غذر،خود کشیوں کی وجوہات جاننے اور ان کی روک تھام کے لئے صوبائی حکومت کے دعوے ایسے ہی رہ گئے
  12  اکتوبر‬‮  2017     |     گلگت بلتستان

غذر( رحمت ولی )خود کشیوں کی وجوہات جاننے اور ان کی روک تھام کے لئے صوبائی حکومت کے دعوے ایسے ہی رہ گئے۔ڈاکٹر اقبال صوبائی وزیر قانون کی سربراہی میں بنائی گئی کمیٹی جن میں صوبائی وزیر سیاحت سمیت کئی حکومتی شخصیات بڑی بڑی گاڑیوں کی قطار میں گاہکوچ ریسٹ ہاؤس میں اکر بڑے بڑے وعدے کر کے گئے تھے کہ ائندہ اس طرح کا کوئی واقع ہوجس پر شک ہو کہ یہ خود کشی ہے یا حادثاتی موت ایسے میں نعش کی پوسٹمارٹم کو لازمی قرار دیا گیا تھا اور یہ بھی کہا گیا تھا کہ ایسے واقعات کی پوسٹ مارٹم نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ ایس ایچ او کو معطل کیا جائیگا لیکن اس ایک اجلاس کے بعد ڈاکٹر اقبال سمیت پوری ٹیم خاموش رہی اس کے بعد بھی ایسی واقعات ہوگئی جن کے بارے میں مکمل رپورٹ سامنے نہیں اسکی ۔پوسٹمارٹم کی شر ط کو اس لئے لازمی قرار دیا گیا تھاکہ علاقے کے بااثر افراد نے

پولیس کو دباؤ میں ڈال کر درجنوں نعشوں کا پوسٹ مارٹم نہیں کرایا جس کی وجہ سے اج تک ہر واقعے کو خود کشی تصور کیا جاتا ہے جو علاقے کے لئے بد نامی کا باعث بنتا رہا ہے ضروری نہیں کہ ہر مرنے والا خود کشی ہی کر لیں کوئی اور واقع بھی ہوسکتا ہے حادثہ بھی ہوسکتا ہے اور اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے کہ قتل کا واقع بھی ہوسکتا ہے اور ماضی میں کئی کیسز کی صحیح انکوئری کرنے سے ثابت بھی ہوئی ہے کہ قتل کے واقعات ہوئی تھی اور ملزمان کو سزا بھی ہوگیا ،عوامی حلقوں نے اعلی عدلیہ چیف سکرٹری گلگت بلتستان اور انسانی حقوق کے تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس اہم مسئلے پر تواجہ دیں اور غذر میں ہونے والے تمام واقعات کی دوبارہ تحقیقات کرایا جائے تاکہ ائندہ ایسے واقعات کی روک تھام ہوسکے


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

گلگت بلتستان

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved