نگر،ضلع نگر میں کاٹیج اور ہارٹیکلچر انڈسٹری کا ایک پائی کا کام حکومتی سطح پر ہو رہا ہے اور نہ ہی نجی سطح پر کام ہو رہا ہے
  7  دسمبر‬‮  2017     |     گلگت بلتستان

نگر ( اقبال راجوا) ضلع نگر میں کاٹیج اور ہارٹیکلچر انڈسٹری کا ایک پائی کا کام حکومتی سطح پر ہو رہا ہے اور نہ ہی نجی سطح پر کام ہو رہا ہے ۔ کسان اور چرواہوں کے پاس بھیڑ بکریوں کے اوون اوربال پڑے پڑے خراب ہو رہے ہیں ۔ گلگت بلتستان با لخصوص وادئی نگر کی یہ خصوصی صنعت زوال پذیر ہو نے جا رہی ہے ۔ کسانوں اور مال مویشی پالنے والے افراد حکومت اور این جی اوز سے مطالبہ کرتے نظر آرہے ہیں کہ ہماری قدیم اور روایتی صنعت کو قائم رکھنے کے لئے منصوبہ بندی کرے ۔ قدیم روایات کے اعتبار سے کھڑیاں بنا کر حلال جانوروں کی اوون اور بالوں سے

مختلف اشیاء بنائی جاتی تھیں جو جدید طور طریقوں کے سبب نا پید ہو گیا ہے ۔ اس صنعت سے کسی زمانے میں گلگت بلتستان کی عوام خصوصاًاوڑھنے بچھونے سمیت لباس اورپوشاک کے لئے اپنے ہاتھ کے بنائے ہوئے لباس استعمال کرتے تھے۔ جانوروں کے بالوں سے دیسی شرمے( قالین ) بنائے جاتے تھے جو سرد موسم میں سردی کے لئے بہترین مذاحمت کار سمجھے جاتے تھے ان تمام روایت پر پر عدم توجہی اور ریڈی میڈ مصنوعات کے سبب یہ انڈسٹری زوال پذیر ہو گئی ہے۔ محکمہء منصوبہ بندی کے حکام سے مطالبہ ہے کہ ہمیں اگر حلال مال مویشیوں کے اوون اور بالوں سے مصنوعات بنانے کے لئے منصوبہ بندی کے ساتھ تربیت دی جائے تو ہم اپنی روایات کے مطابق قالین بافی اور پہننے کے لئے ،موزے،دستانے،بنیان،چغے اور ٹوپیاں بنا کر ہمارے ضایع ہونے والے اوون اور جانوروں کے بالوں کے استعمال سے اپنی روزگار میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ محکمہء پلاننگ اینڈ ڈیویلوپمنٹ والے کب ان کسانوں اور چرواہوں سے رابطہ کریں گے اور ان کے مطالبات پر غور کرتے ہوئے ان کے لئے کوئی منصوبہ بنائیں گے


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

گلگت بلتستان

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved