امام حسین کسی فرقے کا نہیں عالم اسلام کا میراث ہے، آغا راحمت
  23  اکتوبر‬‮  2017     |     گلگت بلتستان

گلگت ( ستار فاروق +محمد ذاکر ) حسین ؑ کسی فرقے کا نہیں عالم اسلام کا میراث ہے ، حسین ؑ ہدایت کے چراغ ہیں ، زبان کے ساتھ ساتھ کردار بھی حسینی ؑ ہو تو معاشرہ جنت بنے گا ، صرف نام حسین ؑ کا لینے سے کوئی حسینی نہیں بنتا تکفیر کو تکثیر میں بدل ڈالو معاشرہ پر امن بنے گا ۔ امن انسانیت کیلئے بڑا تحفہ ہے ، خطے میں پائیدار امن ، محبت ، بھائی چارگی کے فضاء کو بر قرار رکھنے کیلئے ایک دوسرے کے عقائد کا احترام کرنا ہوگا ۔ ان خیالات کا اظہار مقررین سٹی پارک گلگت میں یوم حسین ؑ یوم حسین ؑ کے حوالے سے منعقدہ پروگرام ’’ حسین ؑ سب کا ‘‘ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے امام جمعہ والجماعت گلگت قائد ملت جعفریہ گلگت بلتستان آغا سید راحت حسین الحسینی نے کہا کہ کربلا کے حوالے شیعہ سنی کتابوں میں یکساں تحریر ہیں ، حضور ﷺ نے واضح ہدایت کی ہے کہ قرآن اور اہل بیت ؑ کی اتباع کرو قرآن سے متمسق ہونے کا مقصد اسکے تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنا ہے ، امام حسین ؑ سے محبت اصل میں امام حسین ؑ کے کردار کو اپنانا ہے ، حسین ؑ نقطہ اجتماع ہے ، نقطہ اختراح نہیں ، آغا راحت حسین الحسینی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آئندہ بھی ایک دوسروں کے عقائد کا احترام کرتے ہوئے یوم حسین ؑ کے پروگرام کا انعقاد کیا جائیگا ۔ اس موقع پر اہلسنت کی نمائندگی کرتے ہوئے مسلم لیگ ن علماء مشائخ ونگ کے صوبائی صدر مولانا نادر اشرفی نے کہا کہ ایک فکر حسین ؑ ہے ایک مشن حسین ؑ ہے ، حسین ؑ نے نانا کے دین کو زندہ رکھنے کیلئے مدینہ کو چھوڑ دیا ۔ حسین ؑ کسی فرقے کا نہیں عالم اسلام کا میراٹ ہے ، دین فکر حسینی پر عمل پیرا ہوکر ہی زندہ ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم صرف نعرے لگا کر حسینی بننے کی کوشش کررہے ہیں جو ممکن نہیں اس کیلئے کردار حسینی کو اپنا نا ہوگا ۔ حسین نے دین کو زندہ رکھنے ، معاشرے سے فساد ختم کرنے کیلئے جان کا نذرانہ دیا ۔ بچوں کی قربانیاں پیش کیں تب جاکے دین ہم تک پہنچا ، آج حسین کا نام دنیا میں زندہ ہے لیکن یزید کا نام لینے والا کوئی نہیں ۔ یزید جبر اور ظلم کا استعارہ ہے جبکہ حسین ؑ صبر و رضا کا ۔ حسینی بننے کیلئے حسینی کردار کو اپنانا ہوگا ظلم اور جبر کے خلاف جہاد کرنا ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ حسین ؑ سے بغض رکھنے والا دائرہ اسلام سے خارج ہے ۔ اس موقع پر اسماریلی ریجنل کونسل کی نمائندگی کرتے ہوئے میر محفل معروف مذہبی اسکالر الواعظ عبدالکریم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ زبان کے ساتھ ساتھ دل میں بھی حسین ؑ ہوتا تو آج معاشرہ جنت بن جاتا کربلا کا واقعہ چودہ سو سال قبل گزر چکا ہے ، حسینیت اور یزیدیت نظریات کا نام ہے ۔ ہمیں حسین ؑ کو اپنے اندر ڈھونڈھنے ضرورت ہے ۔ امام حسین ؑ نے اللہ کی زمین سے فساد ظلم و جبر کا خاتمہ کرنے کیلئے مدینہ سے کربلا کا سفر کیا اور ظلم کے سامنے سر جھکانے سے سر کٹانے کو ترجیح دی ۔ حسین ؑ ایک کردار اور ایک عمل کا نام ہے انہوں نے کہا کہ معاشرے کو پر امن بنانے کیلئے تکفیر کو تکثیر میں بدل ڈالو معاشرے میں فساد برپا کرکے زندگی کو جہنم بنایا تو کس منہ سے جنت کے طلبگار ہو سکتے ہیں ۔ امن کا تحفہ انسانیت کیلئے سب سے بڑا تحفہ ہے ، ہمیں منافقت چھوڑنی ہوگی جو بات اپنوں میں کرتے ہیں وہ بات سٹیج پر کرنی ہوگی ۔ اپنوں میں جاتے ہیں تو الگ باتیں اور سٹیج پر الگ باتیں کرتے ہیں یہ منافقت ہے ، اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے شیخ عباس وزیری نے کہا کہ حسین ؑ تمام اچھائیوں کا محور ہے ، حسین ؑ جابر و ظالم کے سامنے دٹ جانے کانام ہے ، حسین ؑ کسی مکتب فکر کا نہیں حسین ؑ سب کا ہے ۔ لفظی حسین ؑ کہنا ہی کافی نہیں حسین ؑ کے کردار کو اپنانا ہی حسینیت ہے ۔ یزیدیت کا مقابلہ کرنے کیلئے قربانیاں دیتی پڑتی ہیں ۔ مقررین کے درمیان شعراء کرام عبداالخالق تاج ، نظیم دیا ، عبدالحفیظ شاکر ، غلام عباس نسیم ، محمد امین ضیاء ، جمشید خان دکھی ، عبداللہ ملنگ ، عزیز الرحمن ملنگی اور دیگر شعراء کرام نے اپنے خوبصورت کلام میں امام عالی مقام کے حضور تبریک پیش کئے ۔ پروگرام کا آغاز قاری علی رضا کے تلاوت کلام پاک سے شروع ہوا ۔ بہترین انتظامات اور سیکورٹی فراہم کرنے پر ڈی سی گلگت اور ایس ایس پی کا خصوصی شکریہ ادا کیا گیا ۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
100%


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

گلگت بلتستان

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved