نگر،ضلع نگر میں اساتذہ او ر طلباء دونوں قابل ہونے کے باوجود تعلیمی پسماندگی ہے
  13  فروری‬‮  2018     |     گلگت بلتستان

نگر ( اقبال راجوا) ضلع نگر میں اساتذہ او ر طلباء دونوں قابل ہونے کے باوجود تعلیمی پسماندگی ہے جو کسی بھی طرح نگر کے لئے بہتر شناخت کا سبب نہیں ، اساتذہ کو پ گھر سے درس و تدریس کی مکمل تیاری کر کے آ کر طلباء کو سمجھا نے کے لئے تدریس کرانا ہوگی ۔ ڈپٹی کمشنر نگر نوید احمد کا بوائز ہائی سکول چھلت کے اچانک دورے کے دوران اساتذہ اور ہیڈ ماسٹر سے گفتگو ، تفصیلات کے مطابق ڈپٹی لکمشنر نگر نوید احمد ،اے سی ایل آر مرتظیٰ اور سٹی مجسٹریٹ نثار احمد کے ہمراہ نگر کا قدیم ترین بوائز ہائی سکول چھلت کے اچانک دورے پر سکول پہنچ گئے، ڈی سی نگر باری باری مختلف کلاس رومز میں گئے او ر اساتذہ کے طریقہ تدریس کا مشاہدہ کیا۔ سکول کے جماعت نہم و دہم کے کلاس روم میں اساتذہ کا طریقہ تدریس اور طلباء سے ہلکے پھلکے سوالات کے بعد ،مدرس شبیر حسین اور ناسر عباس کو شاباش دی۔ سکول کے ہیڈ ماسٹر کے دفتر میں بہتر تدریس سے متعلق بات چیت کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نگر نے کہا کہ بوائز ہائی سکول چھلت کانتیجہ اس سال پورے بورڑ لیول پر سب سے پہلے پوزیشن پر ہونا چاہیئے اس کے لئے ابھی سے اساتذہ اور ہیڈ ماسٹر کو محنت کرنا ہوگا ۔ انہوں نے ہیڈ ماسٹر حیدر خان سے اس بات پر زور د دیا کہ اساتذہ کی تدریسی فرائض کی کڑی نگرانی کی جائے اور روزانہ کی بنیاد پر طلباء سے پچھلے دن کے ٹا پک کا ٹیسٹ ضرور لیا جائے۔ انہوں نے ہیڈ ماسٹر سے وعدہ کیا کہ اچھے اساتذہ کی حوصلہ افزائی کے لئے میں چیف سیکریٹری گلگت بلتستان کو تمام سفارشات تحریری طور پر بھیج دوں گا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اساتذہ کو یہ احساس ہونا چاہیئے کہ سکول کا سربراہ ان کی کار کردگی کی نگرانی کر رہا ہے

اور طلبہ کو معلوم ہونا چاہیئے کہ ان کی تعلیمی اور اخلاقی تربیت کی نگرانی پورے زمہ داری اور اخلاص سے اساتذہ ادا کر رہے ہیں پھر سکول میں تعلیمی معیار پیدا ہوگا ۔ ڈی سی نگر نے ہیڈ ماسٹر کو بتایا کہ طلباء کو پڑھائی رٹہ کے بجائے سمجھانے پر انحصار کیا جائے ۔ کونسپٹ مییکنگconceptual teaching) (طریقہ تدریس اپنایا جائے ۔ اساتذہ بچوں کو سمجھانے کے لئے گھر میں پوری تیاری کر کے آئیں ۔ جو اساتذہ اپنی فرائض کی کوتاہی میں غفلت و لاپر واہی برتیں ان کو اٹھا کر بلتستان کے کسی دور دراز سکول میں بھیج دیا جائے گا۔ ہیڈ ماسٹر اساتذہ کی فرائض کی نگرانی کرے اور کوتاہی کرنے والے اساتذہ کے خلاف کاراوئی کریں۔ میں سکول آکر مختلف کلاس کے طلبہ سے سرپرائز ٹیسٹ لوں گا سر پرائز ٹیسٹ میں ناکامی پر سزا دے کر اساتذہ کو سکول میں رہنے نہیں دیا جائے گا۔ انہوں بتایا کہ میں ایک کسان کا بیٹا ہوں میں نے ۹ ماہ تک لکچرر کی حیثیت سے تدریس سے لطف اندوز ہوا معلم ایک مقدس پیشہ ہے ۔ہم محنت کریں اور زات خدا پر یقین رکیں تو ضرور کامیابی نصیب ہوتی ہے


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

گلگت بلتستان

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved