کی دو آسامویں پر گلگت بلتستان کے وکلاء اور ججز سے ہی تعیناتی عمل میں لائی جائے ۔ یہ معزز ایوان سپریم اپیلٹ کورٹ میں جج کی خالی آسامی پر غیر مقامی شخص کی تعیناتی کو تشویش کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور گریڈ ایک سے اوپر کی خالی آسامیوں پر سپریم اپیلیٹ کورٹ اور چیف کورٹ ہی اہلیت اور قابلیت کی بنیاد پر صرف اور صرف گلگت بلتستان کے مقامی افراد کو بعد از تمام ضروری قانونی کارروای تعیناتی عمل میں لائی جائے اورنگزیب ایڈووکیٹ نے ایوان کو بتایا کہ اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کی تعیناتی کے حوالے سے وکلاء برادری میں شدید تشویش پائی جاتی ہے

اور گزشتہ ایک ہفتے سے وکلاء برادری ہڑتال پر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سپریم اپیلیٹ کورٹ میں خانسامے سے لیکر اوپر کے خالی آسامیوں پر غیر مقامی افراد کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے جو مقامی لوگ جو معیار اور میرٹ پر پورا اترتے ہیں کیساتھ سنگین زیادتی ہے ۔ا نہوں نے کہا کہ ججوں کی تعیناتی کیلئے گورننس آرڈر 2009میں فارمولا طے ہے جس کے مطابق بار اور بنچ کے درمیان ساٹھ اور چالیس فیصد کے تناسب سے خالی آسامیوں خر پر کنا ہے ۔ لیکن اس رول کی سنگین خلاف ورزی کی جا رہی ہے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اعلیٰ عدالتوں میں رولز کے مطابق بھرتیاں عمل میں لائی جائیں۔ بحث میں حصہ لیتے ہوئے صوبائی وزیر تعلیم ابراہیم ثنائی نے کہا کہ قرار ددا پر اختلاف نہیں لین بھرتیوں کے عمل کو صاف و شفاف اور خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر عملی جامعہ پہنایا جائے ۔ وزیر سیاحت فدا خان فدا اور غلام حسین ایڈووکیٹ نے مطالبہ کیا کہ ججوں کی تقرری میں نوربخشی کمیونٹی اور اسماعیلی برادری کو نظر انداز کیا جاتا ہے اسلئے آئندہ پینل میں بوربخشی اور اسماعیلی برادری کے وکلاء کے نام بھی شامل کئے جائیں ۔ تاکہ مساوات قائم ہو ، بحث کو سمیٹتے ہوئے سپیکر قانون ساز اسمبلی حاجی فدا ناشاد نے اظہار خیال کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کی تعیناتی اور دیگر اسامیوں پر میرٹ کو ملحوظ نظر رکھا جائے اور ان بھرتیوں میں مقامی افراد کو ترجیح دی جائے


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

گلگت بلتستان

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved