گلگت،متاثرین سانحہ اتحاد چوک حکومتی امداد سے محروم، جرگہ ممبران نے بھی منہ موڑ لیا
  12  جنوری‬‮  2018     |     گلگت بلتستان

گلگت ( نامہ نگار خصوصی ) سانحہ اتحاد چوک گلگت کے متاثرین تاحال حکومتی امداد سے محروم جرگہ کے ممبران نے منہ پھیرلیا ، متاثرین در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ، وزیر اعلیٰ کو داد رسی کیلئے درخواستیں دے دے کر تھک گئے ہیں کہیں سے کوئی شنوائی نہیں ہو رہی ہے ۔ صلح کے وقت ڈپٹی سپیکر جعفر اللہ خان ، حاجی وکیل ( مرحوم ) ، ڈاکٹر عثمان ، مولانا سلطان رئیس ، مولانا عطاء اللہ ثاقب ، حمایت اللہ اور دیگر نے وزیر اعلیٰ کی طرف سے پوری ذمہ داری لی تھی ۔ بلتستان کے متاثرین کو اس وقت ہی دس دس لاکھ روپے دئیے گئے تھے ہمیں انصاف دیا جائے ۔

سانحہ اتحاد چوک تین اپریل 2012کے متاثرین فریاد لیکر اوصاف آفس پہنچ گئے ۔ تین اپریل 2012کو گلگت اتحاد چوک میں بم دھماکے میں زخمی ہونے والے متاثرین شیراز عالم ، حق نواز ، اختر محمود ، قاری حفیظ ، نعیم، ، شہبازایوب ، نصیر ، ذکریا ، آصف شریف ، اجمل خان ، شاہد ، قاری عبدالواحد ، معراج ، مشتاق ، طارق حسین اور دیگر نے اوصاف سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کی طرف سے جرگہ کے ممبران نے پوری ذمہ داری کے ساتھ فریقین کے مابین صلح کرائی تھی ۔ مہدی شاہ نے سانحہ میں شہید ہونے والوں میں دس دس لاکھ اور زخمیوں کو پانچ پانچ لاکھ دینے کا اعلان کیا تھا بلتستان کے زخمیوں اور شہداء کے لواحقے نکو اس وقت ہی پوری رقم کی ادائیگی کی گئی تھی جبکہ ہمیں ایک لاکھ روپے دیکر ٹرخایا یا ہے ۔ ان متاثرین نے وزیر اعلیٰ سے اپیل کی ہے کہ از راہ انسانی ہمدردی ہماری مدد کریں اور جرگہ داران کے وعدے کے مطابق ہمارے شہداء اور زخمیوں کو پوری رقم ادا کی جائے


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

گلگت بلتستان

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved