تازہ ترین  
جمعہ‬‮   19   اکتوبر‬‮   2018

سٹیٹ بنک کی قراقرم بنک کوشیڈول کرنے کیلئے کنٹی جنٹ ملازمین فارغ کرنیکی شرط


گلگت ( وقائع نگار خصوصی ) قراقرم کو آپریٹیو بینک کو شیڈول بینکوں میں شامل کرنے کیلئے اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ضرورت سے زائد کنٹیجنٹ ملازمین کو ملازمت سے فارغ کرنیکی شرط عائد کر دی ، گلگت بلتستان قراقرم کو آپریٹیو بینک سے 118کنٹیجنٹ ملازمین کو گھر بھیجنے کیلئے تیاریاں مکمل ، کنٹیجنٹ ملازمین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی

اور گلگت پریس کلب کے باہر احتجاجی دھرنا دیکر چیف سیکریٹری گلگت بلتستان سے مطالبہ کیا ہے کہ قراقرم بینک کے کنٹیجنٹ ملازمین کئی سالوں سے خدمات ر انجام دے رہے ہیں اگر ملازمین کو مستقل کرنے کے بجائے ملازمت سے فارغ کرنے کی کوشش کی گئی تو بچوں سمیت خود کشی کرنے پر مجبور ہونگے جسکی تمام تر ذمہ داری قراقرم بینک کے ذمہ داران پر عائد ہوگی ۔ باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ قراقرم بینک کو شیڈول بینکوں میں شامل کرنے کیلئے حکومت نے اسٹھٹ بینک آف پاکستان کو سفارش کی تھی ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے نمائندے نے گلگت بلتستان قراقرم کو آپریٹیو بینک کا تفصیلی دور کیا اور اسلام آباد میں چیف سیکریٹری بابر حیات تارڑ جو قراقرم بینک کے چیئرمین بھی ہیں سے ملاقات میں سفارش کی ہے کہ قراقرم بینک میں سٹاف ضرورت سے زیادہ ہیں ، بینک کو شیڈول بینکوں میں ضم کرنے کیلئے ضرورت سے زیادہ تمام کنٹیجنٹ ملازمین کو ملازمت سے ہی فارغ کرنا ہوگا اور 118کنٹیجنٹ ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور تیاریاں مکمل کی گئی ہیں ۔ ذرائع نے اوصاف کو بتاے اہے کہ قراقرم بینک کو شیڈول بینک

میں شامل کرنے کیلئے ضرورت سے زیادہ سٹاف کو ملازمت سے فارغ کرنے کی خبر سن کر قراقرم بینک میں کئی سالوں سے خدمات سر انجام دینے والے کنٹیجنٹ ملازمین گلگت پریس کلب پہنچ گئے اور احتجاجی دھرنا دیکر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا ۔ متاثرہ ملازمین کا کہنا ہیکہ چیف سیکریٹری گلگت بلتستان اور جی ایم قراقرم بینک نے عارضی ملازمین کو مستقل کرنے کی یقین دہانی کرا دی مگر اب سننے میں آرہا ہے کہ قراقرم بینک کو شیڈول بینکوں میں شامل کرنے کیلئے قراقرم بینک میں موجود 118کنٹیجنٹ ملازمین کو گھر بھیجنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں اگر غریب ملازمین کو ملازمت سے فارغ کرنے کی کوشش بھی کی گئی تو بینک کے تمام شاخوں کو تلے لگا کر گلگت بلتستان سطح پر احتجاج کرنے پر مجبور ہونگے اور بوں سمیت خود کشیاں کرنے پر مجبور ہونگے اور تمام تر حالات کی زمہ داری متعلقہ ذمہ دار اور ایف آئی آر بھی درج کرائیں گے ۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved