تازہ ترین  
پیر‬‮   21   جنوری‬‮   2019

(وزیراعلیٰ کی ملاقات)کوشش کرینگے فنڈزکی وجہ سے منصوبے متاثرنہ ہوں(اسدعمر)


اسلام آباد (اوصاف نیوز )وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن کی وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر سے ملاقات،گلگت بلتستان کے میگا منصوبوں اور توانائی کے منصوبوں کے حوالے سے تبادلہ خیال،وزیر اعلی گلگت بلتستان نے وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کو گلگت بلتستان کے میگا منصوبوں اور بجلی کے منصوبوں کی اہمیت اور ان کی تکمیل میں حائل رکاوٹوں کے حوالے سے آگاہ کیا،وزیر اعلی گلگت بلتستان نے کہا کہ گلگت بلتستان میں اب سیاحوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے سیاحت کے شعبے کو مزید ترقی سے ہمکنار کرنے کے لئے سب سے بڑی رکاوٹ بجلی کی پیداوار میں کمی ہے ،گلگت بلتستان چونکہ نیشنل گرڈ سے منسلک نہیں ہے اور نہ ہی ریجنل گرڈ ہے ایسے میں ایک یونٹ بھی وفاق سے نہ تو گلگت بلتستان لے رہا ہے اور نہ ہی گلگت بلتستان کے ایک ضلع سے دوسرے ضلع میں سرپلس بجلی دے سکتے ہیں اس لئے سب سے زیادہ اہمیت ریجنل گرڈ کی ہے گلگت بلتستان سو فیصد بجلی اپنی اے ڈی پی سے بنا رہا ہے اس حوالے سے ریجنل گرڈ پی ایس ڈی پی میں شامل ہے اسے ایکنک سے منظوری دلائی جائے، 23.6میگاواٹ عطا آباد منصوبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ ہنزہ میں سیاحوں کی زیادہ تعدادجا رہی ہے لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے نہ صرف سیاحت متاثر ہو رہی ہے بلکہ عوام کے بھی مشکلات ہیں اس منصوبے کی بھی ایکنک سے منظوری دی جائے ،اس کے علاوہ شغر تھنگ26 میگاواٹ کا منصوبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اس منصوبے کی تکمیل نہ ہونے کی وجہ سے سکردو میں سیاحت کا شعبے میں رکاوٹ کے ساتھ ساتھ بجلی کی کمی کی وجہ سے عوام مشکلات میں ہیں اس کی فارن فنڈنگ کے لئے ایگزین بنک چائنا نے آمادگی کا اظہار کیا ہے اس کے لئے گارنٹی وفاقی حکومت نے دینی ہے ااس حوالے سے وفاقی حکومت کردار ادا کرے30میگاواٹ غواڑی اور دیگر توانائی کے منصوبے گلگت بلتستان کے عوام اور ترقی کے لئے ضروری ہیں ان منصوبوں کی تکمیل کے لئے وفاقی حکومت ڈونر کانفرنس کا اہتمام کرے اس کے علاوہ گلگت بلتستان میں چھوٹے پن بجلی کے منصوبوں سے توانائی کے شعبے میں انقلاب آسکتا ہے جس کی فنڈنگ کے لئے کے ایف ڈبلیو نے آمادگی کا اظہار کیا ہے اس کی گارنٹی وفاقی حکومت نے دینی ہے اس کے لئے کرداد ادا کریں،وزیر اعلی نے اس موقعہ پر گلگت چترال چکدرہ شاہراہ کے حوالے سے بھی وزیر خزانہ کو آگاہ کیا اس کے علاوہ کارگاہ روڈ جس نے گلگت کو داریل تانگیر کو لنک کرنا ہے کی سیاحتی اور سیکورٹی حوالوں سے اہمیت سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ بہت ضروری ہے ، وزیر اعلی نے گلگت بلتستان کے لئے سالانہ ترقیاتی بجٹ سے دو ارب روپے کٹوتی کے حوالے سے بھی وزیر خزانہ سے کہا کہ گلگت بلتستان اسمبلی نے پہلے ہی بجٹ منظور کیا ہے اس کے بعد دو ارب کی کٹوتی سے گلگت بلتستان میں ترقی کا عمل متاثر ہوا ہے،وزیر اعلی نے گلگت بلتستان میں سمارٹ میٹر اور سمارٹ کیبل منصوبے کے حوالے سے بھی آگاہ کیا جس پر وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ ہم گلگت بلتستان حکومت کو سمارٹ میٹر اور سمارٹ کیبل جیسا قابل تعریف اور اچھے منصوبے کے آغاز پر مبارک باد پیش کرتے ہیں کہ اتنا اچھا اور قابل تقلید منصوبہ گلگت بلتستان حکومت نے شروع کیا ہے اس منصوبے کے لئے فنڈنگ کے لئے وفاقی حکومت اگلی پی ایس ڈی پی میں انتظام کریگی اس کے علاوہ گلگت بلتستان کے تمام منصوبوں کی فنڈنگ کے لئے اگلے ایکنک کے اجلاس میں بات کی جائے گی اور ہماری ہر ممکن کوشش ہوگی کہ گلگت بلتستان کے اہم منصوبے فنڈ نہ ہونے کی وجہ سے متاثر نہ ہوں ۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں




     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved