گلگت بلتستان گورننس آرڈر 2009میں ٹیکس کے حوالے سے کوئی قانونی حیثیت
  11  ‬‮نومبر‬‮  2017     |     گلگت بلتستان

گلگت ( امر خان جونےئر شگری سے ) گلگت بلتستان گورننس آرڈر 2009میں ٹیکس کے حوالے سے کوئی قانونی حیثیت نہیں گلگت بلتستان میں لگنے والے تمام ٹیکس غیر قانونی ہے ،گلگت بلتستان وہ بد نصیب صوبہ ہے جسے نہ آئینی حقوق حاصل ہے اور نہ ہی ملک اسے باقاعدہ طور آئینی صوبہ تسلیم کرنے کو تیار ہے اس کے باوجود اس علاقے سے ٹیکس وصول کررہے ہیں گلگت بلتستان کو آئینی طور پر ملک کا پانچواں صوبہ تسلیم نہیں کرتی اس وقت تک ہم کسی بھی قسم کے ٹیکس لاگو ہونے نہیں دیں گے اور اس ظالمانہ فیصلے کے خلاف ہمارا احتجاج جاری رہے گا ۔ گلگت بلتستان کو الحاق پاکستان کے باوجود گزشتہ 67سالوں سے انسانی و آئینی حقوق سے محروم رکھا ہوا ہے قومی اسمبلی اور سینٹ میں اس خطے کی نمائندگی نہیں اس صورتحال میں مسلمہ اور طے شدہ آئینی اصول یہ ہے کہ جہاں آئینی حقوق نہیں ہوتے ان پر فرائیض بھی عائد نہیں ہوتے ہیں ان حیالات کا اظہار رکن صوبائی اسمبلی گلگت بلتستان عمران ندیم شگری نے اصاف سے حصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کو جب تک آئینی طور پر ملک کا مکمل صوبہ تسلیم نہیں کیا جاتا تب تک اس خطے میں کسی بھی قسم کے ٹیکسز کا نفاز نہیں ہوسکتا جس پرکچھ عرصہ تک عمل در آمد ہوتا رہا ہے جب تک گلگت بلتستان کو آئینی دائرے میں لاکر اختیارات براہ راست عوام تک منتقل نہیں کرتے اس وقت تک ان ٹیکسز کو ختم کیا جائے تاکہ حساس خطے کے عوام کو اس اضطراب اور مالی بحران سے نجات مل سکیں۔ انہوں نے مزید کہا ایف بی آر کو ملک کے چاروں صوبوں سے ٹیکس وصولی کا اختیار ہے کیونکہ ان چاروں صوبوں کو ان کا آئینی حقوق حاصل ہے لیکن گلگت بلتستان وہ بد نصیب صوبہ ہے جسے نہ آئینی حقوق حاصل ہے اور نہ ہی ملک اسے باقاعدہ طور آئینی صوبہ تسلیم کرنے کو تیار ہے اس کے باوجود اس علاقے سے ٹیکس وصول کررہے ہیں

وزارت امور کشمیر کی جانب سے ابھی تک ایف بی آر ایکٹ 2007کو گلگت بلتستان میں بھی لاگو کرنے کے حوالے سے کوئی تحریری حکم نامہ نہیں دیا گیا ہے گورنینس آرڈر 2009نہ تو قانون ہے اور نہ ہی آئین بلکہ یہ ایک ایگزیکٹیو آرڈر ہے اور دنیا میں کہیں بھی اس آرڈر کے تحت ٹیکس وصولی کی کوئی روایت نہیں ہے انہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستاان میں ایک ایسا ادارہ قائم کیا جائے جو خود مختار اور بااختیار ہو جوکہ گلگت بلتستان کے عوام کے معیار زندگی بہتر بنانے کے لئے ٹیکس کا نفاز کرسکتا ہے بدقسمتی سے ابھی تک ایسا کوئی ادارہ قائم نہیں ہوسکا پارلیمنٹ ہی بااختیار ادارہ ہے لیکن یہاں گلگت بلتستان کی نمائندگی نہیں ہے گلگت بلتستان گورنینس آرڈر 2009میں ٹیکس کے حوالے سے کوئی قانونی حیثیت نہیں گلگت بلتستان میں لگنے والے تمام ٹیکس غیر قانونی ہے لہذا ایسوسی ایشن عدالت عالیہ سے اپیل کرتی ہے کہ گلگت بلتستان سے ایف بی آر اور جی بی کونسل کے احکامات کالعدم قرار دیکر ان اداروں کوبند کر دیا جائے ۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

گلگت بلتستان

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved